مقتول اخلاق کے خاندان کو 45 لاکھ معاوضہ دینے پر اکھلیش حکومت کے خلاف عدالت میں عرضی دائر

الہ آباد : دادری سانحہ میں اخلاق کے اہل خانہ کو وزیر اعلی اکھلیش یادو کی طرف سے 45 لاکھ روپے کا معاوضہ دیے جانے کا معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں پہنچ گیاہے ۔

Oct 08, 2015 12:04 AM IST | Updated on: Oct 08, 2015 12:04 AM IST
مقتول اخلاق کے خاندان کو 45 لاکھ معاوضہ دینے پر اکھلیش حکومت کے خلاف عدالت میں عرضی دائر

الہ آباد : دادری سانحہ میں اخلاق کے اہل خانہ کو وزیر اعلی اکھلیش یادو کی طرف سے 45 لاکھ روپے کا معاوضہ دیے جانے کا معاملہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں پہنچ گیاہے ۔

خیال رہے کہ سماجی کارکن ڈاکٹر نوتن ٹھاکر نے2013 میں پرتاپ گڑھ کے کنڈا قتل کے بعد ضیاء الحق کے کنبہ کو 50 لاکھ اور مقتول پردھان کے کنبہ کو 20-20 لاکھ روپے کا معاوضہ دینے کے بعد اتر پردیش حکومت کی طرف سے قتل کے مقدمات میں معاوضہ کے سلسلے میں ایک واضح پالیسی بنائے جانے کے لئے مفاد عامہ کی عرضی دائر کی تھی۔ عرضی پر سماعت کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے حکومت سے دو ہفتوں میں اپنی پالیسی واضح کرنے کا حکم دیا تھا۔

جواب میں سابق چیف سکریٹری (داخلہ) آر ایم شریواستو کی طرف سے پیش کردہ حلف نامے میں کہا گیا تھاکہ حکومت نے پہلے ہی پالیسیاں بنا رکھی ہیں ، جس کے تحت مخصوص رسکی کاموں میں سرکاری ملازم کی موت پر 15 لاکھ روپے کی رقم کی فراہمی کا بندوبست ہے۔ علاوہ ازیں وزیر اعلی صوابدیدی فنڈ سے غریب خاندان کے پیسہ کمانے والے رکن کی موت پر زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ امداد دینے کا انتظام ہے۔ تاہم وزیر اعلی اپنی صوابدید سے رقم زیادہ کرسکتے ہیں۔

ڈاکٹر ٹھاکر نے بدھ کو اسی عرضی کے ساتھ عدالت کے سامنے ایک اور درخواست داخل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس درخواست کے بعد بھی حکومت اب بھی من مانے طریقے سے معاوضہ دےرہی ہے جیسا کہ جگینندر سنگھ اور اخلاق سانحہ میں دیکھا گیا ہے ۔ عدالت اس معاملے میں جلد سماعت کرتے ہوئے وزیر اعلی کی سطح پر ہو رہی اس منمانی پر روک لگائے۔

Loading...

Loading...