ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم ولادت کے موقع پر ممبئی میں سماج وادی پارٹی نے پیش کی خراج عقیدت

ممبئی کے ناگپاڑہ جنکشن پر واقع اوپن ایمپی تھیٹرگارڈن مولانا آزاد میورل پر ایک شاندار تقریب کا انعقاد کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی نے مولانا آزاد کو خراج عقیدت پیش کیا۔ پروگرام میں موجود حاضرین نے سماج وادی پارٹی لیڈر رئیس شیخ کے ذریعے مولانا ابوالکلام آزادکی یاد میں بنایا گئے میورل (نقشِ دیوار) کی تعمیر کو قابل تقلید عمل قرار دیا۔

  • Share this:
مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم ولادت کے موقع پر ممبئی میں سماج وادی پارٹی نے پیش کی خراج عقیدت
مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم ولادت کے موقع پر ممبئی میں سماج وادی پارٹی نے پیش کی خراج عقیدت

ممبئی: سماج وادی پارٹی نے ممبئی کے ناگپاڑہ جنکشن پر مجاہدِ آزادی، ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابولکلام آذاد کی 132 ویں یوم پیدائش تقریب کا انعقاد کیا۔ ناگپاڑہ جنکشن پر واقع اوپن ایمپی تھیٹر گارڈن مولانا آزاد میورل پر ایک شاندار تقریب کا انعقاد کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی نے مولانا آذاد کو خراج عقیدت پیش کیا۔ پروگرام میں موجود حاضرین نے سماج وادی پارٹی لیڈر رئیس شیخ کے ذریعے مولانا ابوالکلام آزاد کی یاد میں بنائے گئے میورل (نقشِ دیوار) کی تعمیرکو قابل تقلید عمل قرار دیتے ہوئے تہذیبی و ثقافتی ورثے کی بقا اور تحفظ کیلئے بہترین عمل قرار دیا گیا۔ پروگرام میں موجود معروف شخصیات نے اس بات کا اعتراف کیا کہ سماج وادی پارٹی لیڈر رئیس شیخ کی کاوشوں اورکوششوں کے نتیجے میں ممبئی کے ناگپاڑہ جنکشن پر مولانا آذاد اور مرزا غالب پر نقشِ دیوار کی تعمیر عمل میں آئی ہے۔


اس موقع پر معروف صحافی سرفراز آرزو، سعید حمید اور سماجی کارکن اور خادمِ اردو فرید خان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں اعزاز سے بھی نوازا گیا۔ سماج وادی پارٹی لیڈر رئیس شیخ نے مولانا آذاد اور مرزاغالب کے نقشِ دیوار کی تعمیر میں تینوں شخصیات کی مدد اور خدمات کا اعتراف کیا۔ کارپوریٹر اور سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ابوالکلام آذاد کو خراج عقیدت پیش کی اور رئیس شیخ نے کہا کہ مولانا آذاد کی لیڈر شپ ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔ مولانا آزاد کی جدوجہدِ آذادی اور قوم کی تعمیر میں ان کے رول کو نسل نو تک پہنچانے کیلئے مولانا آزاد کے نقشِ دیوار کی تعمیر کی گئی ہے۔ صحافی سرفراز آرزو نے مولانا آذاد اور مزرا غالب میورل کی طرز پرخلافت ہاوس کی دیوار پر بھی خلافت تحریک کی تاریخی اہمیت پر مشتمل نقشِ دیوار کی تعمیر کا مطالبہ کیا۔ جس پر رئیس شیخ جلد کام شروع کرنے کا وعدہ بھی کیا۔


مولانا ابوالکلام آزاد کی یاد میں بنایا گئے میورل (نقشِ دیوار) کی تعمیرکو قابل تقلید عمل قرار دیتے ہوئے تہذیبی و ثقافتی ورثے کی بقا اور تحفظ کیلئے بہترین عمل قرار دیا گیا۔
مولانا ابوالکلام آزاد کی یاد میں بنایا گئے میورل (نقشِ دیوار) کی تعمیرکو قابل تقلید عمل قرار دیتے ہوئے تہذیبی و ثقافتی ورثے کی بقا اور تحفظ کیلئے بہترین عمل قرار دیا گیا۔


تقریب سے خطاب کرتےہوئے سرفراز آرزو نے کہا کہ مولانا ابوالکلام آذاد کئی خوبیوں کے مالک تھے۔ انہوں نے مسلمانوں کو پاکستان ہجرت کرنے سے بھی روکنے کی کوشیش کی۔ مولانا آذاد سے اپنی زبان سے محبت کے متعلق ایک واقع کا ذکر کرتے ہوئے سرفراز آرزو نے کہا کہ مولانا آذاد کسی وائس رائے سے ملاقات کرنے کیلئے پہنچے وائس رائے اور مولانا آزاد کے درمیان گفتگو کا ترجمہ کرنے والے مترجم نے کچھ غلطی کردی۔ اس مولانا آزاد نے اس مترجم تصحیح کی۔ انگریز وائس رائے نے مولانا آزاد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کو جب اتنی اچھی زبان آتی ہے، تو مترجم کی ضرورت کیا ہے۔ مولانا آزاد نے جواب دیا کہ آپ جب دس ہزار میل کاسفر طے کرنے کے باوجود اپنی زبان کو نہیں چھوڑ سکتے، تو میں کیوں اپنے ملک میں رہے کر اپنی زبان کو چھوڑوں۔ اردو جرنلسٹ ایسوسی ایشن کے صدر معروف صحافی خلیل زاہد نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مولانا آذاد نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ ان کا کیا ذاتی فائدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے ہمیشہ قوم کے مفاد کو ترجیح دی۔

سعید حمید نے کہا کہ مولانا آزاد نے باقاعدہ طور پر کسی اسکول میں تعلیم حاصل نہیں کی۔ ان تعلیم گھر میں والد کی نگرانی میں ہوئی۔ مولانا نے للت کلاں اکیڈمی جیسے ادارے کی بنیاد ڈالی، جو صرف آرٹ اور موسیقی کیلئے ہے۔ اردوں کارواں کے صدر فرید خان نے کہاکہ مولانا آزاد نے آخر تک تقسیم ہند کو قبول نہیں کیا۔ حالانکہ نہرو اور گاندھی تقسیمِ ہند پر رضا مند ہوگئے تھے۔ فرید خان نے کہا کہ آج ہمارے چوک چوراہے ہمارے اکابرین کے نام پر ہیں، لیکن نسل نو اس سے بے خبر ہے۔ اس پورے پروگرام میں نظامت کے فرائض اردو گگن کے روح رواں مشیر انصاری نے بحسن و خوبی انجام دیئے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Nov 11, 2020 11:59 PM IST