உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lulu Mall Controversy:لولو مال میں پاٹھ کرنے اور نماز پڑھنے کا معاملہ،4زیرحراست،کملیش تیواری کی بیوی نظربند

    لولو مال میں نماز پڑھنے اور سندرکنڈ کا پاٹھ کرنے کو لے کر تنازعہ۔

    لولو مال میں نماز پڑھنے اور سندرکنڈ کا پاٹھ کرنے کو لے کر تنازعہ۔

    Lulu Mall Controversy: ہندو تنظیموں کی طرف سے بھدوہی کے سروجناتھ یوگی، جونپور کے کرشن کمار پاٹھک، اٹاوہ کے بھرتھانہ کے رہنے والے گورو گوسوامی، سندرکنڈ پڑھنے یہاں پہنچے تھے، جنہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔

    • Share this:
      Lulu Mall Controversy:لولو مال میں نماز ادا کرنے کے خلاف ہندو تنظیموں نے جمعہ کو سندرکنڈ پڑھنے کی کال دی تھی۔ شام دیر گئے تقریباً 7 بجے تین نوجوان سندر کنڈ پڑھنے وہاں پہنچے تو ہنگامہ شروع ہوگیا۔ وہیں ایک نوجوان نماز پڑھنے پہنچا تھا۔ جب مال میں کافی ہنگامہ ہوا تو پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر چار نوجوانوں کو حراست میں لے لیا۔ امن کی خلاف ورزی پر اس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے اسے جیل بھیج دیا گیا۔ وہیں، ہندو سماج پارٹی کی صدر اور ہندو لیڈر، کملیش تیواری کی اہلیہ کرن تیواری کو گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے، کرن تیواری نے ہی مال میں سندرکنڈ کا پاٹھ کرنے کی کال دی تھی۔

      اے ڈی سی پی سدرن راجیش کمار سریواستو کے مطابق جمعہ کی شام ہندو تنظیم کے کچھ نوجوان سندرکنڈ پڑھنے لولو مال پہنچے تھے۔ وہاں تعینات سیکورٹی اہلکاروں نے انہیں روکا تو ہنگامہ شروع ہو گیا۔ اتنے میں ایک نوجوان یہ کہہ کر اندر جانے لگا کہ میں نماز پڑھوں گا۔ اسے لے کر بھی کافی تنازعہ کھڑا ہوا۔ اطلاع ملنے پر سشانت گولف سٹی تھانے کی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔ پولیس نے موقع سے چار کو حراست میں لے لیا۔

      یہ بھی پڑھیں:

      آلٹ نیوز جرنلسٹ محمد زبیر کو بڑی راحت، پٹیالہ ہاوس کورٹ سے ملی ضمانت

      یہ بھی پڑھیں:
      Gauhar Chistri Arrest:بھیس ​​بدل کرپولیس اہلکاروں نےپڑھی نماز!، گوہر چشتی پرکیسے کساشکنجہ

      ہندو تنظیموں کی طرف سے بھدوہی کے سروجناتھ یوگی، جونپور کے کرشن کمار پاٹھک، اٹاوہ کے بھرتھانہ کے رہنے والے گورو گوسوامی، سندرکنڈ پڑھنے یہاں پہنچے تھے، جنہیں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ تینوں خود کو ہندو سماج پارٹی کے کارکن بتا رہے تھے۔ دوسری جانب نماز پڑھنے پر بضد سعادت گنج کے رہائشی ارشد علی کو پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ سب کو تھانے لے گئے۔ جہاں پر امن کی خلاف ورزی کی دفعہ کے تحت سب کے خلاف مقدمہ درج کر کے جیل بھیج دیا گیا۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: