உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    فرقہ وارانہ ماحول میں اکیڈمی ایوارڈ واپس کرنا صحیح:رشدی، اکیڈمی ایوارڈ واپس کرنا سیاست سے متاثر: چیتن بھگت

    نئی دہلی۔  بکر انعام یافتہ مشہور مصنف سلمان رشدی نے کنڑ ادیب ایم ایم كلبرگي کے قتل اور ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں اضافہ اور ان پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کے خلاف مختلف ادیبوں کی طرف سے ساھتیہ اکیڈمی ایوارڈ اواپس کرنے کی حمایت کی ہے۔

    نئی دہلی۔ بکر انعام یافتہ مشہور مصنف سلمان رشدی نے کنڑ ادیب ایم ایم كلبرگي کے قتل اور ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں اضافہ اور ان پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کے خلاف مختلف ادیبوں کی طرف سے ساھتیہ اکیڈمی ایوارڈ اواپس کرنے کی حمایت کی ہے۔

    نئی دہلی۔ بکر انعام یافتہ مشہور مصنف سلمان رشدی نے کنڑ ادیب ایم ایم كلبرگي کے قتل اور ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں اضافہ اور ان پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کے خلاف مختلف ادیبوں کی طرف سے ساھتیہ اکیڈمی ایوارڈ اواپس کرنے کی حمایت کی ہے۔

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:

      نئی دہلی۔  بکر انعام یافتہ مشہور مصنف سلمان رشدی نے کنڑ ادیب ایم ایم كلبرگي کے قتل اور ملک میں فرقہ وارانہ واقعات میں اضافہ اور ان پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کے خلاف مختلف ادیبوں کی طرف سے ساھتیہ اکیڈمی ایوارڈ اواپس کرنے کی حمایت کی ہے۔ مسٹر رشدی نے ٹویٹر پر آج کہا کہ، ’’میں ساہتیہ اکیڈمی کی مخالفت کرنے والی نين تارا سہگل اور دیگر مصنفین کی حمایت کرتا ہوں۔ یہ ہندوستان میں اظہار رائے کی آزادی پر خطرے کا وقت ہے‘‘۔


      اکیڈمی ایوارڈ واپس کرنا سیاست سے متاثر: چیتن بھگت


      دوسری طرف ، نوجوان مصنف چیتن بھگت نے ادیبوں کی طرف سے اکیڈمی ایوارڈ لوٹانے کے معاملے پر تنقید کرتے ہوئے اسے سیاست سے حوصلہ افزاقرار دیا ہے۔


      مسٹر بھگت نے مائیکروبلاگنگ کی ویب سائٹ ٹویٹر پر آج لکھا، "کسی ایوارڈ کو قبول کرنا اور پھر اسے واپس کرنا جیوری کی توہین ہے۔ یہ سیاسی ہتھکنڈہ ہے۔ "


      ملک میں بگڑتے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی وجہ سے مصنفین کے اکیڈمی ایوارڈ کی واپسی کو مسٹر بھگت نے انتہا قرار دیتے ہوئے سوالیہ لہجے میں کہا "اگر آپ موجودہ حکومت کو پسند نہیں کرتے ہیں تو آپ اپنے پاسپورٹ واپس کر رہے ہیں؟ آپ کالج کی ڈگریاں واپس کر رہے ہیں؟ تو صرف ایک انعام ہی کیوں؟

      First published: