உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مردوں میں اس پریشانی کی وجہ سے خواتین کا بار بار ہوتا ہے اسقاط حمل

    مردوں میں اس پریشانی کی وجہ سے خواتین کا بار بار ہوتا ہے اسقاط حمل ، ریسرچ میں ہوا سنسنی خیز انکشاف

    مردوں میں اس پریشانی کی وجہ سے خواتین کا بار بار ہوتا ہے اسقاط حمل ، ریسرچ میں ہوا سنسنی خیز انکشاف

    اب تک یہ تصور کیا جاتا رہا ہے کہ بار بار اسقاط حمل ہونا خواتین میں کسی پریشانی کی علامت ہے ، لیکن حالیہ ریسرچ نے سوچ کی سوئی مردوں کی طرف موڑ دی ہے۔

    • Share this:
      اب تک یہ تصور کیا جاتا رہا ہے کہ بار بار اسقاط حمل ہونا خواتین میں کسی پریشانی کی علامت ہے ، لیکن حالیہ ریسرچ نے سوچ کی سوئی مردوں کی طرف موڑ دی ہے۔ ریسرچ میں کہا گیا ہے کہ بار بار اسقاط حمل کیلئے مرد ذمہ دار ہوتے ہیں۔ امپیریل کالج لندن میں ہوئی اس ریسرچ کے مطابق اسپرم کی صحت سے کسی حمل کی صحت طے ہوتی ہے۔ سائنسداں اب امید کررہے ہیں کہ یہ انکشاف اس پریشانی سے دوچار جوڑوں کی زندگی آسان بنا سکے گا۔
      یہ رپورٹ کلینک کیمسٹری میں شائع ہوئی ہے۔ ریسرچ میں ان 50 خواتین کے مرد ساتھیوں کو بھی شامل کیا تھا جو بار بار اسقاط حمل کی پریشانی سے دوچار رہی تھیں۔ زیادہ تر خواتین وہ تھیں ، جن کا حمل کے پہلے 20 ہفتوں کے درمیان اسقاط حمل ہوگیا تھا اور ایسا تین یا اس سے زیادہ مرتبہ لگاتار ہوا تھا ۔ اسقاط حمل کی پریشانی جھیل رہی خواتین کے ساتھیوں کی جانچ میں پایا گیا کہ ان کے ڈی این اے کافی کمزور تھے ۔ ان کے ڈی این اے کا موازنہ ایسے مردوں سے کیا گیا ، جن کی خاتون ساتھی کبھی اسقاط حمل کی پریشانی سے دوچار نہیں ہوئی تھی۔
      نتیجہ چونکاے والا نکلا ۔ اس میں پتہ چلا کہ نہ صرف خراب ڈی این اے بلکہ ان کی منی میں وہ مالیکیول بھی تھے جو ڈی این اے کو مسلسل خراب کرتے ہیں۔ یہ مردوں میں پائی جانے والی پروٹیسٹ گرنتھی میں کسی انفیکشن کی وجہ سے بھی ہوتا ہے کہ ڈی این اے کمزور ہوجاتے ہیں۔
      ریسرچ میں شامل ڈاکٹر چینا جےسینا کے مطابق اس ریسرچ سے ان خواتین کو کافی راحت ملے گی جو بار بار اسقاط حمل کیلئے خود کو قصوروار ٹھہرا کر ڈپریشن میں چلی جاتی ہیں۔ ساتھ ہی ریسرچ کے ان نتائج کی بنیاد پر مردوں میں نامردگی کا نئے سرے سے علاج کیا جاسکتا ہے اور یہ فرٹیلیٹی کی دنیا میں کسی کرشمہ سے کم نہیں۔
      First published: