ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

بہار اسمبلی انتخابات 2020 : ووٹ بیس کو مضبوط کرنے میں لگی آر جے ڈی ، اب دیا یہ نیا نعرہ

آر جے ڈی ترجمان مرتنجئے تیواری کا کہنا ہے کہ آر جے ڈی سماج کے سبھی طبقے کو حق دلانے کی لڑائی لڑتی رہی ہے ، جس میں اقلیتی سماج بھی شامل ہے ۔ لیکن پارٹی کو صرف یادو اور مسلم اتحاد کی پارٹی کہنا صحیح نہیں ہے ۔ آر جے ڈی اے ٹو زیڈ کی پارٹی ہے۔

  • Share this:
بہار اسمبلی انتخابات 2020 : ووٹ بیس کو مضبوط کرنے میں لگی آر جے ڈی ، اب دیا یہ نیا نعرہ
بہار اسمبلی انتخاب 2020 : ووٹ بیس کو مضبوط کرنے میں لگی آر جے ڈی ، اب دیا یہ نیا نعرہ

این پی آر اور این آر سی کے تعلق سے بہار اسمبلی میں قرار داد منظور ہونے کے بعد سے ہی آر جے ڈی اپنے لیڈر تیجسوی یادو کو اقلیتوں کا مسیحا بنانے کی حکمت عملی پر کام کررہی ہے ۔ حالانکہ آر جے ڈی نے مانا ہے کہ ان کی پارٹی اب یادو اور مسلم اتحاد کی پارٹی نہیں ہے بلکہ اے ٹو زیڈ کی پارٹی ہے۔ تیجسوی یادو کو سامنے رکھ کر آئندہ اسمبلی انتخاب لڑنے کی تیاری میں مصروف آر جے ڈی اقلیتی معاملات پر کچھ بولنا ضروری نہیں سمجھتی ہے ۔ ادھر سیاسی تجزیہ کار خورشید ہاشمی پارٹی کی اس حکمت عملی کو صحیح نہیں مانتے ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ لگاتار کئی سالوں سے آر جے ڈی مسلمانوں کے مسئلہ پر کھل کر بات کرنے سے پرہیز کرتی رہی ہے۔ پارٹی کا خیال ہے کہ این ڈی اے کے خلاف وہ اسمبلی انتخابات میں کھڑے ہوں گے اور ظاہر ہے کہ این ڈی اے کو سامنے دیکھ کر مسلمان بغیر کسی محنت کے آر جے ڈی کو ووٹ کریں گے ۔ یہ کتنا صحیح ہے یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا ، لیکن مسلم لیڈروں کو بھی پارٹی نے بیک فٹ پر رکھا ہے ۔ جبکہ برسر اقتدار پارٹی کا دعویٰ ہے کہ جس مسئلہ پر اپوزیشن سیاسی بساط بچھانے میں مصروف تھی ، وہ معاملہ ہی اب ختم ہوگیا ہے۔


آر جے ڈی اپنی کھوئی ہوئی اقتدار کی طاقت کو پھر سے واپس لانے کی مہم گزشتہ پندرہ سالوں سے لگاتار چلا رہی ہے ، لیکن بہار میں آر جے ڈی کو پوری طرح سے کامیابی نہیں مل سکی ہے۔ اب لالو پرساد یادو جیل میں ہیں اور پارٹی پر پوری طرح سے تیجسوی پرساد یادو کا قبضہ ہے ۔ پارٹی تیجسوی یادو کو لالو پرساد بنانے کی مہم تو چلا رہی ہے ، لیکن تیجسوی یادو کو لالو پرساد کی طرح مقبولیت حاصل نہیں ہے۔


ایسے میں اپوزیشن لیڈر نے کہہ دیا ہے کہ آر جے ڈی صرف یادو اور مسلم اتحاد کی پارٹی نہیں ہے بلکہ سماج کے سبھی طبقہ کی پارٹی ہے اور اسی مہم کو نئے انداز میں پارٹی کے لیڈرس زمین پر اتارنے میں لگے ہیں ۔ آر جے ڈی ترجمان مرتنجئے تیواری کا کہنا ہے کہ آر جے ڈی سماج کے سبھی طبقے کو حق دلانے کی لڑائی لڑتی رہی ہے ، جس میں اقلیتی سماج بھی شامل ہے ۔ لیکن پارٹی کو صرف یادو اور مسلم اتحاد کی پارٹی کہنا صحیح نہیں ہے ۔ آر جے ڈی اے ٹو زیڈ کی پارٹی ہے اور ان کے لیڈر تیجسوی یادو اسی نقطہ پر پارٹی کو آگے لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔


حالانکہ مسلمان آر جے ڈی کا بیس ووٹر رہا ہے ۔ پارٹی اندر سے مسلمانوں کو متحد کرنے کی مہم میں مصروف ہے ، لیکن سامنے پارٹی کو اے ٹو زیڈ کی پارٹی بتانے کی حکمت عملی بنائی گئی ہے ۔ اسمبلی میں این پی آر اور این آرسی سے متعلق پاس ہوئی قرار داد کو تیجسوی یادو کی کامیابی بتاتے ہوئے اس معاملہ سے اقلیتوں کو جوڑنے اور اس سے انتخابی فائدہ حاصل کرنے کی قواعد بھی جاری ہے ، لیکن صاف طور سے مسلمان کا نام نہیں لینے سے دانشور بھی پش وپیش میں مبتلا ہیں ۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آر جے ڈی نے مسلمانوں کے تعلق سے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ہے ۔

ادھر برسر اقتدار پارٹی بھی پوری طرح سے مسلم ووٹوں کو متحد کرکے پارٹی کی جھولی میں ڈالنے کی قواعد پر کام کرتی نظر آرہی ہے ۔ جے ڈی یو ایم ایل سی مولانا غلام رسول بلیاوی کا کہنا ہے کہ جس طرح سے نتیش کمار کی جانب سے این پی آر اور این آر سی پر تجویز پاس کی گئی ہے ، اس سے اپوزیشن کے پاس انتخاب کے لئے کوئی مدعا ہی نہیں بچا ہے۔
First published: Mar 01, 2020 10:45 PM IST