اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ممبئی: لاک ڈاؤن کے سبب مذہبی مقامات مالی تنگی کا شکار، ائمہ وموذنین کی تنخواہ ادا کرنا بھی دشوار

    ممبئی: لاک ڈاؤن کے سبب مذہبی مقامات مالی تنگی کا شکار

    ممبئی: لاک ڈاؤن کے سبب مذہبی مقامات مالی تنگی کا شکار

    کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے سب صنعت و تجارت کے شعبے ہی نہیں بلکہ مذہبی مقامات بھی مالی بحران کا شکار ہوگئے ہیں۔ سماجی فاصلے کی پاسداری کیلئے مذہبی مقامات کو بند کرنے کے فیصلے کے سبب مساجد اور مندر اور درگاہوں کے ٹرسٹ کو مالی بحران کا سامنا ہے۔

    • Share this:
    ممبئی: کورونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے سب صنعت و تجارت کے شعبے ہی نہیں بلکہ مذہبی مقامات بھی مالی بحران کا شکار ہوگئے ہیں۔ سماجی فاصلے کی پاسداری کیلئے مذہبی مقامات کو بند کرنے کے فیصلے کے سبب مساجد اور مندر اور درگاہوں کے ٹرسٹ کو مالی بحران کا سامنا ہے۔ مسلسل مذہبی مقامات پر پابندی سے سدھی ونائک مندر کے باہر پھول فروشی، پرساد نیاز اور دیگر مذہبی چیزیں فروخت کرنے والوں پر اب فاقہ کشی کی نوبت آچکی ہے۔ اسی طرح سے مساجد کے مسلسل بند ہونے کی وجہ سے مساجد کے امام و خطیب موذن اور یہاں کے عملہ کی تنخواہ بمشکل ہی ادا کی جارہی ہے، قلیل تنخواہ کے باوجود اس میں نصف تنخواہ ہی ادا کی جارہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کئی ائمہ کو تولاک ڈاؤن کے دوران تنخواہ تک نہیں دی گئی ہے، ایسے میں وہ اپنے کنبہ اور اہل خانہ کا گزر بسر تک نہیں کر پا رہے ہیں، ان پر بھی معاشی بحران لاک ڈاؤن کے ایک ماہ کے بعد سے ہی آگیا تھا۔

    ماہم اور حاجی علی درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نے نیوز18 کو بتایا کہ لاک ڈاؤن کے سبب معاشی کا سامنا درگاہوں کو بھی کرنا پڑرہا ہے۔ درگاہوں کے اخراجات بھی پورا کرنا اب محال ہوگیا ہے کیونکہ درگاہوں پر مسلسل کوئی سرمایہ نہیں آتا، جو بھی نظام ہے وہ چندہ اور عطیات پر ہی منحصر ہے، ایسے میں درگاہوں کے اخراجات بجلی بل سمیت دیگر چیزیں درگاہ انتظامیہ کے ہی ذمے ہوتی ہے اور یہی اخراجات کو درگاہ انتظامیہ پورا کرتی ہے۔ لاک ڈاؤن سے لے کر اب تک درگاہیں بند ہیں۔ معتقدین کے داخلہ پر پابندی عائد کر دی گئی ہے تو ایسی صورتحال میں اب درگاہوں سے امداد، اسکالرشپ، تعلیمی وظائف اور عملہ کو تنخواہیں ادا کرنا مشکل ہوگیا ہے کیونکہ درگاہ کے امداد و عطیات باکس میں کوئی امداد نہیں ڈال رہا ہے اور کوئی کیسے درگاہ میں امداد دے گا کیونکہ درگاہ پوری طرح سے بند ہے، لیکن اخراجات اور عملہ کی تنخواہیں اور دیگر خرچ بند نہیں ہے اس کی ادائیگی ہو رہی ہے۔

    مساجد کے مسلسل بند ہونے کی وجہ سے مساجد کے امام و خطیب موذن اور یہاں کے عملہ کی تنخواہ بمشکل ہی ادا کی جارہی ہے، قلیل تنخواہ کے باوجود اس میں نصف تنخواہ ہی ادا کی جارہی ہے۔ فائل فوٹو
    مساجد کے مسلسل بند ہونے کی وجہ سے مساجد کے امام و خطیب موذن اور یہاں کے عملہ کی تنخواہ بمشکل ہی ادا کی جارہی ہے، قلیل تنخواہ کے باوجود اس میں نصف تنخواہ ہی ادا کی جارہی ہے۔ فائل فوٹو


    انہوں نے کہا کہ شادی میت اور دیگر تمام چیزوں کو رعایت دی گئی ہے، لیکن خانقاہوں کو رعایت نہیں دی گئی۔ یہاں بھی 50 معتقدین کی ایک وقت میں حاضری کی اجازت دی جانی چاہئے، اسی طرح سے نماز جمعہ کیلئے بھی مساجد میں 50 نمازیوں کی اجازت ہونی چاہئے۔ ریاست بھر میں کورونا کے سبب مذہبی مقامات پر مالی بحران کا اثر صاف نظر آ رہا ہے۔ مذہبی مقامات سے جو امداد غریبوں مسکینوں اور ضرورتمندوں کو دی جاتی ہے وہ منقطع ہوچکی ہے اور اگرکی بھی جارہی ہے تو وہ بہت چھوٹے پیمانے پر ہو رہی ہے۔ اسی طرح سدھی ونائک پر بھی معاشی بحران صاف نظر آرہا ہے، یہاں پرساد سمیت پھول فروشوں کی دکانوں سے ایک ہزار کنبہ کا پیٹ بھرتا تھا، لیکن اب یہ ایک ہزار کنبہ پر اب فاقہ کشی کی نوبت آگئی ہے۔ اس لئے منادر نے بھی سرکار سے مدد اور تعاون کا مطالبہ شروع کردیا ہے۔

    ممبئی کے معروف عالمِ دین حضرت مولانا معین الدین اشرف نے بتایا کہ جب سے ملک میں لاک ڈاؤن نافذ ہوا ہے، اس وقت سے ہی مساجد و مذہبی مقامات معاشی تنگی کا شکار ہو گئے ہیں۔ یہاں آنے والے عطیات امداد و چندہ جمع نہ ہونے کی وجہ سے مساجد کے اخراجات برداشت کرنا بھی اب مشکل ہوگیا ہے۔ ساتھ ہی مساجد کے عملہ امام، موذن دیگر کو تنخواہ فراہم کرنا بھی انتظامیہ کیلئے مشکل ہے۔ کیونکہ کئی مساجد ایسی ہیں جو صرف عطیات پر ہی منحصر ہیں۔ ایسے مساجد کے اماموں اور موذنین سمیت عملہ کی معاشی حالت ڈگر گوں ہوگئی ہے، ایسے میں کئی مساجد میں تو ائمہ، خادم اور موذن کو تنخواہیں دی جارہی ہیں، لیکن کئی مساجد میں نصف تنخواہ اور کئی میں تنخواہ سے عملہ محروم ہے۔ ایسے میں سرکار کو اس جانب توجہ دے کر مدد کا ہاتھ بڑھانا چاہئے اور مذہبی مقامات کی مالی اعانت کے ساتھ غریبوں مسکینوں کی داد رسی کر نی چاہئے یہ سرکار کا فریضہ بھی ہے کیونکہ ممبئی شہر میں تو حالات انتہائی ناگفتہ بہ ہے اور یہاں کورونا وائرس کا پھیلاؤ بہت زیادہ  ہونے کی وجہ سے اب تک مذہبی مقامات کو دوبارہ کھولے جانے پر کوئی فیصلہ سرکار نے نہیں کیا ہے۔ ایسی صورتحال میں کب تک مساجد کی انتظامیہ مسجد کا انتظام چلائیں گے، اس پر سرکار کو غورکرنےکی ضرورت ہے۔  معین میاں نے بتایا کہ ہم بھی بلال مسجد کا انتظام دیکھتے ہیں، یہاں بھی یہی حال ہے۔ اب تک تو ہم نے عملہ کو تنخواہیں دی ہیں، لیکن آئندہ بھی اگر ایسے حالات رہے تو معاملہ مشکل ہو جائے گا۔ کیونکہ عطیات صفر ہے تو کیسے مساجد کا اخراجات برداشت ہوگا اور کیسے ملازمین اور وابستگان کی تنخواہیں ادا کی جائیں گی یہ سوال ذمہ داران کے سامنے آکھڑا ہوا ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: