உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سلمان خورشید کی کتاب پر غلام نبی آزاد نے کہا : ہندوتوا کا جہادی اسلام سے موازنہ غلط

    سلمان خورشید کی کتاب پر غلام نبی آزاد نے کہا : ہندوتوا کا جہادی اسلام سے موازنہ غلط

    سلمان خورشید کی کتاب پر غلام نبی آزاد نے کہا : ہندوتوا کا جہادی اسلام سے موازنہ غلط

    Congress Leader Salman Khurshid Book Controversy: غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہندوتوا کا جہادی اسلام سے موازنہ کرنا غلط ہے ۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم بھلے ہی ایک سیاسی نظریہ کے طور پر ہندوتوا سے متفق نہ ہوں ، لیکن اس کو آئی ایس آئی ایس اور جہادی اسلام سے جوڑنا حقیقت میں غلط اور مبالغہ آرائی ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : کانگریس لیڈر سلمان خورشید کی نئی کتاب پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ہے ۔ جہاں ایک جانب اس معاملہ میں سلمان خورشید کے خلاف پولیس میں شکایت کی گئی ہے تو وہیں کانگریس کے سینئر لیڈر بھی خورشید کی اس بات سے کنارہ کشی اختیار کرنے لگے ہیں ۔ کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے اس کو مبالغہ آرائی قرار دیا ہے اور کہا کہ یہ موازنہ پوری طرح سے غلط ہے ۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہندوتوا کا جہادی اسلام سے موازنہ کرنا غلط ہے ۔ غلام نبی آزاد نے کہا کہ ہم بھلے ہی ایک سیاسی نظریہ کے طور پر ہندوتوا سے متفق نہ ہوں ، لیکن اس کو آئی ایس آئی ایس اور جہادی اسلام سے جوڑنا حقیقت میں غلط اور مبالغہ آرائی ہے ۔

      سلمان خورشید نے اپنی نئی کتاب سن رائز اوور ایودھیا ، نیشن ہڈ ان آور ٹائمس میں کہا ہے کہ ہندتوا سادھو سنتوں کے سناتن اور قدیم ہندو مذہب کو الگ کررہا ہے ، جو ہر طرح سے دہشت گرد تنظیم آئی ایس آئی ایس اور بوکوحرام جیسی جہادی تنظیموں کی طرح ہے ۔ انہوں نے ہندتو سے متاثر کانگریس لیڈروں کی تنقید بھی کی ۔

      ساتھ ہی کانگریس لیڈر نے اس کتاب میں ایودھیا فیصلہ کو لے کر سپریم کورٹ کی تعریف بھی کی ہے ۔ سلمان خورشید نے ایودھیا پر آئے فیصلہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ اب اس مقام پر عظیم مندر بنایا جانا چاہئے ۔

      سلمان خورشید نے لکھا کہ کانگریس میں ایک ایسا طبقہ ہے جنہیں اس بات پر افسوس ہے کہ پارٹی کی شبیہ اقلیتوں کی حمایت کرنے والی پارٹی کی بن گئی ہے ۔ یہ لوگ ہماری لیڈرشپ کی جینئو دھاری شناخت کی وکالت کرتے ہیں ۔ ان لوگوں نے ایودھیا پر آئے فیصلہ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے یہ اعلان کردیا کہ اب اس مقام پر عظیم مندر بنایا جانا چاہئے ، لیکن سپریم کورٹ کی جانب سے دئے گئے حکم کے اس حصے کو نظر انداز کردیا جس میں مسجد کیلئے بھی زمین دینے کی ہدایت دی گئی تھی ۔

      بتادیں کہ خورشید کے خلاف دہلی کے وکیل وویک گرگ نے پولیس میں شکایت درج کروائی ہے ۔ دہلی پولیس کمشنر نے سلمان خورشید کے خلاف شکایت درج کرلی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: