உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Russia Ukraine war: ہندوستان چاہ کر بھی روس کی مخالفت کیوں نہیں کرسکتا؟ 10 پوائنٹس میں جانئے اس کی وجوہات

    Russia Ukraine war: ہندوستان چاہ کر بھی روس کی مخالفت کیوں نہیں کرسکتا؟ 10 پوائنٹس میں جانئے اس کی وجوہات

    Russia Ukraine war: ہندوستان چاہ کر بھی روس کی مخالفت کیوں نہیں کرسکتا؟ 10 پوائنٹس میں جانئے اس کی وجوہات

    Russia Ukraine Crisis : روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران ہندوستان کے رخ کو لے کر ملک اور بیرون ملک میں کافی بحث ہورہی ہے اور اس کی وجہ ہندوسان کا دونوں میں سے کسی کی بھی کھل کر حمایت نہیں کرنا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کے دوران ہندوستان کے رخ کو لے کر ملک اور بیرون ملک میں کافی بحث ہورہی ہے اور اس کی وجہ ہندوسان کا دونوں میں سے کسی کی بھی کھل کر حمایت نہیں کرنا ہے ۔ ہندوستان نے یوکرین بحران کے درمیان روس کے صدر ولادیمیر پوتن سے فون پر بات کی اور جنگ کو فورا ختم کرنے کی اپیل کی ۔ وہیں دوسری طرف ہندوستان نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں روس کے یوکرین پر حملے کے خلاف پیش کی گئی تجویز پر ووٹنگ سے بھی خود کو الگ رکھا ۔ ایک طرف جہاں پورا یوروپ اور مغربی ممالک روس کے خلاف ہوچکے ہیں تب بھی ہندوستان اپنی صورتحال کو جوں کا توں برقرار رکھے ہوا ہے ۔ ایسے میں سوالات اٹھتے ہیں کہ آخر وہ کون سی وجہ ہے جس کی وجہ سے ہندوستان چاہ کر بھی روس کے خلاف نہیں جاسکتا ؟ ۔

      آئیے جانتے ہیں 10 اہم پوائنٹس

      1- ہندوستان بیک وقت دونوں طرف اپنی حمایت کا اظہار نہیں کر سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے پورے معاملہ میں کسی ملک کا نام نہیں لیا اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہندوستان روس کے خلاف نہیں جائے گا۔ اگر امریکہ روس پر پابندیاں لگاتا ہے تو ہندوستان کے لئے روس سے ہتھیار درآمد کرنے میں کچھ چیلنجز پیدا ہو سکتے ہیں۔ امریکہ ہندوستان پر دباؤ بڑھا سکتا ہے کہ وہ روس سے ہتھیار درآمد نہ کرے۔ اس کا براہ راست اثر ہندوستان اور روس کے درمیان ایس 400 میزائل دفاعی نظام کے سودے پر پڑ سکتا ہے ۔

      2- یہی نہیں روس پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ہندوستان کو دفاعی نظام کے سیکٹر میں مزید کئی جھٹکے لگ سکتے ہیں ۔ اس سے مشترکہ طور پر ڈیولپ کیا جانے والا براہموس کروز میزائل کی برآمد ، ایک ساتھ 4 جنگی جہاز بنانے کا معاہدہ، روس سے Su-MKI اور MiG-29 جنگی طیاروں کی خریداری پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بنگلہ دیش کے روپ پور میں جوہری پاور پلانٹ کی تعمیر کا ہندوستان اور روس کا مشترکہ منصوبہ بھی کھٹائی میں پڑ سکتا ہے ۔

       

      یہ بھی پڑھیں : ماڈل نے روسی فوج کو دیا Shocking Offer، پوتن کی ہدایت نہ ماننے والے فوجیوں کے ساتھ کرے گی سیکس


      3- حالانکہ انڈو پیسفک خطے میں چین کی مداخلت کو روکنے کیلئے امریکہ کو اسٹریٹجک طور پر ہندوستان کے ساتھ کی ضرورت ہے ۔ ایسے میں ہندوستان اور امریکہ دونوں ہی ملک کسی بھی حالت میں ایک دوسرے سے دور ہونے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہیں گے ۔ چین کی بڑھتی بادشاہت کی وجہ سے امریکہ ہر محاذ پر ہندوستان کا ساتھ چاہتا ہے۔ کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ سے بھی امریکی پابندیوں سے ہندوستان کو چھوٹ مل سکتی ہے ۔

      4- روس اس وقت ہندوستان کو اسلحہ فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ گھریلو دفاعی مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے کے ہندوستان کے فیصلے کی وجہ سے روس سے درآمد ہونے والے دفاعی سازوسامان کا حصہ یقینی طور پر کم ہوا ہے جو 70 فیصد سے کم ہو کر 49 فیصد پر آ گیا ہے ، اس کے باوجود روس اس وقت ہندوستان کا سب سے بڑا ہتھیار سپلائر ۔ ہندوستان کے ذریعہ درآمد کئے جانے والے دفاعی سازوسامان کا 60 فیصد روس سے آتا ہے ، ایسے میں ہندوستان کسی بھی صورت میں روس کے خلاف جا کر اپنے تعلقات کو خراب نہیں کرنا چاہے گا ۔

       

      یہ بھی پڑھیں : آدھی ٹنکی تیل لے کر یوکرین کو بم سے اڑانے چلے تھے روسی فوجی، راستے میں دشمنوں سے ہی مانگا پٹرل! اور پھر...


      5- روس اس وقت ہندوستان کو ایس 400 میزائل ڈیفنس سسٹم جیسے آلات فراہم کر رہا ہے، جو چین اور پاکستان کے خلاف ہندوستان کے لئے اسٹریٹجک طور پر بھی کافی اہم ہے، یہی وجہ ہے کہ ہندوستان نے امریکی پابندیوں کے خطرے کے باوجود اس معاہدے پر اپنی سرگرمی دکھائی ہے ۔

      6- ہندوستان کے لئے روس کے ساتھ تعلقات اور اس سے ملے تعاون کی دہائیوں پرانی تاریخ کو نظر انداز کرنا مشکل ہے۔ روس ماضی میں کشمیر کے معاملہ پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو ہندوستان کے حق میں ویٹو کر چکا ہے تاکہ ہندوستان کو اسے دو طرفہ مسئلہ بنائے رکھنے میں مدد مل سکے۔

      7- ہندوستان یوکرین کی موجودہ صورتحال سے شاید مطمئن نہ ہو لیکن وہ اپنا موقف بدل کر یوکرین کے حق میں نہیں جا سکتا۔ ہندوستان اپنی دفاعی اور جغرافیائی سیاسی ضروریات کی وجہ سے ایسا کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ یوکرین میں پھنسے ہزاروں ہندوستانی شہریوں کو نکالنے کا چیلنج بھی ہندوستان کو درپیش ہے، جن میں زیادہ تر طلبہ ہیں۔ جنگ زدہ یوکرین سے ہندوستانیوں کو بحفاظت اور کامیابی کے ساتھ نکالنے کے لئے ہندوستان کو جنگ میں شامل دونوں ممالک کی جانب سے سیکورٹی کی یقین دہانیوں کی ضرورت ہے۔ ایسے میں اگر ہندوستان کا رخ کسی ایک ملک کی طرف جھکا ہوا نظر آتا ہے تو وہاں موجود ہندوستانی شہریوں کے لیے پریشانی کھڑی ہوسکتی ہے اور ہندوستان اپنے شہریوں کی حفاظت کو خطرے میں ڈالنے کا رسک مول نہیں لینا چاہے گا ۔

       

      یہ بھی پڑھیں : ان 5 ہتھیاروں کے دم پر دنیا کو ڈرا رہا ہے روس، امریکہ کے پاس بھی نہیں ہے ان کا جواب


      8- حالانکہ ہندوستان اس معاملہ پر بہتر پوزیشن میں ہے ، کیونکہ یہ ان چند ممالک میں سے ایک ہے ، جن کے امریکہ اور روس دونوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے بات کی ہے اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی واشنگٹن میں حکام سے بات چیت کی ہے۔ اس کے علاوہ مودی نے یوکرین کے صدر زیلینسکی سے بھی بات چیت کی ہے ۔

      9- اگر واشنگٹن اور اس کے یوروپی اتحادی روس پر سخت پابندیاں لگانا جاری رکھتے ہیں تو ہندوستان کے لئے روس کے ساتھ کاروبار جاری رکھنا مشکل ہو سکتا ہے۔ حالانکہ امریکہ اس وقت ہندوستان کے موقف کو سمجھ رہا ہے ، لیکن اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں کہ وہ ایسا کرنا جاری رکھے گا۔ اگر امریکہ کا رویہ تبدیل ہوتا ہے تو ایس 400 کی خریداری پر بھی بحران کے بادل چھا سکتے ہیں۔

      10- وہیں اس پورے تنازع کے درمیان اگر روس کو ہندوستان کے موقف میں تبدیلی نظر آتی ہے تو وہ بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی کرکے ہندوستان پر دباؤ ڈال سکتا ہے جس میں ہندوستان کے روایتی حریف پاکستان کے خلاف ایک پلیٹ فارم پر کھڑا ہونا بھی شامل ہے ۔ روس نے گزشتہ دو دہائیوں میں امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے بڑھتے تعلقات کو تسلیم کیا ہے ، لیکن یوکرین کا معاملہ الگ ہے اور روس نہیں چاہتا کہ ہندوستان یوکرین کے ساتھ کسی ملک کے ساتھ کھڑا ہو۔ مجموعی طور پر یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ نے ہندوستان کی خارجہ پالیسی کیلئے مصیبتوں کا پہاڑ کھڑا کر دیا ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: