ہندستانی کرنسی 67 روپے فی ڈالر ،دو سال کی نچلی سطح پر

دنیا کی دیگر اہم کرنسیوں کے مقابلے ڈالر کے کمزور پڑنے کے باوجود عالمی اقتصادی بحران کے درمیان اسٹاک مارکیٹوں میں بھاری کمی کی وجہ سے آج بین بینکنگ کرنسی مارکیٹ میں روپیہ تقریبا 84 پیسے گر کر تقریبا دو سال کی نچلی سطح 66.67 روپے فی ڈالر پر آ گیا۔

Aug 24, 2015 03:30 PM IST | Updated on: Aug 24, 2015 03:36 PM IST
ہندستانی کرنسی 67 روپے فی ڈالر ،دو سال کی نچلی سطح پر

ممبئی۔ دنیا کی دیگر اہم کرنسیوں کے مقابلے ڈالر کے کمزور پڑنے کے باوجود عالمی اقتصادی بحران کے درمیان اسٹاک مارکیٹوں میں بھاری کمی کی وجہ سے آج بین بینکنگ کرنسی مارکیٹ میں روپیہ تقریبا 84 پیسے گر کر تقریبا دو سال کی نچلی سطح 66.67 روپے فی ڈالر پر آ گیا۔

سابقہ موقع پر یہ 28 پیسے ٹوٹ کر 65.83 روپے فی ڈالر رہا تھا۔ چین کے اسٹاک مارکیٹ شنگھائی کمپوجٹ میں نو فیصد سے زیادہ کی کمی سے آج ہندستانی کرنسی 57 پیسے لڑھك کر 66.40 روپے فی ڈالر رہی۔ دوپہر سے پہلے کچھ سدھار ہوا تو یہ فرق 66.30 روپے فی ڈالر رہا۔لیکن دن کی سب سے زیادہ سطح کو چھونے کے بعد مسلسل نیچے آتے ہوئے ہندستانی کرنسی 66.67 روپے فی ڈالر تک آ گئی۔

Loading...

چار ستمبر 2013 کے بعد روپے کی یہ نچلی سطح ہے ۔ تاجروں نے بتایا کہ سینسیکس میں 1100 پوائنٹس سے زیادہ کی کمی کی وجہ سے روپیہ کمزور ہوا ہے. تاہم، دنیا کی دیگر اہم کرنسیوں کے مقابلے ڈالر کے ٹوٹنے سے اسے تھوڑی مدد ضرور ملی ہے، لیکن اس پر عالمی اسٹاک مارکیٹس اور چینی معیشت میں جاری غیر یقینی صورتحال کا دباؤ اتنا زیادہ ہے کہ یہ دو سال کی نچلی سطح تک اتر گیا۔ اس سے پہلے گزشتہ ہفتے روپیہ 82 پیسے   ٹوٹا تھا۔

ہندوستانی مارکیٹ میں جلد ہی استحکام آئے گا: جیٹلی

وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے آج کہاکہ شئیر بازار میں زبردست گراوٹ بین الاقوامی عنصر کے سبب آئی ہے اور حکومت اور ریزرو بینک اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

مسٹر جیٹلی نے آج یہاں نامہ نگاروں سے کہاکہ عالمی بازار میں گزشتہ چند دنوں سے زبردست اتھل پتھل نظر آرہی ہے جس کا اثر آج گھریلو بازار میں دیکھنے کو ملا ہے۔ عالمی بازار میں مختلف اسباب سے گراوٹ آرہی ہے جس سے ہندوستانی مارکٹ پر پر دباؤ بنا ہے لیکن اس کے لئے گھریلو عنصرذمہ دار نہیں ہیں۔

انہوں نے کہاکہ ہندوستانی معیشت تیزی سے بہتر ہورہی ہے اور عالمی بازار میں استحکام آنے پر ہندستانی مارکٹ بہتر ہوجائے گی۔ مسٹر جیٹلی نے کہاکہ سرکار او ر ریزرو بینک اس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس سے قبل کسٹم ڈیوٹی، ایکسائز ڈیوٹی اور سروس ٹیکس کے چیف کمشنروں اور ڈائرکٹر جنرلوں کے دو روزہ سیمنار کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ امریکی فیڈرل ریزرو کے ذریعہ سود کی شرحوں کے تعلق سے قیاس آرائیوں اور چینی کرنسی یوان کی قدر میں کمی وجہ سے عالمی بازار میں اتھل پتھل ہوئی ہے جس کا اثر گھریلو بازار پر بھی دیکھا جارہا ہے۔

Loading...