உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    WHO نے کوویکسین کو کوویکس پروگرام سے ہٹایا- بھارت بائیوٹیک نے کہا- ہماری ویکسین محفوظ اور اثردار

    بھارت بائیوٹیک نے اپنی ویکسین کو بتایا محفوظ اور اثردار۔

    بھارت بائیوٹیک نے اپنی ویکسین کو بتایا محفوظ اور اثردار۔

    کمپنی نے فی الحال Covaxin کی پیداوار کو Slow کر دیا ہے۔ اس کی وجہ حکومت کو دی جانے والی خوراک کی تعداد بتائی گئی ہے۔

    • Share this:
      حیدرآباد: ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (WHO) نے اپنے Covax پروگرام سے Covaxin کو ہٹا دیا ہے۔ ہفتہ کو ڈبلیو ایچ او کی جانب سے کی گئی اس کارروائی کے بعد ویکسین بنانے والی کمپنی بھارت بائیوٹیک نے اب وضاحت جاری کی ہے۔ کمپنی نے کہا – Covaxin کووڈ سے بچانے کے لیے پوری طرح محفوظ اور موثر ہے۔ ویکسینیشن سرٹیفکیٹ ان لوگوں کے لیے بھی درست ہیں جنہوں نے Covaxin کی خوراک لی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      چین میں ایک سال بعد Covid19 سےپہلی موت! امریکہ بھرمیں ہوسکتاہےلاک ڈاؤن اور ہندوستان میں؟

      یہاں، کمپنی نے فی الحال Covaxin کی پیداوار کو Slow کر دیا ہے۔ اس کی وجہ حکومت کو دی جانے والی خوراک کی تعداد بتائی گئی ہے۔

      فیسیلیٹی آپٹیمائزیشن کے لئے سست کیا پروڈکشن
      حیدرآباد میں بھارت بائیوٹیک کے ترجمان نے کہا – کمپنی سہولت کو بہتر بنانے کے لیے Covaxin کی پیداوار کو سست کر رہی ہے۔ آنے والے وقت میں، ہم اسے دوبارہ اپ ڈیٹ شدہ انداز میں لائیں گے۔ اس کے لیے کمپنی اپنی دیکھ بھال، مینوفیکچرنگ کے عمل اور اسٹوریج کی سہولیات کو بڑھانے پر توجہ دے گی۔ پچھلے سال کے دوران مسلسل پیداوار کی وجہ سے، کوویکسین کی تیاری کے لیے تمام موجودہ سہولیات کو اپ ڈیٹ کر دیا گیا تھا۔

      یہ بھی پڑھیں:
      بھارت بائیوٹیک نے کوویکسین پروڈکشن کو عارضی طور پر کم کرنے کا کیا اعلان، یہ ہے وجہ

      یہ بھی پڑھیں:
      Omicron variant سب کو ہوگا، booster dose بھی نہیں روک پائےگی، میڈیکل ایکسپرٹ کا بڑا انکشاف

      بھارت بائیوٹیک نے کہا – کوویکسین کے معیار پر کسی بھی وقت سمجھوتہ نہیں کیا گیا ہے۔ کووڈ-19 کی ہنگامی صورت حال میں روک تھام کے لیے کوویکسین سب سے نمایاں دوا تھی۔ کمپنی نے ویکسین بنانے کے لیے تمام معیارات کو سخت رکھا تھا۔ کمپنی نے واضح کیا کہ وہ عالمی طلب کے مطابق بہتری اور ترقی کا عمل جاری رکھے گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: