ہوم » نیوز » وطن نامہ

پیاز : ابھی تو قیمت بڑھنی شروع ہوئی ہے روتا ہے کیا ، آگے آگے دیکھنا ہوتا ہے کیا !

ملک کے زیادہ تر حصوں میں ریٹیل میں پیاز کی قیمتیں 70 سے 100 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں ۔ جانکاروں کے مطابق دیوالی تک یہ 120 سے 150 روپے فی کلو تک بھی پہنچ سکتی ہیں ۔

  • Share this:
پیاز : ابھی تو قیمت بڑھنی شروع ہوئی ہے روتا ہے کیا ، آگے آگے دیکھنا ہوتا ہے کیا !
علامتی تصویر ۔ (Reuters)

جس حکومت کا قیمت پر زور نہیں ، اسے ملک چلانے کا حق نہیں ، یہ وہ نعرہ ہے ، جس نے جنتا پارٹی سے اقتدار چھین لیا ۔ سال 1980 کا تھا اور مرکز میں جنتا پارٹی کی حکومت تھی ۔ کانگریس اپوزیشن میں تھی ۔ ملک میں پیاز کی قیمتیں آسمان چھو رہی تھیں ۔ اندرا گاندھی نے الیکشن مہم کے دوران پیاز کی ہار پہن کر پورے ملک میں مہم چلائی اور اسی نعرے کے ساتھ عوام سے ووٹ مانگا ۔


یہ ہندوستانی جمہوریت میں پہلی مرتبہ تھا جب پیاز انتخابی ایشو بنا ۔ پارلیمانی انتخابات میں جنتا پارٹی کی شکست ہوئی اور ایک مرتبہ پھر کانگریس اقتدار میں آئی ۔ اس کے بعد کئی ایسے مواقع آئے جب پیاز نے اقتدار کے مرکز میں بیٹھے لیڈروں کو شکست کے آنسو رلا دئے ۔


سال 1998 میں جب ایک مرتبہ پھر پیاز کی قیمتوں نے آسمان چھوا اور اس وقت بی جے پی نے ایک کے بعد ایک تین وزیر اعلی بدل دئے ، لیکن اقتدار نہیں بچا سکی ۔ مدن لال کھورانہ ، صاحب سنگھ ورما اور پھر سشما سوراج کو دہلی کا وزیر اعلی بنایا گیا ، لیکن قیمتیں کم نہیں ہوئیں اور بی جے پی کو اسمبلی انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑا ۔


راجستھان کے وزیر اعلی رہ چکے بھیرو سنگھ شیخاوت نے بھی الیکشن ہارنے کے بعد کہا تھا کہ پیاز ہمارے پیھچے پڑا تھا ۔ اب ایک مرتبہ پھر ملک کی ایک بڑی ریاست بہار میں اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں اور پیاز کی قیمتیں آسمان چھونے لگی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پیاز کی بڑھتی قیمتوں کا اثر الیکشن پر پڑے گا ۔

ملک کے زیادہ تر حصوں میں ریٹیل میں پیاز کی قیمتیں 70 سے 100 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہیں ۔ جانکاروں کے مطابق دیوالی تک یہ 120 سے 150 روپے فی کلو تک بھی پہنچ سکتی ہیں ۔ ویسے تو اب عام دنوں میں بھی 30 سے 40 روپے فی کلو کی قیمت سے پیاز خریدنے کی ہمیں عادت ہوگئی ہے ۔ ایک ہفتہ پہلے ریٹیل بازار میں اسی دام پر پیاز فروخت ہورہے تھے ، لیکن اچانک ایک ہی دن میں منڈی میں تھوک دام 2000 روپے کوئنٹل تک بڑھ گئے ، جس کے بعد ریٹیل بازار میں بھی دام بڑھ گئے ۔

گزشتہ سوموار کو پیاز کی سب سے بڑی منڈی ناسک کے لاسل گاوں میں پیاز کا دام 7100 روپے کوئنٹل تک پہنچ گیا ۔ لاسل گاوں میں دام بڑھنے کا مطلب ہے کہ پورے ملک میں ریٹیل دام بڑھے گا ۔

پیاز کے دام کیوں بڑھے

کسی بھی چیز کے دام اسی وقت بڑھتے ہیں جب یا تو پیداوار کم ہوجائے یا پھر ڈیمانڈ میں تیزی آجائے ۔ پیاز کے ساتھ یہ دونوں چیزیں ہوئی ہیں ۔

پیاز کے دام کیوں بڑھ رہے ہیں یہ سمجھنے کیلئے ہمیں پہلے یہ جاننا ہوگا کہ پیاز کی کھیتی ملک کے کن علاقوں میں زیادہ ہوتی ہے ۔ پیاز اور لہسن ریسرچ ڈٓائریکٹوریٹ کے مطابق ملک میں پیاز کی سب سے زیادہ پیداوار مہاراشٹر میں ہوتی ہے ۔ مہاراشٹر میں ناسک ، احمد نگر ، پونے ، دھولے ، شولا پور میں پیاز کی کھیتی ہوتی ہے ۔ مہاراشٹر کے بعد کرناٹک ، گجرات ، بہار ، مدھیہ پردیش اور آندھرا پردیش میں پیاز کی کھیتی زیادہ ہوتی ہے ۔

ان میں مہاراشٹر ، کرناٹک اور آندھرا پردیش وہ ریاستیں ہیں ، جہاں شدید بارش کی وجہ سے اس سال لاکھوں ایکڑ کی فصل برباد ہوگئی ہے ۔ مہاراشٹر کے جن علاقوں میں پیاز کی پیداوار ہوتی ہیں ، وہاں ستمبر میں گزشتہ 100 سالوں کی دوسری سب سے زیادہ بارش ہوئی ہے ۔ کرناٹک کے کئی علاقوں میں اب بھی سیلاب کی صورتحال ہے ۔

مسلسل ہورہی بارش اور سیلاب کی وجہ سے کئی ریاستوں میں لگی پیاز کی نرسری برباد ہوگئی ہے ۔ پیاز کی قیمتوں میں ہونے والے ممکنہ اضافہ کو دیکھتے ہوئے ذخیرہ اندوزی بھی شروع ہوگئی ہے ۔

پیاز کے ڈیمانڈ میں اضافہ

لاک ڈاون کے دوران ملک بھر میں ہوٹل ، ڈھابے اور ریستوراں بند تھے ، جس کی وجہ سے پیاز کی ڈیمانڈ متوازن تھی اور قیمتیں بھی متوازن تھیں ۔ انلاک پانچ میں ہوٹل ، ریستوراں ، ڈھابے کھل گئے ہیں ، جس سے پورے ملک میں پیاز کی ڈیمانڈ اچانک بڑھ گئی ہے ۔

شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے نہ صرف پیداوار متاثر ہوئی ہے ، بلکہ سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے ۔ وہیں بازار میں ڈیمانڈ پہلے سے زیادہ ہے ، جس کی وجہ سے قیمتوں میں بھاری اضافہ نظر آرہا ہے ۔

پیاز کی قیمتیں کہاں تک بڑھ سکتی ہیں

جانکاروں کے مطابق پیاز کی قیمت 120 روپے کلو تک بڑھ سکتی ہے ۔ کیونکہ پیاز کی پیداوار کرنے والی بڑی ریاستوں میں سیلاب اور بارش کی وجہ سے فصل برباد ہوگئی ہے ۔ نیا پیاز مارکیٹ میں فروری تک ہی آئے گا ۔ ابھی ملک کی سب سے بڑی منڈی میں 7000 روپے کوئنٹل کے آس پاس فروخت ہورہی ہے ، ملک کے الگ الگ حصوں میں ریٹیل بازار میں آتے آتے اس قیمت میں 30 سے 40 روپے کا مزید اضافہ ہوسکتا ہے ، اسلئے جانکاروں کا ماننا ہے کہ تہواروں کے دوران پیاز کی قیمت 120 روپے تک پہنچ سکتی ہے ۔

جانکاروں کے مطابق پیاز کی قیمت 120 روپے کلو تک بڑھ سکتی ہے ۔ علامتی تصویر ۔
جانکاروں کے مطابق پیاز کی قیمت 120 روپے کلو تک بڑھ سکتی ہے ۔ علامتی تصویر ۔


اب آئیے جانتے ہیں ملک کے الگ الگ حصوں میں پیاز کا حال کیا ہے

کیرالہ

کیرالہ میں ایک ہفتہ پہلے تک 20 سے 25 روپے فی کلو کے حساب سے پیاز فروخت ہورہی تھی ، لیکن اب 75 روپے سے 90 روپے فی کلو کے حساب سے بک رہی ہے ۔ وہیں چھوٹے پیاز کی قیمت جو پہلے 70 سے 85 روپے کلو تھی ، جو اب 100 روپے کلو ہے ۔

آندھرا پردیش اور تلنگانہ

شدید بارش اور سیلاب کی وجہ سے آندھرا پردیش اور تلنگانہ میں سپلائی متاثر ہوئی ہے ، جس کی وجہ سے پیاز کاروباریوں نے دام بڑھا دئے ہیں ۔ دونوں ریاستوں میں پیاز کی ریٹیل قیمتیں 100 روپے فی کلو ہیں جبکہ تھوک قیمت 70 سے 85 روپے فی کلو ہے ۔

آندھرا پردیش ریتو بازاروں کے ذریعہ کم قیمت پر 1000 ٹن پیاز بیچنے کی تیاری کررہا ہے ۔ مانسون سیزن کے دوران آندھرا پردیش کے 15 ہزار ایکڑ اور تلنگانہ کے 55 سو ایکڑ میں پیاز کی بوائی ہوئی تھی ، لیکن پیداوار اچھی نہیں ہوئی ۔

تمل ناڈو

تمل ناڈو میں ریٹیل بازار میں پیاز کی قیمت 100 فی کلو ہے ۔ تمل ناڈو حکومت اما فارم فریش کے ذریعہ کم قیمت پر پیاز فروخت کررہی ہے ۔ اما فارم فریش میں 45 روپے فی کلو کے دام سے پیاز مل رہی ہے ۔ پیاز کی وافر دستیابی کیلئے حکومت مصر اور ایران سے پیاز منگوا رہی ہے ۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب پیاز مصر سے منگوائی جارہی ہے ۔

مہاراشٹر

ناسک کے علاوہ دھولے ، پونے ، ستارا ، شولا پور علاقے میں بھی پیاز کی پیدوار ہوتی ہے ۔ ریاستوں کے ان تمام علاقوں میں اس مرتبہ زیادہ بارش کی وجہ سے پیاز کی فصل کو نقصان پہنچا ہے ۔

ناسک ضلع کے لاسل گاوں میں ملک کی سب سے بڑی پیاز منڈی ہے ۔ وہاں اس ہفتہ کی شروعات میں پیاز کی قیمت 7100 روپے فی کوئنٹل تک پہنچ گئی ۔ یہ دام گزشتہ ایک سال میں سب سے زیادہ ہے ۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگلے کچھ ہفتوں میں پیاز کے دام 100 روپے کو آسانی سے پار کرجائیں گے ۔ ابھی مہاراشٹر میں ریٹیل بازار میں 80 روپے کلو تک پیاز فروخت ہورہی ہے ۔

جانکار بتاتے ہیں کہ اس مرتبہ پیاز کی قیمتیں زیادہ وقت تک اور ریکارڈ دام تک عام لوگوں کی آنکھوں میں آنسو لائیں گی ۔ اس کی وجہ پیاز کی پیداوار کرنے والے زیادہ تر علاقوں میں بارش کی مار کو بتایا جارہا ہے ۔ اندازہ لگایا جارہا ہے کہ فروری میں نئی فصل آنے تک پیاز کے دام میں ریورس گیئر نہیں لگے گا ۔

کرناٹک

مہاراشٹر کے بعد کرناٹک ملک کی دوسری ریاست ہے ، جہاں پیاز کی پیدوارزیادہ ہوتی ہے ۔ بارش کی وجہ سے شمالی کرناٹک میں پیاز کی پوری فصل برباد ہوگئی ہے ۔ صرف بگلکوٹ میں ہی 90 ہزار ہیکٹیئر پیاز کی فصل برباد ہوگئی ہے ۔ افسران کے مطابق پورے کرناٹک میں تقریبا دو لاکھ ہیکٹیئر فصل برباد ہوگئی ہے ۔ ریاست کے ریٹیل مارکیٹ میں پیاز 80 سے 100 روپے کلو فروخت ہورہی ہے ۔

بہار اور جھارکھنڈ

بہار اور جھارکھنڈ میں پیاز مدھیہ پردیش سے آتا ہے ۔ مدھیہ پردیش کی منڈی میں پیاز 55 سو سے چھ ہزار روپے کوئٹل فروخت ہورہی ہے ۔ جس وجہ سے ان دونوں ریاستوں میں پیاز کی ریٹیل قیمت فی الحال 60 سے 70 روپے کلو ہے ۔ حالانکہ آنے والے دنوں میں یہ بڑھ سکتی ہے ۔ چونکہ بہار میں ابھی اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں ، اس لئے قیمتیں مزید بڑھنے پر یہ انتخابی ایشو بن سکتا ہے ۔ گزشتہ انتخابات میں جب لالو یادو جیل سے باہر تھے ، تب انہوں نے پیاز اور دال کی بڑھتی قیمتوں کو انتخابی ایشو بنایا تھا ۔

ملک کے دیگر حصوں کا حال

اوڈیشہ میں ستمبر میں پیاز کا دام 30 سے 35 روپے فی کلو تھا جو اب بڑھ کر 70 سے 75 روپے فی کلو ہوگیا ہے ۔ اوڈیشہ ٹریڈرس ایسوسی ایشن کے صدر سدھاکر پانڈا کے مطابق منڈی میں بازار دام 65 سو فی کوئنٹل ہے ۔ وہیں آسام میں فی الحال 60 سے 70 روپے کلو پیاز فروخت ہورہی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Oct 22, 2020 09:50 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading