یوپی : وزیر اعلی کے امیدوار پر بی جے پی میں گھمسان ، اب ساکشی مہاراج نے کہا : میں بھی ہوں وزیر اعلی عہدے کا دعویدار

ساکشی مہاراج نے آج انکشاف کیا کہ بی جے پی کے وزیر اعلی امیدوار کے دعویداروں کی فہرست میں ان کا بھی نام ہے۔

May 28, 2016 11:49 PM IST | Updated on: May 28, 2016 11:49 PM IST
یوپی : وزیر اعلی کے امیدوار پر بی جے پی میں گھمسان ، اب ساکشی مہاراج نے کہا : میں بھی ہوں وزیر اعلی عہدے کا دعویدار

ایٹہ : اترپردیش میں 2017 میں ہونے والے ریاستی انتخابات کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی)کے وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار اعلان کرنے کے تعلق سے جاری قیاس آرائیوں کے درمیان رکن پارلیمان ساکشی مہاراج نے آج انکشاف کیا کہ بی جے پی کے وزیر اعلی امیدوار کے دعویداروں کی فہرست میں ان کا بھی نام ہے۔ ساکشی مہاراج نے آج یہاں کہا کہ اتر پردیش میں اسمرتی ایرانی، آدتیہ ناتھ، مہیش شرما، دنیش شرما اور ورون گاندھی کے ساتھ وہ بھی وزیر اعلی کے عہدے کے امیدوار کی دوڑ میں شامل ہیں۔

وزیر اعلی کے عہدے کی دوڑ کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ جب گرام پردھان، ضلع پنچایت رکن، اور رکن اسمبلی بننے کی دوڑ لگ سکتی ہے تو وزیراعلی کے لئے مقابلہ ہونے میں کیا برائی ہے ۔ اپنے دعوے کے مضبوط ہونے کی دلیل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں دیگر پسماندہ طبقات (او بی سی) کے 60 فیصد ووٹر ہیں. پارٹی اگر اس طبقے سے وزیر اعلی کا چہرہ پیش کرتی ہے تو اس سے ریاست کا اقتدار حاصل کرنے میں کافی آسانی ہوگی.

اناؤ کے ایم پی سے پوچھا گیا کہ پارٹی اگر انہیں وزیر اعلی کے عہدے کا امیدوار بناتی ہے تو وہ تیار ہیں. اس پر انہوں نے کہا کہ پارٹی کے ہر حکم پر عمل کرنے کے لئے وہ ہمیشہ تیار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کلیان سنگھ کے دور اقتدار میں بی جے پی نے اترپردیش میں 65 نشستیں جیتی تھیں. اس لئے یہاں انتہائی پسماندہ طبقے کا وزیر اعلی کا امیدوار ہونا چاہئے. بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی) کے پاس دلت چہرے کے طور پر مایاوتی ہیں وہیں ایس پی کے وزیر اعلی اکھلیش یادو او بی سی کی نمائندگی کرتے ہیں. ایسے میں اگر بی جے پی انتہائی پسماندہ ذات میں سے کوئی چہرہ لے کر نہیں آتی ہے تو اس سے نقصان کے امکانات زیادہ رہیں گے۔

Loading...

Loading...