உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’موت کی سزا‘پر سپریم کورٹ بنائے گی گائیڈلائنس،5 ججوں کی بنچ کو سونپا گیا معاملہ

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    سپریم کورٹ (فائل فوٹو)

    Supreme Court: چیف جسٹس یویوللت اور جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس سدھانو دھولیا کی بنچ نے اس مدعے پر سپریم کورٹ کی مختلف بنچوں کی جانب سے جاری کیے گئے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      Supreme Court: سپریم کورٹ نے موت کی سزا سنانے کے لئے ایک گائیڈلائنس بنانے کے معاملے کو پانچ ججوں کی بنچ کے حوالے کردیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کن حالات میں اور کب موت کی سزا کم کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ اس ماملے پر اب پانچ ریاستوں کی بنچ فیصلہ کرے گی۔

      عدالت نے کہا کہ یہ حکم الگ الگ فیصلوں کے درمیان اختلاف اور توجہ دینے کے وجوہات ضروری ہیں۔ ایسے سبھی معاملوں میں جہاں موت کی سزا ایک متبادل ہے، کم کرنے والے حالات کو ریکارڈ میں رکھنا ضروری ہے۔ چیف جسٹس یویوللت اور جسٹس ایس رویندر بھٹ اور جسٹس سدھانو دھولیا کی بنچ نے اس مدعے پر سپریم کورٹ کی مختلف بنچوں کی جانب سے جاری کیے گئے مختلف فیصلوں کا حوالہ دیا۔

      5 ججوں کی بنچ کرے گی موت کی سزا کا فیصلہ
      بنچ کی مثالوں میں بچن سنگھ بمقابلہ ریاست پنجاب کا 1983 کا فیصلہ شامل ہے، جہاں سپریم کورٹ نے اپنے اکثریتی فیصلے میں سزائے موت کے آئینی جواز کو برقرار رکھا، اس شرط پر کہ یہ صرف غیر معمولی معاملات میں ہی عائد کی جا سکتی ہے۔ عدالت کا موقف ہے کہ سزائے موت سناتے وقت پانچ ججوں پر مشتمل بڑی بینچ کا ہونا ضروری ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      اعظم خان کی جوہر یونیورسٹی پر پہنچا بلڈوزر، کھدائی میں کروڑوں کی صفائی مشین ملنے کا دعویٰ

      یہ بھی پڑھیں:
      ’سر تن سے جدا،تیرے56ٹکڑے ہوں گے‘، الور میں خاتون بی جے پی لیڈر کو ملی دھمکی

      سپریم کورٹ نے اس معاملے میں خود سے نوٹس لیا تھا اور کہا تھا کہ یہ یقینی بنانے کی فوری ضرورت ہے کہ ان جرائم کے لئے سزا کم کرنے والے حالات پر سماعت کے سطح پر ہی غور کیا جانا چاہیے، جن میں موت کی سزا کا پروویژن ہے۔ یو یوللت کی صدارت والی بنچ نے گزشتہ سماعت (17 اگست) کے دوران کہا تھا کہ عدالتیں مناسب طور سے راحت کے لئے سزا دینے سے پہلے معاملے کو ملتوی کرسکتی ہیں۔ ایک بڑی بنچ کا ہونا ضروری ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: