ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

لاک ڈاؤن کے تعلق سے رکشا ٹیکسی ڈرائیوروں میں خوف کا ماحول

ممبئی میں تقریباً 48 ہزار ٹیکسی اور 4 لاکھ رکشا ہیں، یہ گاڑیاں دن اور رات یعنی دو شفٹوں میں سڑک پر چلتی ہیں۔ مالک ایک شفٹ میں گاڑی چلاتا ہے تو ڈرائیور دوسری شفٹ میں کام کرتا ہے۔ کچھ ڈرائیور ایسے ہیں، جو دو شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ چنانچہ جتنے بھی ڈرائیور ہیں وہ سب گاڑی چلانے پر ہی منحصر ہیں۔

  • Share this:
لاک ڈاؤن کے تعلق سے رکشا ٹیکسی ڈرائیوروں میں خوف کا ماحول
لاک ڈاؤن کے تعلق سے رکشا ٹیکسی ڈرائیوروں میں خوف کا ماحول

ممبئی: ممبئی میں مسلسل کورونا وائرس زور پکڑتا جا رہا ہے۔ ایسی صورت میں ایک بار پھرلوگوں میں لاک ڈاون کا ڈر ستانے لگا ہے۔ خاص کر رکشا ڈرائیور جو رات کو رکشا چلاتے ہیں، مسافروں کی کمی آ گئی ہے، جس کے سبب ان لوگوں کے سامنے پھر ایک بار روزی روٹی کا مسئلہ کھڑا ہو سکتا ہے۔


ممبئی میں تقریباً 48 ہزار ٹیکسی اور 4 لاکھ رکشا ہیں، یہ گاڑیاں دن اور رات یعنی دو شفٹوں میں سڑک پر چلتی ہیں۔ مالک ایک شفٹ میں گاڑی چلاتا ہے تو ڈرائیور دوسری شفٹ میں کام کرتا ہے۔ کچھ ڈرائیور ایسے ہیں، جو دو شفٹوں میں کام کرتے ہیں۔ چنانچہ جتنے بھی ڈرائیور ہیں وہ سب گاڑی چلانے پر ہی منحصر ہیں۔


بی جے پی کی نو بھارتیہ شیو واہتوک سینا کے صدر حاجی عرفات نے کہا ہے کہ ممبئی اور مہاراشٹر میں رکشا ٹیکسی ڈرائیوروں کی مالی پوزیشن ٹھیک نہیں ہے۔ نائٹ کرفیو کی وجہ سے ان کے روزگارپر برا اثر پڑا ہے۔
بی جے پی کی نو بھارتیہ شیو واہتوک سینا کے صدر حاجی عرفات نے کہا ہے کہ ممبئی اور مہاراشٹر میں رکشا ٹیکسی ڈرائیوروں کی مالی پوزیشن ٹھیک نہیں ہے۔ نائٹ کرفیو کی وجہ سے ان کے روزگارپر برا اثر پڑا ہے۔


رکشا ٹیکسی ڈرائیوروں کویہ ڈر ستانے لگا ہے کہ اگرلاک ڈاون پھر لگتا ہے، تو ایک بار ان کے سامنے روزگارکا ایک بڑا مسئلہ پیدا ہو سکتا یے۔ فکرمند ڈرائیور اپنے وطن لوٹنے پر غور کرنے لگے ہیں۔ بی جے پی کی نو بھارتیہ شیو واہتوک سینا کے صدر حاجی عرفات نے کہا ہے کہ ممبئی اور مہاراشٹر میں رکشا ٹیکسی ڈرائیوروں کی مالی پوزیشن ٹھیک نہیں ہے۔ نائٹ کرفیو کی وجہ سے ان کے روزگارپر برا اثر  پڑا ہے اوراب حکومت لاک ڈاؤن لگانے کا فیصلہ کرتی ہے توایک بار پھر اسی طرح کا نظارہ دیکھنےکو مل سکتا ہے اور مہاراشٹر سے پرواسی مزدور اپنےگھروں کو پیدل لوٹتے ہو ئے نظر آئیں گے۔

حاجی عرفات نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رکشا ٹیکسی ڈرائیوروں کی مدد کی جائے۔ یہ ڈرائیور روز کماتے ہیں تو ان کے گھروں کا چولہا جلتا ہے۔ ان کی گاڑیا لون پر ہیں، جس کا انہیں مہینے میں قسط ادا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سرکار سخت فیصلہ کرتی ہے تو ان کا لون معاف کیا جائے اور ان کے کھانے کا انتظام کیا جائے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Apr 02, 2021 08:41 PM IST