உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش اسمبلی انتخابات 2022: سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر کی 17 سال بعد سماجوادی پارٹی میں واپسی

    سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر کی 17 سال بعد سماجوادی پارٹی میں واپسی

    سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر کی 17 سال بعد سماجوادی پارٹی میں واپسی

    اترپردیش ضلع بلرام پور (Balrampur) کے سابق رکن پارلیمنٹ اور قدآور لیڈر رضوان ظہیر (Rizwan Zaheer) کی سال بعد دوبارہ سماجوادی پارٹی (Samajwadi Party) میں واپسی ہوئی ہے۔ رضوان ظہیر کے سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے سے ضلع کی سیاست میں نئی تبدیلی آئی ہے اور بڑی ہلچل بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

    • Share this:
    لکھنو: اترپردیش ضلع بلرام پور (Balrampur) کے سابق رکن پارلیمنٹ اور قدآور مسلم لیڈر رضوان ظہیر (Rizwan Zaheer) کی 17 سال بعد دوبارہ سماجوادی پارٹی (Samajwadi Party) میں واپسی ہوئی ہے۔ رضوان ظہیر کے سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے سے ضلع کی سیاست میں نئی تبدیلی آئی ہے اور بڑی ہلچل بھی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سال 1989 میں آزاد رکن اسمبلی منتخب ہوکر سیاسی کیریئرکا آغاز کرنے والے رضوان ظہیر 2021 تک تقریباً سبھی سیاسی جماعتوں کا سفر طے کرتے ہوئے اب پھر سماجوادی پارٹی میں واپسی کرچکے ہیں۔ سماجوادی پارٹی میں رضوان ظہیر کی واپسی سے جہاں پارٹی کو مضبوطی ملے گی وہیں دوسری طرف ان کی بیٹی اور تلسی پور اسمبلی حلقہ سے قسمت آزما چکیں زیبا رضوان کے مستقبل کے لئے بھی بڑا فیصلہ ہوسکتا ہے۔

    رضوان ظہیر کا کیریئر تقریباً تین دہائیوں پر محیط ہے۔ وہ تین بار رکن اسمبلی اور 2 مرتبہ رکن پارلیمنٹ رہ چکے ہیں۔ ایک وقت تھا، جب رضوان ظہیر کا شمار پروانچل کے قد آور لیڈروں میں ہوتا تھا۔ اپنے گلیمرس شبیہ کو لے کر رضوان ظہیر عام لوگوں میں کافی مقبول ہوا کرتے تھے، لیکن انہوں نے وقت کے ساتھ پارٹی بدلنے میں نہ صرف اپنی سیاسی اثرورسوخ کم کردی بلکہ اپنے قریبیوں سے بھی دور ہوتے گئے۔ سال 1989 میں تلسی پور اسمبلی حلقہ سے رضوان ظہیر آزاد رکن اسمبلی کے طور پر قسمت آزمائی کی اور رکن اسمبلی منتخب ہوئے۔ اس کے بعد رضوان ظہیر بہوجن سماج پارٹی میں شامل ہوئے۔ رضوان ظہیر دو بار بی ایس پی سے رکن اسمبلی رہے۔ 1996 میں انہوں نے آزاد امیدوار کے طور پر بلرام پور لوک سبھا سیٹ سے قسمت آزمائی کی، لیکن انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سال 1998 میں رضوان ظہیر سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر بلرام پور لوک سبھا سیٹ سے قسمت آزمائی کی اور رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ سال 1999 میں دوبارہ سماجوادی پارٹی کے ٹکٹ پر رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ یہ وہ دور تھا جب رضوان ظہیر پروانچل کی سیاست میں ایک بڑا نام ہوا کرتا تھا۔ سال 2004 کے لوک سبھا الیکشن میں سماجوادی پارٹی سے اختلاف کے بعد رضوان ظہیر نے ایک بار پھر پارٹی تبدیل کرلی اور ہاتھی پر سوار ہوگئے، لیکن یہ انہیں راس نہیں آیا اور وہ مسلسل دو لوک سبھا انتخابات میں دوسرے نمبر پر رہے۔

    سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کی موجودگی میں سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر، زیبا رضوان اور رمیز نعمت نے سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر ضلع صدر پرشو رام ورما اور ڈاکٹر محمد احسان بھی موجود رہے۔
    سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیراعلیٰ اکھلیش یادو کی موجودگی میں سابق رکن پارلیمنٹ رضوان ظہیر، زیبا رضوان اور رمیز نعمت نے سماجوادی پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ اس موقع پر ضلع صدر پرشو رام ورما اور ڈاکٹر محمد احسان بھی موجود رہے۔


    سال 2004 میں ہوئے لوک سبھا انتخابات میں بلرام پور سیٹ دو اہم اور سینئر لیڈروں کا اکھاڑہ بنا، جب رضوان ظہیر کے مقابلے بی جے پی نے قیصر گنج کے موجودہ رکن پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کو بلرام پور لوک سبھا انتخابی حلقے سے میدان میں اتارا۔ اس الیکشن میں برج بھوشن شرن سنگھ نے رضوان ظہیر کو شکست دیتے ہوئے جیت درج کی۔ اس کے بعد رضوان ظہیر کا سیاسی گراف گرتا چلا گیا۔ سال 2009 کے لوک سبھا الیکشن میں رضوان ظہیر نے پھر بی ایس پی کے امیدوار کے طور پر شراوستی لوک سبھا سے قسمت آزمائی کی اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ سال 2009 میں کانگریس کے امیدوار ونے کمار پانڈے نے انہیں شکست دی۔

    خود کو پارٹی سے الگ بڑا لیڈر تسلیم کرنے والے رضوان ظہیر سال 2014 میں کسی اہم سیاسی جماعت سے ٹکٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے۔ اس بار انہوں نے پیس پارٹی کے امیدوار کے طور پر قسمت آزمائی کی، لیکن اس الیکشن میں ان کے سامنے بی جے پی سے ددن مشرا اور سماجوادی پارٹی سے سینئر مسلم رہنما عتیق احمد قسمت آزمائی کر رہے تھے۔ رضوان ظہیر کو اس الیکشن میں ایک لاکھ ووٹ حاصل ہوئے۔ اس طرح 2014 میں مودی لہر کے دوران ددن مشرا جیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

    سال 2014 کے بعد رضوان ظہیر نے کانگریس پارٹی کا دامن تھام لیا۔ کانگریس کے سینئر لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد اور اس وقت کے ریاستی صدر راج ببر نے تلسی پور پہنچ کر رضوان ظہیر کو کانگریس کی رکنیت دلائی تھی، لیکن کچھ ہی دنوں بعد رضوان ظہیر کا کانگریس سے اختلاف ہوگیا اور انہوں نے دوبارہ بہوجن سماج پارٹی کی رکنیت حاصل کرلی۔ انہوں نے 2019 لوک سبھا انتخابات میں اپنی حمایت بی ایس پی- سماجوادی پارٹی کے اتحادی امیدوار رام شرومنی ورما کو حمایت دے دی۔ 2022 کے سیاسی حالات کو دیکھتے ہوئے رضوان ظہیر خان کی گھر واپسی ہوگئی ہے۔ انہوں نے سماجوادی پارٹی کے قومی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ اکھلیش یادو سے مل کر سماجوادی پارٹی کی رکنیت حاصل کرلی۔

    رضوان ظہیر کے سماجوادی پارٹی میں آنے کے بعد ضلع کے سیاسی حالات میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ سال 2022 میں ہونے والے اترپردیش اسمبلی انتخابات میں بلرام پور کی تلسی پور سیٹ سے ان کی بیٹی زیبا رضوان کے لئے یہ سیاسی بساط بچھائی گئی ہے۔ اس وقت جبکہ اترپردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت ہے، تو بی جے پی اور سماجوادی پارٹی میں سیدھا مقابلہ ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ایک بات یہ ہے کہ تلسی پور اسمبلی سیٹ سے سماجوادی پارٹی سے ٹکٹ کی دعویداری کرنے والوں کی طویل فہرست ہے۔ اس میں کئی اہم لیڈران بھی شامل ہیں۔ ایسے میں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ سماجوادی پارٹی کسے امیدوار بناتی ہے اور کس پر بھروسہ ظاہر کرتی ہے۔ حالانکہ اتنی بات تو طے ہے کہ رضوان ظہیر کے سماجوادی پارٹی میں شامل ہونے سے ضلع میں سماجوادی پارٹی کو تقویت ضرور ملے گی۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: