کانگریس کےلئےخون پسینہ بہایا، اس لئے پارٹی میں رہ کرسچائی کےلئے لڑوں گا: روشن بیگ

پردیش کانگریس کمیٹی کےذریعہ معطل کئے جانے پرروشن بیگ نےتشویش کا اظہارکرتے ہوئےکہا کہ سچ بات چند ریاستی لیڈروں کوہضم نہیں ہوپائی۔ اس لئےانہیں نشانہ بنایا گیا۔

Jun 19, 2019 10:14 PM IST | Updated on: Jun 20, 2019 06:47 PM IST
کانگریس کےلئےخون پسینہ بہایا، اس لئے پارٹی میں رہ کرسچائی کےلئے لڑوں گا: روشن بیگ

کانگریس سے معطل کئے گئے رکن اسمبلی روشن بیگ نےکہا ہے کہ وہ کانگریس کے سپاہی ہیں اورکانگریس میں رہ کر سچائی کے لئے لڑیں گے۔

Loading...

کرناٹک کے سابق وزیرآرروشن بیگ نے کہا کہ وہ کانگریس کے سپاہی ہیں، کانگریس کیلئے انہوں نےاپنا خون پسینہ بہایا ہے۔ لہٰذا وہ کانگریس پارٹی میں ہی رہیں گےاورسچائی کیلئے لڑیں گے۔ کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی نے پارٹی کےسینئرلیڈر، موجودہ رکن اسمبلی آر روشن بیگ کومعطل کردیا ہے۔ پارٹی مخالف سرگرمیوں کا الزام عائد کرتے ہوئے روشن بیگ کومعطل کیا گیا ہے۔

پردیش کانگریس کمیٹی کےاس اقدام پرروشن بیگ نے تشویش کا اظہارکیا۔ انہوں نےکہا کہ سچ بات چند ریاستی لیڈروں کو ہضم نہیں ہوپائی۔ اس لئےانہیں نشانہ بنایا گیا۔ روشن بیگ نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات کےنتائج سے قبل ہی انہوں نے چند ریاستی لیڈروں کی من مانی، بدانتظامی اورغلطیوں کواجاگرکیا تھا۔ ان کی اس تنقید کوتعمیری اورمثبت پہلوسے دیکھنے کے بجائے چند ریاستی لیڈروں نےان کے خلاف جان بوجھ کرکارروائی کی ہے۔ اس سلسلے میں وہ پارٹی کے سینئرلیڈرملیکا ارجن کھڑگےاوردیگرسے گفتگوکریں گے۔

 روشن بیگ کہا کہ انہوں نے کانگریس کیلئےاپنا خون پسینہ بہایا ہے، وہ کانگریس پارٹی کےسپاہی ہیں اورکانگریس میں ہی رہیں گے۔ انہوں نےکہا کہ اس سے قبل رمیش جارکی ہولی سمیت چند دیگرایم ایل اے نے پارٹی کے خلاف بیان بازی کی اورپارٹی کے مفاد کے خلاف کام کیا، لیکن اس پرپردیش کانگریس کمیٹی نےکیوں خاموشی اختیارکی؟ کیوں سچائی کا آئینہ بتانے والوں کے خلاف ہی کارروائی کی گئی؟۔

اس سے قبل کرناٹک کانگریس کی یونٹ کو تحلیل کردیا گیا۔ صرف صدر اورکارگزار صدر اپنے عہدے پربرقراررہیں گے۔ وہیں ایک روز قبل سابق ریاستی وزیرآرروشن بیگ کے خلاف کانگریس نے کارروائی کرتے ہوئےانہیں پارٹی مخالف سرگرمیوں کےالزام میں معطل کردیا۔ روشن بیگ نے کانگریس کے ریاستی لیڈروں کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کئے تھے۔ آل انڈیا کانگریس کمیٹی سے منظوری ملنے کے بعد کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی کی جانب سے کارروائی کی گئی ہے۔ اس سے قبل ریاستی کانگریس کے ذرائع کے مطابق روشن بیگ نے وینوگوپال کومسخرہ اور سدا رامیا کومتکبرقراردیا تھا۔ جس پرانہیں وجہ بتاؤ نوٹس جاری کی گئی ہے۔ تاہم روشن بیگ نے وجہ بتاونوٹس کونظراندازکرتے ہوئے اس کاجواب نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کانگریس کے لیڈران اپنی نکتہ چینی تیزکرتے ہوئے دیگر لیڈران کوبھی نشانہ بنارہے ہیں۔ روشن بیگ نے صدرپردیش کانگریس دنیش گنڈوراؤکو فلاپ ہیروقراردیا۔

Loading...