உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مہاراشٹر سیلاب زدگان کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے جنگی پیمانے پر ریلیف کا کام جاری

    مہاراشٹر سیلاب زدگان کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے جنگی پیمانے پر ریلیف کا کام جاری

    مہاراشٹر سیلاب زدگان کے لئے جمعیۃ علماء ہند کی طرف سے جنگی پیمانے پر ریلیف کا کام جاری

    جمعیۃ علماء کی طرف سے ڈاکٹروں کی تین ٹیمیں مختلف مقامات کے لئے الگ الگ تشکیل دی گئی ہیں۔ یہ ساری ٹیمیں پانچ رکنی ہیں اور بنیادی ضرورتوں کی دوائیں بھی ان کو مہیا کرائی گئی ہے۔

    • Share this:
    نئی دہلی: مہاراشٹرمیں مسلسل طوفانی بارش سے سیلاب کی تباہ کاری بھیانک شکل اختیارکرگئی ہے۔ لاتعداد جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔ گاؤں کے گاؤں بستی کی بستی پانی میں ڈوب چکی ہے، مکانوں کے ساتھ ساتھ دیگر املاک خاص طورپر فصلوں کو سیلاب کا پانی نگل چکا ہے۔ رتنا گیری اور رائے گڑھ کے علاوہ مہاڈ، چپلون اور اس کے مضافاتی علاقے بھی بری طرح متاثر ہیں۔ ان تمام متاثرہ علاقوں میں جمعیۃ علماء مہاراشٹرکی جانب سے ریلیف کا کام جنگی پیمانہ پر جاری ہے۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے تعاون سے گیارہ بستیوں، لاڈولی، برواڈیہہ، برواڈیہہ واڑی، ساتھری گیتا، کس گاؤں، سواد، وادے، کاملا، ادلے گاؤں اور مہاڈ شہرکے محلوں، پانساری محلہ، دیشمکھ محلہ، کناتاری محلہ، کارکھنڈ، کاکرتلہ، کوٹ علی، سریکر علی، کاجل پورہ، دنگر، سالی واڑہ ناکا، نوانگر، ویلکم علی کے علاوہ دوسرے علاقوں میں بھی بلاتفریق مذہب وملت تمام متاثرین کو ریلیف پہنچائی جا رہی ہے۔ سیلاب متاثرہ علاقوں میں طرح طرح کی بیماریاں بھی پھوٹ پڑی ہیں۔

    ڈاکٹروں اور مکینکوں کی ٹیمیں دی گئی ہیں تشکیل

    جمعیۃ علماء کی طرف سے ڈاکٹروں کی تین ٹیمیں مختلف مقامات کے لئے الگ الگ تشکیل دی گئی ہیں۔ یہ ساری ٹیمیں پانچ رکنی ہیں اور بنیادی ضرورتوں کی دوائیں بھی ان کو مہیا کرائی گئی ہے۔ پہلی ٹیم کی قیادت ڈاکٹر شیخ فیضان زاہد، دوسری ٹیم کی قیادت ڈاکٹر جلیل احمد، تیسری ٹیم کی قیادت ڈاکٹر ثناء اللہ کر رہے ہیں۔ اس طرح کل15 ڈاکٹر ہیں، جو لوگوں کو طبی امداد پہنچا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی پانی میں غرق ہونے کی وجہ سے آٹو رکشا اور موٹر گاڑیاں ناقابل استعمال ہو گئی ہیں۔ چنانچہ ان کی مرمت اور قابل استعمال بنانے کے لئے موٹر میکینوں کا مع سامان 15 نفری وفد صوفی مشتاق احمد دھولیہ کی سربراہی میں مہاڈ علاقہ میں پہنچ چکا ہے۔ جمعیۃعلماء ہند کے ذمہ داران اور رضاکار شب و روز متاثرہ علاقوں میں ریلیف وامدادکے کاموں میں مصروف ہیں، جہاں جس چیز کی ضرورت ہے، وہ انھیں پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

    مہاراشٹرمیں مسلسل طوفانی بارش سے سیلاب کی تباہ کاری بھیانک شکل اختیارکرگئی ہے۔ لاتعداد جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔
    مہاراشٹرمیں مسلسل طوفانی بارش سے سیلاب کی تباہ کاری بھیانک شکل اختیارکرگئی ہے۔ لاتعداد جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں۔


    کیرالہ سے زیادہ سے کہیں زیادہ تباہ کن ہے موجودہ سیلاب

    مہاراشٹر میں سیلاب سے آئی زبردست تباہی پر اپنے رنج و غم کا اظہارکرتے ہوئے صدر جمعیۃعلماء ہند مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مسلسل بارش کی وجہ سے اس مرتبہ مہاراشٹر کے بعض علاقوں میں جو سیلاب آیا ہے، وہ انتہائی تباہ کن ہے۔ مصیبت کی اس گھڑی میں ہم سیلاب زدگان کے ساتھ ہیں اوریہ یقین دلاتے ہیں کہ جمعیۃ علماء ہند متاثرین کی ہر سطح پر مددکرے گی، نیز انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ چند برس قبل کیرالہ میں بھی ایک بھیانک سیلاب آیا تھا، لیکن مہاراشٹر اور بطور خاص کوکن کے علاقہ میں یہ جو سیلاب آیا ہے، وہ ان سے کہیں زیادہ تباہ کن ہے۔ لوگوں کے مکان اور دیگر املاک تباہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ ایک بڑی آبادی سیلاب میں پھنسی ہوئی ہے۔ بیشتر لوگوں کے پاس کھانے پینے کو کچھ نہیں بچا ہے۔ جمعیۃعلماء مہاراشٹر، جمعیۃ علماء ہندکے مقامی ذمہ داروں اور رضاکاروں کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں امداد اور ریلیف کا کام بڑے پیمانے پرکر رہی ہے۔ چونکہ حکومت اور لوگ اس وقت امدادپر لگے ہوئے ہیں، اس لئے اب آنے والے دنوں میں اس بات کی ضرورت ہے کہ جن لوگوں کے مکانات تباہ ہوچکے ہیں، ان کی باز آبادکاری کی فکرکی جائے کیونکہ یہ لوگ اپنا تمام اثاثہ سیلاب میں کھو چکے ہیں۔ مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند ریلیف کے ساتھ ساتھ متاثرہ علاقوں میں سروے کراکر مذہب سے اوپر اٹھ کر صرف انسانیت کی بنیاد پر بازآباکاری کا بھی کام کرے گی انشاء اللہ اور ریلیف کو آخری ضرورت مند تک پہنچانے کی حتی الامکان کوشش کرے گی۔ خدا کی ذات سے توقع ہے کہ وہ ہمیشہ کی طرح اس وقت بھی اس خدمت کو انجام تک پہنچانے میں مدد کرے گا۔

    گاؤں کے گاؤں بستی کی بستی پانی میں ڈوب چکی ہے، مکانوں کے ساتھ ساتھ دیگر املاک خاص طورپر فصلوں کو سیلاب کا پانی نگل چکا ہے۔ رتنا گیری اور رائے گڑھ کے علاوہ مہاڈ، چپلون اور اس کے مضافاتی علاقے بھی بری طرح متاثر ہیں۔
    گاؤں کے گاؤں بستی کی بستی پانی میں ڈوب چکی ہے، مکانوں کے ساتھ ساتھ دیگر املاک خاص طورپر فصلوں کو سیلاب کا پانی نگل چکا ہے۔ رتنا گیری اور رائے گڑھ کے علاوہ مہاڈ، چپلون اور اس کے مضافاتی علاقے بھی بری طرح متاثر ہیں۔


    بازآبادکاری کا کام مذہب سے اوپر اٹھ کر کیاجائے

    مولانا سید ارشد مدنی نے جمعیۃ علما ہند کے تمام ذمہ داران و کارکنان کو ہدایت دی کہ امداد و بازآباد کاری کا کام مذہب سے اوپر اٹھ کرکیا جائے۔ ہندو ہو یا عیسائی یا مسلمان تمام لوگوں کے لیے انسانی ہمدردی کے جذبے سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے ایک بار پھرکہا کہ جمعیۃ علما ہند اس طرح کے رفاہی اور امدادی کاموں میں مذہب کی بنیاد پرکوئی تفریق نہیں کرتی اور مصیبت کی گھڑی میں وہ تمام ہندوستانیوں کے ساتھ کا ندھے سے کا ندھا ملاکر کھڑی رہتی ہے۔ جمعیۃ علما ہند ایک غیر سیاسی دینی جماعت ہے اور انسانی خدمت اس کا ابتدا سے طرہ امتیاز رہا ہے۔ ہمارے اکابرین نے جو اصول و اہداف مقرر کئے ہیں، جمعیۃ علما ہند ان پر بدستور عمل پیرا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: