உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    یوکرین : کھانے کی لائن میں کھڑا تھا ہندوستانی طالب علم، روسی گولہ باری میں ہوئی موت، والد نے بتائی Inside Story

    یوکرین : کھانے کی لائن میں کھڑا تھا ہندوستانی طالب علم، روسی گولہ باری میں ہوئی موت، والد نے بتائی Inside Story

    یوکرین : کھانے کی لائن میں کھڑا تھا ہندوستانی طالب علم، روسی گولہ باری میں ہوئی موت، والد نے بتائی Inside Story

    russia ukraine war: نوین کے والد شیکھر گوڑا نے بتایا کہ ہر دن بیٹے سے دو یا تین مرتبہ بات ہوتی تھی ۔ منگل کی صبح ساڑھے آٹھ بجے تک وہ فلیٹ میں ہی تھا ، اس کے بعد وہ کھانے کیلئے پاس کے کرانہ اسٹور پر گیا تھا ۔ وہاں لائن لمبی تھی ، اس لئے اس کو وہاں کھڑا رہنا پڑا ۔ اس اسٹور کے پاس ہی گورنر ہاوس تھا ، روسی فوج نے اچانک فضائی حملہ کیا اور گورنر ہاوس کو اڑا دیا ۔ اسی گولہ باری میں نوین کی موت ہوگئی ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : یوکرین کے خارکیف میں منگل کی صبح کرناٹک کے رہنے والے طالب علم نوین شیکھرپا کی موت ہوگئی ۔ وہ کھانے کیلئے کرانے کی ایک دکان کے باہر قطار میں کھڑا تھا ۔ نوین نے فلیٹ سے باہر نکلنے سے پہلے واپنے والد شیکھر سے بات کی تھی ۔ وہ خارکیف نیشنل میڈیکل یونیورسٹی میں میڈیکل فائنر ایئر کا طالب علم تھا ۔ وہ کرناٹک کے ہاویری کا رہنے والا تھا ۔ نوین کے والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا ہر دن دو تین مرتبہ فون پر بات کرتا تھا ۔

      نوین کے والد شیکھر گوڑا نے بتایا کہ ہر دن بیٹے سے دو یا تین مرتبہ بات ہوتی تھی ۔ وہ ہندوستان لوٹنے کی تیاری کرچکا تھا ۔ وہ فائنل ایئر کا طالب علم تھا اور خار کیف کے پاش علاقہ کے فلیٹ میں رہتا تھا ۔ منگل کی صبح ساڑھے آٹھ بجے تک وہ فلیٹ میں ہی تھا ، اس کے بعد وہ کھانے کیلئے پاس کے کرانہ اسٹور پر گیا تھا ۔ وہاں لائن لمبی تھی ، اس لئے اس کو وہاں کھڑا رہنا پڑا ۔ اس اسٹور کے پاس ہی گورنر ہاوس تھا ، روسی فوج نے اچانک فضائی حملہ کیا اور گورنر ہاوس کو اڑا دیا ۔ اسی گولہ باری میں نوین کی موت ہوگئی ۔



      خارکیف میں اسٹوڈینٹ کوآرڈینیٹر پوجا پہراج نے بتایا کہ نوین کھانا لینے کیلئے باہر نکلا تھا ، وہ فلیٹ میں رہتا تھا ۔ ادھر ہوسٹل میں تو طلبہ کے کھانے کا بندوبست کیا گیا ہے ، لیکن جو باہر رہتے ہیں ، وہ اپنے کھانے کا انتطام خود کرتے ہیں ۔ نوین کرانہ اسٹور کے باہر لائن میں کھڑا تھا اور اسی درمیان فضائی حملہ ہوا تو ہزاروں گولیاں آسمان سے برسنے لگیں ۔ یہ گولیاں نوین کو لگیں اور اس کی موت ہوگئی ۔

      نوین کے موبائل سے اس کی اطلاع یوکرین کی ایک خاتون نے دی ۔ اس نے موبائل پر بتایا کہ جس شخص کا یہ موبائل ہے ، اس کی لاش کو مردہ گھر لے جایا جارہا ہے ۔ خاتون نے اس کا موبائل فوٹو اٹھایا تھا ۔ پوجا پہراج خارکیف میں فائنل ایئر کی میڈیکل طالبہ ہیں ، نے یہ جانکاری این ڈی ٹی وی کے ساتھ شیئر کی ۔

      وہین نوین کے والد شیکھر نے بتایا کہ ہندوستانی سفارت خانہ نے رابطہ کیا ہے ۔ وہیں کرناٹک کے وزیر اعلی بوممئی نے بھی بات کی ۔ کرناٹک کے وزیر اعلی نے کہا کہ اپنے بیٹے کو کھونے والے شیکھر دکھ سے گھٹ رہے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: