ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سی اے اے مخالف احتجاج : ریٹائرڈ آئی پی ایس ایس آر دارا پوری اور صدف جعفر کو ملی ضمانت

صدف جعفر کو جب پولیس نے گرفتار کیا تھا ، اس وقت وہ فیس بک لائیو ویڈیو بنارہی تھیں ، جس میں وہ تشدد پر آمادہ افراد کے خلاف کچھ کارروائی نہ کرنے پر پولیس کی تنقید کرتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 04, 2020 10:49 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سی اے اے مخالف احتجاج : ریٹائرڈ آئی پی ایس ایس آر دارا پوری اور صدف جعفر کو ملی ضمانت
سی اے اے مخالف احتجاج : ریٹائرڈ آئی پی ایس ایس آر دارا پوری اور صدف جعفر کو ملی ضمانت

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران گرفتار کانگریس لیڈر و سماجی کارکن صدف جعفر اورسابق ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر و سماجی کارکن ایس آر دارا پوری سمیت دیگر 11 افراد کو ہفتہ کو ضمانت پر رہائی مل گئی ۔ ہفتہ کو لکھنؤ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے یوپی کانگریس میڈیا ترجمان و سابق ٹیچر صدف جعفر اورسابق ریٹائرڈ آئی پی ایس افسر و سماجی کارکن ایس آر دارا پوریودیگر 11 افراد کو ضمانت دے دی۔ صدف و دیگر کو 19 نومبر کو ریاستی راجدھانی میں سی اے اے کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہرے کے دوران گرفتر کیا گیا تھا۔


صدف جعفر کو جب پولیس نے گرفتار کیا تھا ، اس وقت وہ فیس بک لائیو ویڈیو بنارہی تھیں ، جس میں وہ تشدد پر آمادہ افراد کے خلاف کچھ کارروائی نہ کرنے پر پولیس کی تنقید کرتی ہوئی دکھائی دے رہی تھیں کہ اسی وقت ایک پولیس آکر انہیں بھی گرفتار کرلیا تھا۔ صدف جعفر کی رہائی کے لئے معروف شخصیات بشمول سوارا بھاسکر، میرا نائر اور مہیش بھٹ نے شوسل میڈیا پر اپنی آواز بلند کی تھی۔


اس قبل 23 دسمبر کو یہ کہتے ہوئے صدف کی ضمانت کی عرضی خارج کردی گئی تھی کہ جن دفعات کے تحت صدف پر مقدمہ درج کیا گیا ہے ، وہ کافی سنگین ہیں اور ضمانت نہیں دی جاسکتی۔  صدف جعفر و ایس آر دارا پوری کی ضمانت عرضی پر سماعت کرتے ہوئے عدالت نے گذشتہ کل اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔


صدف جعفر ۔ فائل فوٹو ۔ انسٹاگرام ۔
صدف جعفر ۔ فائل فوٹو ۔ انسٹاگرام ۔


قابل ذکر ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ریاستی راجدھانی میں گذشتہ 19 دسمبر کو ہوئے احتجاجی مظاہرے کے دوران تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ احتجاج کے دوران شرپسند عناصر نے پتھراؤ کے ساتھ آگ زنی بھی کی تھی ، جس میں میڈیا سمیت کئی گاڑیاں جل کر خاک ہوگئی تھیں۔ پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے متعدد افراد کو گرفتار کیا تھا۔

خیال رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے دوران اترپردیش میں سب سے زیادہ تشدد کے واقعات پیش آئے تھے ۔ جن میں تقریبا 23 مظاہرین کے ہلاک ہوئے ہیں ۔ جبکہ 1100 سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ ریاستی حکومت نے تقریبا 372 افراد کے خلاف سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کے الزام میں ریکوری نوٹس بھی جاری کیا ہے۔
First published: Jan 04, 2020 10:49 PM IST