ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ ملیہ اسلامیہ کے محققین نے کووڈ-19 کا پتہ لگانے کے لئے ٹیسٹنگ کٹ تیار کی

جامعہ ملیہ اسلامیہ کےپی ایچ ڈی اسکالرس محمد اقبال اعظمی، محمد امام فیضان نےلیبارٹری میں موجود تمام تجربات کو نشان زدکیا ہے، جس سے ٹیم کو پروٹو ٹائپ تیارکرنے میں مدد ملی ہے۔ ڈین، فیکلٹی آف نیچرل سائنسز، پروفیسر سیمی فرحت بصیر، ڈائریکٹر ایم سی آر ایس، پروفیسر ایم ذوالفقار، ڈائریکٹر، ڈاکٹر ایس این کاظم اور ایم سی آر ایس میں فیکلٹی کے دوسرے ممبروں نے بھی اس کام میں مدد کی اور قیمتی آراء اور تعاون فراہم کیا۔

  • Share this:
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے محققین نے کووڈ-19 کا پتہ لگانے کے لئے ٹیسٹنگ کٹ تیار کی
جامعہ ملیہ اسلامیہ کے محققین نے کووڈ-19 کا پتہ لگانے کے لئے ٹیسٹنگ کٹ تیارکی۔ فائل فوٹو

نئی دہلی: جامعہ ملیہ اسلامیہ ملٹی ڈسپلپلنری سنٹر فار ایڈوانسڈ ریسرچ اینڈ اسٹڈیز (ایم سی آر اے ایس) سے وابستہ سائنس دانوں کی ٹیم جس میں ڈاکٹر موہن سی جوشی، اسسٹنٹ پروفیسر (یوجی سی - ایف آر پی اور ڈی بی ٹی/ ویلکم ٹرسٹ انڈیا الائنس کے فیلو)، ڈاکٹر تنویر احمد، اسسٹنٹ پروفیسر (یوجی سی-ایف آر پی) اور ڈاکٹر جاوید اقبال، راما لنگا سوامی فیلو (ڈی بی ٹی)، وی ایم ایم سی (صفدرجنگ اسپتال) کے ڈاکٹر روہت کمار اور ویلیرن کیم لمیٹڈ کے سی ای او ڈاکٹر گگن دیپ جھنگان وغیرہ شامل ہیں، نے کووڈ-19 کا پتہ لگانے کے لئے ایک ٹیکنا لوجی تیار کی ہے، جو تھوک کے جانچ سے بیماری کا پتہ لگا سکےگی۔


اس ٹکنالوجی کو ایم آئی-صحت (موبائل انٹیگریٹڈ سینسیٹیو ایسٹی مشن اینڈ ہائی ایسپیسیفیسیٹی ایپلیکیشن فار ٹیسٹنگ) کا نام دیا گیا ہے، جسے کووڈ-19 کا پتہ لگانے کے لئے پوائنٹ آف کیئر (پی او سی) ڈیوائس کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے، اسے بآسانی گھروں میں بھی رکھا جا سکتا ہے۔ ٹیم کے ایک رکن ڈاکٹر موہن سی جوشی نے نئی ٹکنالوجی کے بارے میں وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ اسمارٹ فون سے چلنے والے پی او سی پروٹو ٹائپ کو مصنوعی سارس-کووڈ-19 کی جانچ کے لئے تیارکیا گیا ہے، جو تکنیکی ماہرین کی مداخلت کے بغیر ایک گھنٹے کے اندر نتائج دکھاتا ہے۔


جامعہ ملیہ اسلامیہ کے پی ایچ ڈی اسکالرس محمد اقبال اعظمی، محمد امام فیضان نےلیبارٹری میں موجود تمام تجربات کو نشان زدکیا ہے، جس سے ٹیم کو پروٹو ٹائپ تیارکرنے میں مدد ملی ہے۔ ڈین، فیکلٹی آف نیچرل سائنسز، پروفیسر سیمی فرحت بصیر، ڈائریکٹر ایم سی آر ایس، پروفیسر ایم ذوالفقار، ڈائریکٹر، ڈاکٹر ایس این۔ کاظم اور ایم سی آر ایس میں فیکلٹی کے دوسرے ممبروں نے بھی اس کام میں مدد کی اور قیمتی آراء اور تعاون فراہم کیا۔ ٹیم نےحکومت ہند کے انٹلیکچول پراپرٹی انڈیا آفس میں نئی ٹکنالوجی کے پیٹنٹ کے لئے عارضی درخواست جمع کرا دی ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر نجمہ اختر نےکہا کہ یہ ٹیکنالوجی عالمی وبائی امراض کے خلاف جنگ میں گیم چینجر ثابت ہوسکتی ہے۔ ایم آئی صحت اسمارٹ جدت کی ایک حقیقی مثال ہے اور یہ آتم نربھربھارت کی حقیقی روح کی عکاسی کرتی ہے۔ صارف دوست ٹیکنالوجی ہونے کے ناطے، ایم آئی-صحت ہماری ایک بڑی ضرورت کو پوری کرنے میں کامیاب ہوگی۔


پروفیسر اختر نے پوری ٹیم کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ جامعہ کیمپس میں جدید تحقیق اور جدت طرازی کے ماحول کے لئے مستقل پُرعزم ہے۔ انھوں نے یونیورسٹی کے سائنسدانوں کی کاوشوں کو سراہا، جو عالمی وبائی مرض سے نمٹنے کےلئےکوشاں ہیں۔ ڈائریکٹر ایم سی آرایس، پروفیسر ایم ذوالفقار نے کہا کہ ایم آئی-صحت تیزی سے اسکریننگ اور صحت کے ماہرین کی مداخلت کو ہندوستان کی دیہی علاقوں میں خصوصی مدد فراہم کرےگا، جہاں شہری علاقوں کی طرح صحت کی دیکھ بھال کا نظام اتنا مضبوط نہیں ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 06, 2020 01:52 AM IST