بی جے پی کے سیٹ فارمولے کو کشواہا نے کیامسترد، اب سیدھے طورپرہوگی وزیراعظم سے بات

کشواہا نے کہا کہ اگربات نہیں بنی تو30 نومبرکے بعد کوئی بھی فیصلہ لینے کےلئے وہ آزاد ہوں گے۔ بی جے پی کو جب ہماری ضرورت تھی، اس وقت ہم نے ساتھ دیا اب آگے سوچنا بی جے پی کا کام ہے۔

Nov 17, 2018 07:54 PM IST | Updated on: Nov 17, 2018 07:54 PM IST
بی جے پی کے سیٹ فارمولے کو کشواہا نے کیامسترد، اب سیدھے طورپرہوگی وزیراعظم سے بات

مرکزی وزیراورآرایل ایس پی سربراہ اوپیندر کشواہا: فائل فوٹو

مرکزی وزیراورراشٹریہ لوک سمتا پارٹی کے سربراہ اوپیندر کشواہا ابھی این ڈی اے کا حصہ بنے رہیں گے تاہم انہوں نے بی جے پی کے سیٹ شیئرنگ فارمولے کو مسترد کردیا ہے۔ پٹنہ میں نیشنل ایگزیکٹیو کی میٹنگ کے بعد انہوں نے اس کا اعلان کیا۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ سیٹ شیئرنگ پرآخری بات ہونے تک وہ این ڈی اے میں رہیں گے۔

کشواہا نے کہا کہ انہوں نے بی جے پی کے قومی صدرامت شاہ سے کئی بارملنے کی کوشش کی ہے، لیکن ملاقات نہیں ہوپائی ہے۔ اگرضرورت پڑی تووہ وزیراعظم سے مل کراپنا موقف رکھیں گے۔ تاہم انہوں نے پھردوہرایا کہ وہ بی جے پی کے سیٹ فارمولے کو مسترد کرتے ہیں۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ اگربات نہیں بنی تو 30 نومبرکے بعد کوئی بھی فیصلہ لینے کےلئے وہ آزاد ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب اپنی طرف سے کوشش نہیں کریں گے۔ صرف وزیراعظم سے مل کراپنی بات رکھیں گے۔

اوپیندرکشواہا نے کھل کرکہا کہ بی جے پی کے دوسیٹوں کی تجویزکو وہ مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بی جے پی کا تب  ساتھ دیا جب ان کو اس کی ضرورت تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کو سوچنا  ہے کہ ہمارے الگ ہونے سے این ڈی اے کو کتنا نقصان ہوگا، جس حالت میں یہ بات پہنچی ہے، اگریہی حالت رہی تواس کا فیصلہ ہمیں لینا پڑے گا۔

کشواہا نے کہا کہ ایگزیکٹیو کی میٹنگ میں تجویز منظورکی گئی ہے کہ نتیش کماراپنے نازیبا الفاظ کے لئے عوامی طورپرمعافی مانگیں۔ اوپیندرکشواہا نے کہا کہ بہارکے وزیراعلیٰ نے ان کے لئے جس طرح کی غیرپارلیمانی زبان کا استعمال کیا ہے، اس سے پارٹی کارکنان میں شدید ناراضگی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی کو نتیش کمارکے ذریعہ مسلسل توڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ایسی کوششوں کی پارٹی مذمت کرتی ہے۔ کشواہا نے یہ بھی کہا کہ آرایل ایس پی کے کارکنان پرمنصوبہ بند طریقے سے حملہ کیا جارہا ہے، جو قابل مذمت ہے۔

اوپیندرکشواہا نے کہا کہ وہ ہٹنے کا بہانا نہیں بنانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے واضح کردیا ہے کہ 30 نومبرکے بعد سب سامنے آجائے گا۔ بی جے پی اورایل جے پی لیڈروں کے ذریعہ تیجسوی یادو اورشرد یادو سے ان کی ملاقات پراٹھائے گئے سوال پرکشواہا نے کہا کہ کسی سے ملنے کا مطلب ہم کسی کے غلام نہیں ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:                این ڈی اے سے الگ ہونے کا فیصلہ کرسکتے ہیں اوپیندرکشواہا

Loading...