உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آئین سب سے مقدم، 'ہندو راشٹر' میں مسلمانوں کے لئے بھی جگہ: موہن بھاگوت

    راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موهن بھاگوت

    راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موهن بھاگوت

    راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موهن بھاگوت نے آج کہا کہ ملک کا آئین ماہرین لوگوں کے ذریعہ آپسی رضامندی سے بنایا گیا ہے جسے آر ایس ایس ملک کے سب سے مقدم شعور کے بطور احترام کےساتھ قبول کرتا ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آر ایس ایس) کے سرسنگھ چالک موهن بھاگوت نے آج کہا کہ ملک کا آئین ماہرین لوگوں کے ذریعہ آپسی رضامندی سے بنایا گیا ہے جسے آر ایس ایس ملک کے سب سے مقدم شعور کے بطور احترام کےساتھ قبول کرتا ہے۔
      مسٹر موہن بھاگوت نے یہاں وگیان بھون میں 'مستقبل کا ہندوستان: راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا نقطہ نظر' کے موضوع پر منعقدہ ہندو کانفرنس کے اجلاس سے اپنے خطاب میں ہندوتو اور آئین پر اپنے خیالات کھل کر پیش کئے۔ انہوں نے کہا کہ جدید زندگی میں آئین ملک کےاجتماعی شعور کا رہنما عنصر ہے اور اس پرعمل کرنا سب کا فرض ہے۔
      انہوں نے بار بار کہاکہ سنگھ آزاد ہندوستان کی تمام علامتوں کو قبول کرتا ہے اور آئین کو بھی احترام دیتا ہے۔ کیونکہ سنگھ پریوار سمجھتا ہے کہ آئین کو ملک کے دانشور لوگوں نے اپنے اتفاق سے تیار کرکے آپسی رضامندی سے منظور کرایاہے۔
      انہوں نے آئین کے سلسلے میں آر ایس ایس کے خیالات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا کہ آئین کے دیباچے میں شہریوں کی ذمہ داری، رہنما اصول اور شہری حقوق بیان کئے گئے ہیں جو کبھی نہیں بدلتے ہیں۔ قانون بدلتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ آئین بھی اتنا لچکدار ہے کہ اس میں تبدیلی کا بھی حق دیا گیا ہے۔ لیکن یہ کام کرنے کا فورم پارلیمنٹ ہے اور اس کی تشریح عدالت کرتی ہے۔
      مسٹر بھاگوت نے آئین کے دیباچے کو انگریزی میں پڑھتے ہوئے کہا کہ اس تمہید میں 'سیکولر' اور 'سوشلسٹ' کے الفاظ کو بعد میں شامل کر دیا گیا ہے لیکن آر ایس ایس اس کو بھی قبول کرتا ہے۔ انہوں نے مذہب کی بنیاد پر امتیازی سلوک کے تصورات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کو دھرم اور دھم کے الفاظ ہندوستان کی دین ہے۔ اسے انگریزی کے لفظ ' رليجن' سے نہیں سمجھا جا سکتا ہے۔
      سرسنگھ چالک نے ہندو مذہب کو عالمی مذہب قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں تمام متنوع حالتوں کا اعتراف ہے اور ہمارے یہاں اپنے مخالف کو دبانے کا جذبہ نہیں ہوتا ہے۔ آر ایس ایس کے تئيں ہندو قوم کے خیال کو واضح کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ہندو راشٹر کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس میں مسلمان نہیں رہے گا، جس دن ایسا کہا جائے گا اس دن وہ ہندوتو نہیں رہے گا۔ ہندوتو تو عالمی كٹمبھ کی بات کرتا ہے"۔
      انہوں نے کہا کہ تمام انسانوں کی فلاح و بہبود میں اپنی فلاح و بہبود اور اپنی بہبود سے سب کی بہبود خیال کر کے ایسا زندگی جینے کا نظم و ضبط اور اور سب کے مفادات کی متوازن یگانگت کا نام ہندوتو ہے۔ ا یسے ہی ہندوستان سے نکلنے والے تمام فرقوں کےجو اجتماعی اقدار ہیں ، اسی کو ہندوتو کہا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں تمام رنگارنگیاں قابل قبول ہیں، اور ہندوستان کی یہی شناخت بنی ہے۔ یہ عالمی مذہب ہے اور ہندوستان میں اس کی تعمیر ہوئی ہے۔
      First published: