உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine میں پھنسے ہندوستانیوں کو نکالنے کیلئے مورچہ سنبھالیں گے مودی سرکار کے چار وزرا

    Ukraine میں پھنسے ہندوستانیوں کو نکالنے کیلئے مورچہ سنبھالیں گے مودی سرکار کے چار وزرا (ANI)

    Ukraine میں پھنسے ہندوستانیوں کو نکالنے کیلئے مورچہ سنبھالیں گے مودی سرکار کے چار وزرا (ANI)

    Ukraine-Russia War : یوکرین میں پھنسے ہندوستان کو بحفاظت واپس لانے کیلئے اب مودی سرکار نے نئی حکمت عملی بنائی ہے ۔ پیر کی صبح وزیر اعظم مودی نے ایک اعلی سطحی میٹنگ کی ، جس میں کئی مرکزی وزرا اور افسران شامل تھے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : یوکرین اور روس کے درمیان جنگ شباب پر ہے ۔ اس درمیان ہندوستان کی بھی تشویش بڑھ گئی ہے ، کیونکہ یوکرین میں ہزاروں کی تعداد میں ہندوستانی طلبہ پھنسے ہوئے ہیں ۔ ان کے ڈرانے والے ویڈیوز بھی سوشل میڈیا پر شیئر کئے جارہے ہیں ۔ یوکرین میں پھنسے ہندوستان کو بحفاظت واپس لانے کیلئے اب مودی سرکار نے نئی حکمت عملی بنائی ہے ۔ پیر کی صبح وزیر اعظم مودی نے ایک اعلی سطحی میٹنگ کی ، جس میں کئی مرکزی وزرا اور افسران شامل تھے ۔ میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ چار کابینی وزرا یوکرین کے پڑوسی ممالک میں جائیں گے ۔ ساتھ ہی وہ وہاں سے چلائے جارہے ہیندوستانیوں کی نکاسی مشن کو کوآرڈینیٹ کریں گے ۔

      سرکاری ذرائع نے آج کہا کہ کچھ مرکزی وزرا طلبہ کو نکالنے کیلئے یوکرین کے پڑوسی ممالک کا دورہ کرسکتے ہیں ۔ اس کام کیلئے باہر جانےو الے وزرا میں ہردیپ سنگھ پوری ، جیوترادتیہ سندھیا ، کرن ریجیجو اور وی کے سنگھ شامل ہیں ۔ مانا جاتا ہے کہ تقریبا 16000 طلبہ یوکرین میں بنکروں یا اپنے ہوسٹلوں کے تہ خانوں میں چھپے ہوئے ہیں ۔

      میٹنگ میں وزارت خارجہ کے کئی سینئر اہلکار بھی شامل تھے ، جنہوں نے وزیر اعظم مودی کو زمینی حالات کے بارے میں بتایا ۔ وزیر اعظم کو یہ بھی جانکاری دی گئی کہ یوکرین کے پڑوسی ممالک تک ہندوستانی طلبہ کو بس ، ٹرین یا دیگر وسائل سے لے جایا جارہا ہے ۔ وہاں سے خصوصی طیاروں کے ذریعہ ان کو ہندوستان لایا جارہا ہے ۔

      رومانیہ ، ہنگری ، سلوواک جمہوریہ اور پولینڈ جیسے پڑوسی ممالک سے طلبہ کو نکالنے پر کام کیا جارہا ہے ۔ حالانکہ کئی طلبہ ان ممالک کی سرحدوں پر پہنچنے کیلئے پیدل ہی نکل پڑے ہیں ۔

      یوکرین میں ہندوستانی سفارت خانہ نے ہفتہ کو ٹویٹر پر کہا کہ ہندوستانی شہریوں کو ہیلپ لائن نمبروں کا استعمال کرکے سرکاری افسران کے ساتھ تال میل بنائے بغیر کسی بھی سرحدی چوکی پر نہیں جانا چاہئے ۔ سفارت خانہ نے کہا تھا کہ بتائے بغیر سرحدی چوکیوں پر پہنچنے والوں کی مدد کرنا مشکل ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: