جموں میں ’ہندو نواز‘ دایاں محاذ تنظیموں سے بی جے پی لیڈران کی نیندیں حرام

ریاست جموں وکشمیر خاص طور سے جموں میں دایاں محاذ کی تنظیموں کی طرف سے سلسلہ وارتنقید اور لفاظی حملوں کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی لیڈران کی نیندیں ان دنوں حرام ہو گئی ہیں۔

Aug 11, 2018 12:17 PM IST | Updated on: Aug 11, 2018 12:17 PM IST
جموں میں ’ہندو نواز‘ دایاں محاذ تنظیموں سے بی جے پی لیڈران کی نیندیں حرام

جموں۔ ریاست جموں وکشمیر خاص طور سے جموں میں دایاں محاذ کی تنظیموں کی طرف سے سلسلہ وارتنقید اور لفاظی حملوں کی وجہ سے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ریاستی لیڈران کی نیندیں ان دنوں حرام ہو گئی ہیں۔ آنے والے لوک سبھا انتخابات، اسمبلی چناؤ، میونسپل اور پنچایاتی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو متعدد ہندو تنظیموں سے ہی سیاسی خطرہ لاحق ہے۔ ان دایاں محاذ کی تنظیموں کی طرف سے بھاجپا پر پی ڈی پی کے ساتھ تین سالہ اقتدار میں رہ کر جموں کے لوگوں کو ’ شرمسار اور بے عزت‘کرنے کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔

ذرائع نے یو این آئی کو بتایا کہ بی جے پی لیڈران ان دنوں کافی فکر مند ہیں کیونکہ مجوزہ لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر ان تنظیموں نے پارٹی کے خلاف جارحانہ مہم شروع کر دی ہے۔ ان تنظیموں میں بعض سنگھ پریوار کے ناراض لیڈران بھی شامل ہیں جن کا الزام ہے کہ بی جے پی نے ’ہندو مخالف ایجنڈا‘اپنایا ہے۔ اس سلسلہ میں اکھل بھارتیہ ہندو مہا سبھا کا سب سے پہلا کنونشن جموں میں29جولائی 2018کو منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے دایاں محاذ کے سرکردہ لیڈران نے شرکت کی۔

اس کنونشن میں بیشتر مقررین نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو ہندوؤں کی’نمبر ایک دشمن‘ جماعت قرار دیتے ہوئے لوگوں پرزور دیا کہ پارٹی کو آنے والے انتخابات میں سبق سکھایاجائے۔ہندومہا سبھا کے روی رانجن سنگھ اور میجر رمیش اوپادھیائے(ر)، ہندو یوا واہنی کے سدھاکر چتور ویدی،سوامی پرکاش آنند اور دیگر ہندو لیڈران نے کنونشن میں شرکت کی۔ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو بھی کنونشن میں شرکت کرنا تھی لیکن موصوفہ کوآخری مرحلہ پر پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔

جموں وکشمیر ریاست میں پہلی مرتبہ اقتدار کی کرسی تک پہنچنے والی بھارتیہ جنتا پارٹی متنازعہ معاملات پر کوئی واضح موقف اختیار کرنے میں ہچکچا رہی ہے۔ سخت گیر گروپ بشمول ہندو مہا سبھا اور انترراشٹریہ ہندو پریشدنامی نئی تنظیم کو ویشو ہندو پریشد لیڈر پروین توگڑیا نے تشکیل دی ہے۔ ہندوؤں سے متعلق معاملات پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے دوہرے موقف کو ایکسپوز کرنے کے لئے تمام مواقعوں کا فائدہ اٹھانا چاہتی ہے۔پروین توگڑیا کی نئی تنظیم نے ریاست میں اپنائی اکائی پہلے ہی قائم کر دی ہے اور سخت گیر ہندو لیڈر اور سنگھ پریوار سے ناراض لیڈران کو اپنے ساتھ شامل کرنے کے لئے کوششیں کی جارہی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تنظیم ان دنوں لوک سبھا انتخابات سے قبل ضلع اور تحصیل سطح پر کمیٹیاں قائم کرنے کے کام میں جٹی ہے۔

Loading...

Loading...