ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

ہندوستانی آرمی سے متعلق فیس بک پرمتنازعہ پوسٹ کرنے بعد آسام میں مصنف کی گرفتاری

گوہاٹی ہائی کورٹ کے دو وکیل امی ڈیکا باروہ اور کنگکنا گوسوامی کے بعد پیر کو اس واقعے کو منظرعام پر لایا گیا تھا ، اس کے بعد انہوں نے دیس پور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی تھی جس میں عدالت سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس مصنف کے خلاف سخت کارروائی کرے جس نے اپنے ریمارکس پیش کیے۔

  • Share this:
ہندوستانی آرمی سے متعلق فیس بک پرمتنازعہ پوسٹ کرنے بعد آسام میں مصنف کی گرفتاری
علامتی تصویر

چھتیس گڑھ میں ماؤ نوازوں کے ایک ہلاکت خیز حملے میں 24 فوجی اہلکار ہلاک ہونے کے بعد آسام کے شہر گوہاٹی سے تعلق رکھنے والے مصنف کو سیکیورٹی فورسز سے متعلق فیس بک پوسٹ کرنے پر منگل کے روز گرفتار کیا گیا۔48 سالہ آسامی مصنف سکھا سرمہ (Sikha Sarma) کو فیس بک پر اپنی پوسٹ کے بعد مقتول فوجیوں کے حوالے سے استعمال ہونے والی اصطلاح ’شہید‘ پر سوالات کے بعد کافی رد عمل ظاہر کیا گیا۔اپنی پوسٹ میں مصنف نے میڈیا سے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ’ملازمت کرنے والے پیشہ ور افراد کی وفات کے بعد شہدا کا لفظ استعمال کر کے لوگوں کے جذباتیت برانگیختہ نہ کریں‘۔


علامتی تصویر
علامتی تصویر


انڈین ایکسپریس کے مطابق مصنف نے فیس بک پوسٹ میں لکھا کہ تنخواہ دار پیشہ ور افراد جو ملازمت کے دوران مرتے ہیں انہیں شہید نہیں قرار دیا جاسکتا۔ اس منطق کو دیکھتے ہوئے محکمہ بجلی کے ملازمین پر بھی شہید کا لیبل لگانا چاہیے۔ میڈیا لوگوں کو جذباتی نہ بنائیں‘۔گوہاٹی ہائی کورٹ کے دو وکیل امی ڈیکا باروہ اور کنگکنا گوسوامی کے بعد پیر کو اس واقعے کو منظرعام پر لایا گیا تھا ، اس کے بعد انہوں نے دیس پور پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی تھی جس میں عدالت سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس مصنف کے خلاف سخت کارروائی کرے جس نے اپنے ریمارکس پیش کیے۔


ان کا کہنا تھا کہ اس پوسٹ کے ذریعہ قوم کی خدمت کے جذبے پر زبانی حملہ کیا گیا، فوجیوں کو بدنام کیا گیا اور جوانوں کی قربانیوں کو محض ’رقم کمانے کی گفتگو‘ تک محدود کردیا۔گوہاٹی پولیس کمشنر مننا پرساد گپتا نے دی انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ سرما کو بغاوت کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے اور 8 اپریل کو عدالت میں پیش کیا جائے گا۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 07, 2021 09:44 PM IST