உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    پروموشن میں ریزرویشن کامعاملہ-SC-ST تنظیم نے بہار کی اپیل واپس لینے کی عرضی کی مخالفت کردی، جانیے کیا کہا

    پروموشن میں ریزرویشن کے معاملے میں جمعرات کو ایک نیا موڑ آیا ہے۔

    پروموشن میں ریزرویشن کے معاملے میں جمعرات کو ایک نیا موڑ آیا ہے۔

    واضح رہے کہ بہار میں ایس سی/ایس ٹی کو پروموشن میں ریزرویشن دینے کی 21 اگست 2012 کی تجویز اور اس کے بعد ریاستی حکومت کے جاری کردہ حکم کو پٹنہ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے 4 مئی 2015 کو مسترد کر دیا تھا۔

    • Share this:
      نئی دہلی: آل انڈیا کنفیڈریشن آف ایس سی اینڈ ایس ٹی آرگنائزیشن کی بہار یونٹ نے درج فہرست ذاتوں (ایس سی)، درج فہرست قبائل (ایس ٹی) کے لیے ترقیوں میں ریزرویشن کے معاملے میں جمعرات کو سپریم کورٹ سے بہار حکومت کی اپیل واپس لینے کی سخت مخالفت کی۔ تنظیم کی جانب سے کہا گیا کہ ریاستی حکومت کی اپیل واپس لینے سے ان کی تنظیم کے ارکان کا مفاد متاثر ہوگا۔ جن کو ترقی دی گئی ہے ان کی تنزلی کی جا سکتی ہے۔

      بہار کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں
      بہار حکومت نے تاہم تنظیم کی مخالفت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ تنظیم کا بہار کے معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور وہ اپنی اپیل واپس لینے کی مخالفت نہیں کر سکتی۔ سپریم کورٹ نے اس معاملے کی سماعت 11 مئی تک ملتوی کرتے ہوئے تنظیم سے کہا ہے کہ وہ حلف نامہ داخل کرے جس میں بتایا جائے کہ بہار حکومت کی اپیل واپس لینے سے کیسے اور کتنے لوگ متاثر ہوں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Covid Vaccination: اب 5سے12سال کے بچوں کو بھی لگے گا ٹیکہ، کوربی ویکس ویکسین کو ملی منظوری

      ایس سی ایس ٹی کو پروموشن میں ریزرویشن
      یہ احکامات جسٹس ایل ناگیشور راؤ کی سربراہی والی بنچ نے ایس سی/ایس ٹی کے لیے ترقیوں میں ریزرویشن کے معاملے میں سماعت کے دوران دیے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      دہشت گردوں اوران کے حامیوں کاتیارہورہاہےDatabase،ہتھیاروں کے اسمگلرس پر بھی کسے گا شکنجہ!

      واضح رہے کہ بہار میں ایس سی/ایس ٹی کو پروموشن میں ریزرویشن دینے کی 21 اگست 2012 کی تجویز اور اس کے بعد ریاستی حکومت کے جاری کردہ حکم کو پٹنہ ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے 4 مئی 2015 کو مسترد کر دیا تھا۔ جس کے خلاف بہار حکومت نے ہائی کورٹ میں ہی ڈویژن بنچ کے سامنے اپیل کی لیکن ڈویژن بنچ نے 30 جولائی 2015 کو بہار حکومت کی اپیل کو مسترد کر دیا تھا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: