உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    مظفرپور میں رام نومی کے دوران مسجد پر زبردستی لہرایا گیا زعفرانی پرچم، Policeنے کی کارروائی

    بہار میں سماج دشمن عناصر کی ناپاک حرکت۔

    بہار میں سماج دشمن عناصر کی ناپاک حرکت۔

    معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پہلے پرچم کو ہٹایا گیا اور پھر پورے معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی۔ واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ایس پی جینت کانت نے کہا کہ ضلع میں دو مقامات پر ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے۔ دونوں واقعات میں پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔

    • Share this:
      مظفرپور: بہار کے مظفر پور ضلع میں رام نومی کے موقع پر کچھ سماج دشمن عناصر کی طرف سے مساجد پر زبردستی بھگوا پرچم لہرانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ واقعہ ضلع کے بروراج تھانہ علاقے کے تحت آسواری بنجریا اور محمد پور کا ہے، جہاں کچھ لوگوں نے تہوار کے موقع پر مذہب کی آڑ میں سماجی امن کو خراب کرنے کی کوشش کی۔ شرپسندوں کی اس حرکت کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔

      ایف آئی آر درج کر کے کارروائی میں مصروف
      یہاں اس طرح کا ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولس حرکت میں آگئی اور اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرکے کارروائی شروع کردی۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق اتوار کو رام نومی جلوس کے دوران کچھ سماج دشمن عناصر نے کتھیا تھانہ علاقہ کی آسواری بنجریا پنچایت اور ضلع کے بروراج تھانہ علاقہ کے محمد پور پنچایت میں مسجد پر بھگوا جھنڈا لگا دیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      RamNavami کے جلوس کے دوران 4 ریاستوں میں فرقہ وارانہ جھڑپیں، گجرات میں ایک کی موت

      حالانکہ، معاملے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے پہلے پرچم کو ہٹایا گیا اور پھر پورے معاملے کی تحقیقات شروع کی گئی۔ واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے ایس پی جینت کانت نے کہا کہ ضلع میں دو مقامات پر ایسا ہی واقعہ پیش آیا ہے۔ دونوں واقعات میں پولیس نے ایف آئی آر درج کر لی ہے۔ ملزمان کی کی جاچکی ہے۔ مزید کارروائی کی جا رہی ہے۔ ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ضرور کی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی چوکسی کی وجہ سے کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      نوراتر پوجا کے دوران نان ویج کھانے سے متعلق JNU میں ہنگامہ، آپس میں بھڑگئیں طلبہ تنظیمیں

      غور کرنے والی بات یہ ہے کہ مظفر پور ضلع میں دو مقامات کا ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہا تھا، جس میں کچھ سماج دشمن عناصر مسجد پر بھگوا جھنڈے لگاتے نظر آئے تھے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: