ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامع مسجد پرمتنازعہ بیان کو لیکرساکشی مہاراج کو ملی بم سے اڑانے کی دھمکی، راجناتھ سے مانگی زیڈ پلس سیکورٹی

اناؤ میں ممبر پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے ایک اجلاس میں جامع مسجد توڑنے پر مورتیاں نکلنے کا متنازعہ بیان دیا تھا جس کے بعد انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔

  • Share this:
جامع مسجد پرمتنازعہ بیان کو لیکرساکشی مہاراج کو ملی بم سے اڑانے کی دھمکی، راجناتھ سے مانگی زیڈ پلس سیکورٹی
دہلی کی جامع مسجد پرساکشی مہاراج نے متنازعہ بیان پر فون پر ملی دھمکی

اناؤ سے بی جے پی ممبر پارلیمنٹ ساکشی مہاراج کے جامع مسجد توڑنے والے متنازعہ بیان کے بعد انہیں دھمکیاں ملنی شروع ہو گئی ہیں۔ ساکشی مہاراج کو دو بار کال کے ذریعے بم سے اڑانے کی دھمکی دی گئی ہے۔ فی الحال ساکشی مہاراج نے وزیرداخلہ راجناتھ سنگھ کو خط لکھ کر سکیورٹی مانگی ہے۔


آپ کو بتا دیں کہ گزرے 23 اور 24 نومبر کو بھی ساکشی مہاراج کو فون پر جان سے مارنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ فون کرنے والے نے خود کو ڈی ۔ کمپنی سے جڑا ہوا بتایا تھا۔ جس کے بعد ساکشی مہاراج کی تحریر پر صدر کوتوالی علاقے میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔


ساکشی مہاراج کی جانب سے راجناتھ  سنگھ کو لکھے گئے خط میں پیر کی دوپہر 12:35 اور شام 06:49 بجے فون پر ملی دھمکی کا ذکر کیا گیا ہے۔ خط میں موبائل نمبر 09579862096  اور 61762745  دھمکی دینے کی بات لکھی گئی ہے۔ فون کرنے والے نے خود کو مہاراشٹر کے اکولا کا رہنے والا محمد انصار بتایا ہے۔ ساکشی مہاراج کا متنازعہ بیان : دہلی کی جامع مسجد کو توڑو ، مورتیاں نہ نکلیں تو مجھے پھانسی پر لٹکا دینا


letter-new.jpg sakshi
ساکشی مہاراج نے وزیر داخلہ کو خط لکھ کر زیڈ پلس سکیورٹی مانگی ہے۔ وہیں ساکشی مہاراج منگل کو راجناتھ سنگھ سے مل بھی سکتے ہیں۔ اناؤ میں ممبر پارلیمنٹ ساکشی مہاراج نے ایک اجلاس میں جامع مسجد توڑنے پر مورتیاں نکلنے کا متنازعہ بیان دیا تھا جس کے بعد انہیں دھمکیاں مل رہی ہیں۔

First published: Nov 27, 2018 08:54 AM IST