உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نوراتر پوجا کے دوران نان ویج کھانے سے متعلق JNU میں ہنگامہ، آپس میں بھڑگئیں طلبہ تنظیمیں

    نوراتر پوجا کے دوران نان ویج کھانے سے متعلق JNU میں ہنگامہ

    نوراتر پوجا کے دوران نان ویج کھانے سے متعلق JNU میں ہنگامہ

    JNU News: لیفٹ ونگ کی طلبہ تنظیم نے اے بی وی پی کے طلبا پر نان ویج کھانے سے روکنے کا الزام لگایا ہے۔ وہیں اے بی وی کے طلبہ نے رام نومی پوجا کے دوران ہاسٹل میں پوجا کرنے سے روکنے کا الزام لگایا ہے۔ وہیں معاملے کی شکایت جے این یو انتظامیہ اور مقامی پولیس کو دی گئی ہے۔ جبکہ جے این یو انتظامیہ معاملے کی جانچ کروانے میں مصروف ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: ملک کی قومی دارالحکومت دہلی میں ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ ایک بار پھر سے جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) میں طلبا کے دو گروپوں میں ہنگامہ ہوا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ نوراتر پوجا کے دوران نان ویج کھانا کھانے اور پروسنے کے مسئلے پر یہ ہنگامہ ہوا ہے۔ دہلی واقع جواہر لال نہرو یونیورسٹی (جے این یو) کے اندر لیفٹ ونگ اور ABVP کی طلبہ تنظیموں کے درمیان جھڑپ ہوئی ہے۔ اس سے یونیورسٹی انتظامیہ کے ہوش اڑگئے ہیں۔

      ذرائع کے مطابق، لیفٹ ونگ کی طلبہ تنظیم نے اے بی وی پی کے طلبا پر نان ویج کھانے سے روکنے کا الزام لگایا ہے۔ وہیں اے بی وی کے طلبہ نے رام نومی پوجا کے دوران ہاسٹل میں پوجا کرنے سے روکنے کا الزام لگایا ہے۔ وہیں معاملے کی شکایت جے این یو انتظامیہ اور مقامی پولیس کو دی گئی ہے۔ جبکہ جے این یو انتظامیہ معاملے کی جانچ کروانے میں مصروف ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      کورونا وائرس سے متعلق وزیر اعظم مودی نے کیا آگاہ، بولے- کووڈ ابھی گیا نہیں ہے، یہ شکل بدل رہا ہے

      طاقت کا استعمال کرکے اپنی مرضی چلانا چاہتی ہے اے بی وی پی

      وہیں لیفٹ ونگ کے طلبا نے الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اے بی وی پی کے غنڈوں نے اپنی نفرت کی سیاست اور تقسیم کرنے والے ایجنڈے کو پوری طرح سے ظاہر کرتے ہوئے آج کاویری ہاسٹل میں پُرتشدد ماحول بنا دیا۔ وہ میس کمیٹی کو رات کے کھانے کے مینو کو بدلنے اور سبھی طلبا کے لئے عام نان ویجیٹیرین اشیاء کو باہر کرنے پر مجبور کیا۔ ساتھ ہی حملے بھی کر رہے ہیں۔ مینو میں ویج اور نان ویج دونوں طلبا کے لئے غذائی اشیاء ہیں، جو اپنی انفرادی پسند کی بنیاد پر اس کا استعمال کرسکتے ہیں۔ تاہم اے بی وی پی طاقت اور غنڈہ گردی کا استعمال کرکے اپنی مرضی چلانا چاہتی ہے۔

      دائیں بازو کی ہندوتوا پالیسیوں کو ظاہر کرتا ہے

      لیفٹ ونگ کے طلبا نے کہا کہ جے ین یو اور اس کے ہاسٹل سبھی کے لئے جامع مقامات ہیں، نہ کہ کسی ایک خاص طبقے کے لئے۔مختلف جسمانی، سماجی اور ثقافتی پس منظر سے تعلق رکھنے والے طلباء کی کھانے کی مختلف ترجیحات ہیں، جن کا احترام کرنے کی ضرورت ہے اور انہیں پورا کیا جانا چاہئے۔ اے بی وی پی کا یہ کام جے این یو جیسے جمہوری اور سیکولر مقامات پر بالادستی قائم کرنے کے لئے اپنی خارجی سیاست اور دائیں بازو کی ہندوتوا پالیسیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ جے این یو کے طلبہ اس طرح کی تقسیم کرنے والی سازشوں کے آگے نہیں جھکیں گے اور ہم ان بار بار ہونے والے واقعات کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے جو کیمپس کی شمولیت کو خطرہ بناتے ہیں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: