ہوم » نیوز » عالمی منظر

روس کے اسپوتنک وی کو ماہرپینل کی جانب سے ملا کلیئرنس، ہندوستان میں جلدہی ہوگا تیسری ویکسین کا استعمال، یہاں جانئے پانچ اہم باتیں

ہندوستان کے ریگولیٹر ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا (Regulator Drugs Controller General of India) کے ذریعہ منظوری مل جاتی ہے تو اسپوتنک وی (Sputnik V) ملک میں استعمال ہونے والی تیسری ویکسین بن جائے گی۔

  • Share this:
روس کے اسپوتنک وی کو ماہرپینل کی جانب سے ملا کلیئرنس، ہندوستان میں جلدہی ہوگا تیسری ویکسین کا استعمال، یہاں جانئے پانچ اہم باتیں
روس کے اسپوتنک وی کو ماہرپینل کی جانب سے ملا کلیئرنس

روس نے عالمی وبا کورونا وائرس (Covid-19) کے خلاف تیار کردہ اسپوتنک وی ویکسین (Sputnik V vaccine) کو کچھ شرائط کے ساتھ ہنگامی استعمال کے لئے پیر کو ہندوستان سے منظوری حاصل کرلی ہے۔یہ فیصلہ ہندوستان کے سنٹرل ڈرگ اسٹینڈرڈ کنٹرول آرگنائزیشن (Central Drugs Standard Control Organization (CDSCO)) کی سبجیکٹ ایکسپرٹ کمیٹی (Subject Expert Committee (SEC)) نے ایک ایسے وقت میں کیا ہے، جب ملک میں انفیکشن کے کیسوں میں ریکارڈ اضافے دیکھنے میں آرہے ہیں۔اس وقت ہندوستان میں دو ویکسین کو کورونا وائرس کے خلاف استعمال کیا جارہا ہے۔ جس میں سے پہلی ویکسین پونے میں واقع سیرم انسٹی ٹیوٹ آف انڈیا (Serum Institute of India) کی کووی شیلڈ (Covishield) ویکسین ہے۔ جو کہ آکسفورڈ۔ آسٹرازینیکا کے تعاون کے ذریعہ تیار کیا گیا اور دوسری ویکسین حیدرآباد میں واقع بھارت بائیوٹیک (Bharat Biotech) کی کو۔ ویکسن (Covaxin) ہے۔ اگر ہندوستان کے ریگولیٹر ڈرگس کنٹرولر جنرل آف انڈیا (Regulator Drugs Controller General of India) کے ذریعہ منظوری مل جاتی ہے تو اسپوتنک وی (Sputnik V) ملک میں استعمال ہونے والی تیسری ویکسین بن جائے گی۔


ملک میں مختلف ریاستوں نے مرکز سے شکایت کی ہے کہ ان کی ریاستوں میں ویکسین کی قلت ہورہی ہے۔ ایسے میں مرکز نے اس طرح کی پہل کی ہے۔اس سے قبل سرکاری ذرائع نے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ رواں برس کی تیسرے سہ ماہی کے اختتام تک ہندوستان پانچ اضافی مینوفیکچررز سے کووڈ ۔19 ویکسین وصول کرے گا۔



کورونا وائرس کے خلاف اسپوتنک وی ویکسین کے بارے میں پانچ اہم باتیں کیاہے؟

۔1۔ روس کے براہ راست سرمایہ کاری فنڈ (Russian Direct Investment Fund) نے ویکسین کی مقدار کی تیاری کے لئے حیدرآباد میں قائم ڈاکٹر ریڈیز لیبارٹریز (Dr Reddy’s Laboratories)، ہیٹرو بائیوفرما (Hetero Biopharma)، گلینڈ فارما (Gland Pharma)، اسٹیلس بائیوفرما (Stelis Biopharma) اور ویچرو بایوٹیک (Vichrow Biotech) سمیت متعدد ہندوستانی دوا ساز کمپنیوں کے ساتھ رابطہ اور شراکت کی ہے۔

۔2۔ روس نے بڑے پیمانے پر کلینیکل ٹرائلز سے بہت پہلے گذشتہ برس ہی اگست میں اسپتونک وی کا اندراج کیا تھا۔ جس کو ویکسین کے تیز رفتار عمل پر متعدد ماہرین کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ تاہم بعد میں ہونے والے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ کووڈ۔19 انفیکشن کی روک تھام کے لئے یہ ویکسین محفوظ اور موثر ہے۔

۔3۔ اطلاعات کے مطابق یہ ویکسین انسانی اڈینووائرل ویکٹرز (human adenoviral vectors) پر مبنی ہے۔ یہ ٹیکے لگانے کے دوران دو شاٹس کے لیے دو مختلف ویکٹر استعمال کرتا ہے۔ جس میں طویل مدت تک قوت مدافعت حاصل ہوگی۔ واضح رہے کہ اڈینووائرل ویکٹر کو انجینئرڈ وائرس (engineered viruses) بھی کہا جاتا ہے۔ ہمارے جسم میں داخل ہونے کے بعد ہمارے خلیے اسے پڑھیں گے اور کورونا وائرس کے اسپائک پروٹین (spike proteins) بنائیں گے۔ اس طرح ویکسین سے ہمارے جسم میں کورونا وائرس کے خلاف بہتر انداز میں قوت مدافعت پیدا ہوگی۔

۔4۔ روس میں واقع جمالیا اسٹی ٹیوٹ (Gamaleya Institute) کے ذریعہ تیار کردہ اسپوتنک - وی کا کلینیکل ٹرائل کے تیسرے مرحلہ کے تحت افادیت کی شرح 91.6 فیصد ظاہر ہوئی ہے۔ جس میں روس کے 19,866 رضاکاروں کے اعداد و شمار شامل ہیں۔

۔5۔ عالمی منڈیوں میں ویکسین کی دو خوراکوں کی قیمت 10 ڈالر سے بھی کم ہے۔ اس کو 2 سے 8 ڈگری درجہ حرارت پر ذخیرہ کر کے رکھا جاسکتا ہے۔

توقع کی جاتی ہے کہ اسپوتنک وی کووڈ۔19 وبا کے خلاف ’جنگ‘ میں ایک بہت بڑا ہتھیار‘ ثابت ہوگا۔ ملک میں اس کی پیداواری صلاحیت 850 ملین خوراک ہے۔

دریں اثنا ہندوستان میں پیر کو گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کووڈ۔19کے 1,68,912 تازہ کیس ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ جو سات دنوں میں چھٹویں بار ریکارڈ اضافہ ہوا۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 13, 2021 09:44 AM IST