உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کسانوں کے رخ میں آیا بدلاو ، SKM نے 29 نومبر کے 'Parliament March' کو کیا ملتوی

    کسانوں کے رخ میں آیا بدلاو ، SKM نے 29 نومبر کے 'Parliament March' کو کیا ملتوی ۔ تصویر : ANI

    کسانوں کے رخ میں آیا بدلاو ، SKM نے 29 نومبر کے 'Parliament March' کو کیا ملتوی ۔ تصویر : ANI

    Samyukt Kisan Morcha,Farmers Agitation, Farm Laws Repeal: زرعی قوانین (Agricultural Laws) کے خلاف آندولن کررہے کسانوں نے اپنے رخ میں نرمی دکھائی ہے ۔ سنیکت کسان مورچہ نے پارلیمنٹ سرمائی اجلاس (Parliament Winter Session) کے پہلے دن پارلیمنٹ تک ٹریکٹر ریلی کا اعلان کیا تھا ، لیکن اب اس کو لے کر ایس کے ایم (Samyukt Kisan Morcha) کی طرف سے ایک بڑا فیصلہ لیا گیا ہے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : زرعی قوانین (Agricultural Laws) کے خلاف آندولن کررہے کسانوں نے اپنے رخ میں نرمی دکھائی ہے ۔ سنیکت کسان مورچہ نے پارلیمنٹ سرمائی اجلاس (Parliament Winter Session) کے پہلے دن پارلیمنٹ تک ٹریکٹر ریلی کا اعلان کیا تھا ، لیکن اب اس کو لے کر ایس کے ایم (Samyukt Kisan Morcha) کی طرف سے ایک بڑا فیصلہ لیا گیا ہے ۔ سنیکت کسان مورچہ نے 29 نومبر کو ہونے والی ٹریکٹر ریلی کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس بات کی جانکاری سنیکت کسان مورچہ کے لیڈر درشن پال سنگھ نے دی ۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ ہم نے ٹریکٹر ریلی کو ٹالا ہے اور ختم نہیں کیا ۔

      کسان لیڈر درشن پال نے پریس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کسان تنظیم آگے کی حکمت عملی کیلئے چار دسمبر کو میٹنگ کریں گے اور اس کے بعد آگے کے پروگرام طے کئے جائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکار نے ہم سے کہا ہے کہ 29 نومبر کو پارلیمنٹ میں زرعی قوانین پوری طرح سے رد ہوجائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نے وزیر اعظم مودی کو خط لکھا ہے اور اس میں کسانوں کی کئی مانگوں کو اٹھایا ہے ۔

      انہوں نے کہا کہ ہم نے خط میں مانگ کی ہے کہ کسانوں کے خلاف جو بھی مقدمے درج کئے گئے ہیں ، انہیں واپس لیا جائے ۔ کسانوں کو مناسب دام ملے اس کیلئے ایم ایس پی کی گارنٹی دی جائے ۔ کسان آندولن کے دوران جو کسان شہید ہوئے ان کے کبنہ کو معاوضہ دیا جائے اور کسانوں کا بجلی بل بھی رد کیا جائے ۔ کسان لیڈر نے کہا کہ سرکار کو کسانوں کے ساتھ ایک مرتبہ پھر سے بات چیت کیلئے آگے آنا ہوگا ۔ جب تک ہماری مانگیں پوری نہیں ہو جائیں گی ، وہ واپس نہیں جائیں گے ۔

      درشن پال نے کہا کہ ہم نے جو خط وزیر اعظم کو لکھا ہے کہ اس کے جواب کا چار دسمبر تک انتظار کریں گے اور اس کے بعد ہی ہم طے کریں گے کہ ہمیں اگلا قدم کس طرف بڑھانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس لئے ایسا نہیں ماننا چاہئے کہ ہم نے ٹریکٹر ریلی کو پوری طرح سے ختم کردیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ صرف کہنے سے کام نہیں چلے گا ، سرکار کو کوئی ٹھوس قدم اٹھانا ہوگا ۔

      آپ کو بتادیں کہ مرکزی حکومت پیر سے شروع ہورہے پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کے زرعی قوانین کو رد کرنے کیلئے بل پیش کرے گی ۔ دونوں ایوانوں سے بل پاس ہونے کے بعد سرکار اس کو صدر جمہوریہ کے پاس بھیجے گی اور پھر صدر جمہوریہ سے منظوری ملنے کے بعد زرعی قوانین کو رد کردیا جائے گا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: