ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ریلائنس جیو کی عرضی پر ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت اور مرکز کو جاری کیا نوٹس

آر جے آئی ایل نے اپنی عرضی میں کمپنی کے انفراسٹرکچر میں توڑ پھوڑ اور اس کے ملازمین کو دھمکانے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے حکومت سے 8 فروری تک جواب داخل کرنے کیلئے کہا ہے ، جس دن اس کیس کی اگلی سماعت ہوگی ۔

  • Share this:
ریلائنس جیو کی عرضی پر ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت اور مرکز کو جاری کیا نوٹس
توڑپھوڑ کے خلاف ریلائنس کی عرضی پر سماعت، ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت اور مرکز کو جاری کیا نوٹس

ریلائنس انڈسٹریز کی سبسڈیری کمپنی ریلائنس جیو انفوکام لمیٹیڈ کی عرضی پر پنجاب و ہریانہ ہائی کورٹ نے پنجاب حکومت اور مرکزی وزارت داخلہ کو نوٹس جاری کیا ہے ۔ آر جے آئی ایل نے اپنی عرضی میں کمپنی کے انفراسٹرکچر میں توڑ پھوڑ اور اس کے ملازمین کو دھمکانے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ ہائی کورٹ نے حکومت سے 8 فروری تک جواب داخل کرنے کیلئے کہا ہے ، جس دن اس کیس کی اگلی سماعت ہوگی ۔


آر جے آئی ایل نے پیر کو کسانوں کے آندولن کے نام پر ذاتی مفاد پرستوں اور کاروباری حریفوں کے ذریعہ توڑپھوڑ کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا تھا ، جس میں موبائل ٹاوروں کو نقصان پہنچانے اور جیو سینٹروں کو زبردستی بند کئے جانے کی بات کہی گئی تھی ۔ کمپنی نے عرضی میں پنجاب سرکار کے چیف سکریٹری ، مرکزی وزارت داخلہ اور ٹیلی کام محکمہ رپسپونڈنٹ بنایا ہے ۔


منگل کو ہوئی سماعت کے دوران پنجاب کے ایڈووکیٹ جنرل اتل نندا نے عدالت کو بتایا کہ ریاستی حکومت نے جیو موبائل ٹاوروں کو نقصان کا اندازہ لگانے اور ان کے تحفظ کیلئے 1019 گشتی ٹیموں اور 22 نوڈل افسران کو تعینات کیا ہے ۔ سالیسٹر جنرل آف انڈیا ستیہ پال جین نے عدالت میں مرکزی حکومت کی نمائندگی کی ۔


خیال رہے کہ مرکزی حکومت کے تین زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کے دوران پنجاب میں 1500 سے زیادہ موبائل ٹاوروں کو نقصان پہنچایا گیا ہے ۔ عرضی میں کہا گیا ہے کہ ذاتی مفاد پرستوں کے ذریعہ چلائی جارہی غلط تشہیری مہم کی وجہ سے شرپسندوں کے ذریعہ عرضی گزار کا کاروبار اور اس کی املاک کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔

عرضی کے مطابق عرضی گزار اور اس کی اصل کمپنی ریلائنس انڈسٹریز کے تئیں کچھ لوگ ایسی غلط افواہ پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں کہ عرضی گزار اور اس کے ساتھیوں کو حال ہی میں پارلیمنٹ کے ذریعہ پاس ہوئے زرعی قوانین سے فائدہ ہوگا ۔

اسی کے ساتھ ہی مرکزی حکومت کے ذریعہ پاس تین زرعی قوانین سے فائدہ پہنچنے کی افواہوں کو خارج کرتے ہوئے ریلائنس نے پیر کو کہا کہ اس کا کنٹریکٹ یا کارپوریٹ فارمنگ کاروبار میں داخل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں ہے اور اس نے کبھی بھی کارپوریٹ کھیتی یا کنٹریکٹ کھیتی کیلئے زرعی زمین نہیں خریدی ہے اور مستقبل میں بھی ایسا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے ۔

(ڈسکلیمر: نیوز 18 اردو ڈاٹ کام ریلائنس انڈسٹریز کی کمپنی نیٹ ورک 18 میڈیا اینڈ انویسٹمنٹ لمیٹڈ کا حصہ ہے۔ نیٹ ورک 18 میڈیا اینڈ انویسٹمنٹ لمیٹڈ ریلائنس انڈسٹریز کی ملکیت ہے۔)
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jan 05, 2021 02:48 PM IST