உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Ukraine Crisis:یوکرین-روس کے درمیان جاری کشیدگی پر ہندوستان کے موقف کی ماسکو نے کی تعریف

    وزیراعظم نریندر مودی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن۔ (فائل فوٹو)

    وزیراعظم نریندر مودی اور روس کے صدر ولادیمیر پوتن۔ (فائل فوٹو)

    Ukraine Crisis: ماسکو کا یہ بیان مشرقی یورپ میں واقع ملک (یوکرین) کو لے کر نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (NATO) کے رکن ممالک اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں ہندوستان کے موقف پر سامنے آیا ہے۔ نئی دہلی میں روسی سفارت خانے(Russian Embassy) نے کہا، ’ہم ہندوستان کے متوازن، اصولی اور آزاد موقف کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

    • Share this:
      نئی دہلی/ماسکو:روس نے جمعہ کو یوکرین کے ساتھ جاری تعطل(Ukraine Crisis) کے درمیان ہندوستان(India) کے متوازن اور آزاد موقف کی تعریف کی۔ ماسکو کا یہ بیان مشرقی یورپ میں واقع ملک (یوکرین) کو لے کر نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (NATO) کے رکن ممالک اور روس کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر میں ہندوستان کے موقف پر سامنے آیا ہے۔ نئی دہلی میں روسی سفارت خانے(Russian Embassy) نے کہا، ’ہم ہندوستان کے متوازن، اصولی اور آزاد موقف کا خیرمقدم کرتے ہیں۔‘

      یوکرین بحران پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقل نمائندے ٹی ایس تیرومورتی(TS Tirumurti) نے جمعرات کو دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کی اپیل کی۔ دہلی میں وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باغچی (Arindam Bagchi)نے بھی کہا کہ ہندوستان ہمیشہ سے ہی کشیدگی کو فوری طور پر کم کرنے اور مسلسل سفارتی بات چیت کے ذریعے بحران کو حل کرنے کا حامی رہا ہے۔

      یوکرین سرحد پر ایک لاکھ فوجیوں کی تعیناتی
      روس نے یوکرین کی سرحد کے قریب تقریباً ایک لاکھ فوجیوں کو تعینات کیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بحری مشقوں کے لیے جنگی بحری جہاز بھی بھیج رہا ہے جس سے نیٹو ممالک میں یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ روس یوکرین پر حملہ کر سکتا ہے۔ لیکن روس نے یوکرین پر حملے کے کسی بھی منصوبے کی تردید کی ہے۔ غور طلب ہے کہ سیٹلائٹ سے حاصل ہونے والی کچھ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ روسی فوج یوکرین کا محاصرہ کر رہی ہے۔

      حالانکہ، ان تصاویر کی بھی اپنی حد ہوتی ہے۔ میکسار جیسی کمپنیوں کے کمرشیل سیٹلائٹس سے لی گئی تصاویر میں یوکرین کے ساتھ سرحد کے ساتھ روسی فوجی، ہوائی اڈے اور توپ خانے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ جنوبی بیلاروس اور کریمیا میں بھی فوجیوں کے جمع ہونے کی سرگرمیاں منظر عام پر آئی ہیں۔ جس پر روس نے 2014 میں یوکرین سے قبضہ کیا تھا۔ ان تصاویر سے امریکا اور دیگر مغربی ممالک کے حکام کا یہ دعویٰ درست معلوم ہوتا ہے کہ روسی افواج اس پوزیشن میں ہیں جہاں سے وہ یوکرین پر حملہ کر سکتی ہیں۔

      جارحانہ کارروائی کے ہوں گے سنگین نتائج: امریکہ
      اسی دوران امریکی نائب صدر کملا ہیرس نے جمعے کو میونخ سیکیورٹی کانفرنس میں اپنی پہلی دو طرفہ ملاقات میں کہا کہ امریکا یوکرین میں روسی اشتعال انگیزی کے بارے میں سفارتی بات چیت کا خیرمقدم کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا کہ روس کی جانب سے جارحانہ اقدام کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے درمیان ہندوستان نے یوکرین کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ ایئر انڈیا نے جمعہ کو کہا کہ وہ اگلے ہفتے ملک اور یوکرین کے درمیان تین پروازیں چلائے گی۔ ایئر انڈیا نے کہا کہ یہ پروازیں 22، 24 اور 26 فروری کو یوکرین بھیجی جائیں گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: