உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    دہلی: شدید گرمی کے باوجود رمضان میں روزوں کا اہتمام کررہے ہیں روہنگیائی مسلمان

    بدتر حالات کے باوجود وہ رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں  روہنگیائی کہتے ہیں بڑھتی ہوئی گرمی مشکلیں پیدا کررہی ہے ۔ لیکن ان کی حوصلے بلند ہے اور وہ روزے رکھنا جاری رکھیں گے

    بدتر حالات کے باوجود وہ رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں روہنگیائی کہتے ہیں بڑھتی ہوئی گرمی مشکلیں پیدا کررہی ہے ۔ لیکن ان کی حوصلے بلند ہے اور وہ روزے رکھنا جاری رکھیں گے

    بدتر حالات کے باوجود وہ رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں روہنگیائی کہتے ہیں بڑھتی ہوئی گرمی مشکلیں پیدا کررہی ہے ۔ لیکن ان کی حوصلے بلند ہے اور وہ روزے رکھنا جاری رکھیں گے

    • Share this:
      دہلی میں ان دنوں شدید گرمی پڑرہی ہے۔ گرمی کا پارہ 44 کے پار پہنچ چکا ہے۔اس شدید گرمی میں لوگوں کا رہنا دوبھرہورہا ہے اورروزے داروں کو پریشانی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے تو وہی دہلی میں رہ رہے روہنگیا پناہ گزینوں کے لئے حالات بہت خراب ہو گئے ہیں بڑھتی ہوئی گرمی نے روہنگیائی روزے داروں کے لئے اور سخت مشکلات پیداکردی ہے۔ دہلی کی چلچلاتی دھوپ اور گرم ہواؤں کا سامنا کرتی جھگی جھوپڑی کی بستی دہلی میں رہ رہے روہنگیائی مسلم پناہ گزینوں کی ہے۔
      اس بستی میں تقریباً 70 روہنگیائی خاندان آباد ہے۔ان جھونپڑیوں میں اس قدر گرمی ہوتی ہے کہ رہنا مشکل ہے یہاں پرتقریباً 300 روہنگیائی آباد ہے جن میں 100 سے زیادہ بھی شامل ہیں۔ بدتر حالات کے باوجود وہ رمضان کے روزے رکھ رہے ہیں روہنگیائی کہتے ہیں بڑھتی ہوئی گرمی مشکلیں پیدا کررہی ہے ۔ لیکن ان کی حوصلے بلند ہے اور وہ روزے رکھنا جاری رکھیں گے۔گرمی سے بچاؤ کا یہاں کوئی خاص انتظام تو نہیں لیکن بچاؤ کے لئے پھٹے پرانے کپڑے اور چادر سے سایہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

      پوری بستی میں دو ہینڈ پمپ نل ہے۔ جن کا استعمال پینے کے پانی سے لے کر گرمی راحت کے لئے یہ لوگ کرتے ہیں۔ یہاں پر بجلی کا کنکشن ضرورہے لیکن بجلی کم ہی آتی ہے۔ حالات تو اس طرح ہے کہ گرمی کی شکایت بچے کیا بڑے کیا تمام کرتے ہیں۔روہنگیا پناہ گزین برما میں 2010 میں شروع ہوئے فساد اور تشدد کے بعد ہندوستان آئے تھے۔لیکن یہ واپس نہیں جاسکے اب یہ لوگ چھوٹے موٹے کام کرکے زندہ رہنے کی کوشش کررہے ہیں۔ لیکن جن حالات میں زندگی گزررہی ہے وہ زندگی نہیں لگتی
      First published: