ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

سی اے اے کی مخالفت میں بی جے پی اقلیتی مورچہ کے 60 سے زیادہ عہدیداروں نے دیا استعفی

استعفی سوپنے والوں نے دعوی کیا کہ وہ طویل عرصے سے بی جے پی کے سرگرم رکن اور اقلیتی مورچہ میں عہدیدار رہے ہیں ۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 23, 2020 10:56 PM IST
  • Share this:
سی اے اے کی مخالفت میں بی جے پی اقلیتی مورچہ کے 60 سے زیادہ عہدیداروں نے دیا استعفی
سی اے اے کی مخالفت میں بی جے پی اقلیتی مورچہ کے 60 سے زیادہ عہدیداروں نے دیا استعفی

بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اقلیتی مورچہ کی مدھیہ پردیش یونٹ کے 60 سے زیادہ کارکنان اور عہدیداروں نے آج شہریت ترمیمی قانون ( سی اےاے ) کی مخالفت کرتے ہوئے اپنی رکنیت اورعہدے سے اجتماعی طور پر استعفی دینے کا دعوی کیا ہے۔  ایک پریس کانفرنس کرکے مورچے کے اندور شہر کے جنرل سکریٹری وسیم خان سمیت کھنڈوا، دیواس کے 60 سے زیادہ مردو خواتین نے کہا کہ وہ بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا اور ریاستی بی جے پی صدر راکیش سنگھ کو اپنا استعفی نامہ سونپ چکے ہیں ۔

استعفی سوپنے والوں نے دعوی کیا کہ وہ طویل عرصے سے بی جے پی کے سرگرم رکن اور اقلیتی مورچہ میں عہدیدار رہے ہیں ۔ ادھراس سلسلے میں بی جے پی اقلیتی مورچہ کے ریاستی نائب صدر ناصر شاہ سے پوچھے جانے پر انہوں نے بتایا کہ استعفی دینے والوں میں سے زیادہ تر ارکان اور عہدیدار تین طلاق کے معاملے پر پہلے ہی استعفی دے چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ استعفی دینے والوں میں صرف تین ہی لوگ فی الحال مورچے کے عہدیدار ہیں۔


انہوں نے سی اےاے کی حمایت کرتے ہوئے مخالفت کرنے والوں پر الزام لگایا کہ اس مخالفت کی قیادت کرنے والے لیڈر اپنے ذاتی مفاد کے لئےاقلیتوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

First published: Jan 23, 2020 10:56 PM IST