ہوم » نیوز » مغربی ہندوستان

سنجے راؤت کی دیویندر فڑنویس پر سخت تنقید، 10 سال پرانی باتیں کرنے کے بجائے آج کی زمینی حقیقت پر بات کریں

مرکزی حکومت کی جانب سے کسانوں پر زبردستی لادے گئے تینوں زرعی قوانین کو رد کرنے کے مطالبے کے لیےآج بھارت بندکی مکمل تائید اور اسے پوری طرح سے کامیاب قراردیتے ہوئے شیوسینا کے ترجمان اور رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مہاراشٹرا کے سابق وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کے حالیہ بیان کا طنزیہ جواب دیتے ہوئے انھیں مشورہ دیا کہ وہ 10 سال قبل کی باتیں کرنا چھوڑیں اور آج کی زمینی حقیقت پر دھیان مرکوز کریں۔

  • UNI
  • Last Updated: Dec 08, 2020 09:13 PM IST
  • Share this:
سنجے راؤت کی دیویندر فڑنویس پر سخت تنقید، 10 سال پرانی باتیں کرنے کے بجائے آج کی زمینی حقیقت پر بات کریں
سنجے راؤت کی دیویندر فڑنویس پر سخت تنقید، 10 سال پرانی باتیں کرنے کے بجائے آج کی زمینی حقیقت پر بات کریں۔

ممبئی: مرکزی حکومت کی جانب سے کسانوں پر زبردستی لادے گئے تینوں زرعی قوانین کو رد کرنے کے مطالبے کے لیےآج بھارت بندکی مکمل تائید اور اسے پوری طرح سے کامیاب قراردیتے ہوئے شیوسینا کے ترجمان اور رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت نے مہاراشٹرا کے سابق وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کے حالیہ بیان کا طنزیہ جواب دیتے ہوئے انھیں مشورہ دیا کہ وہ 10 سال قبل کی باتیں کرنا چھوڑیں اور آج کی زمینی حقیقت پر دھیان مرکوز کریں۔

راؤت نےکہا کہ بند کو ملک بھر میں زبردست تائید و حمایت حاصل ہوئی ہے اور لوگ اس بند میں بڑے پیمانےپر حصہ لے رہے ہیں۔ اگر حکومت بڑا دل کر کے کسانوں نے مطالبات پر غور کرے تو وہ اس تناو کی کیفیت سے باہر نکل سکتی ہے، سنجے راوت نے اپیل کی ہے کہ ایک زرعی ملک میں کسانوں کی حالت زار سننی جانی چاہئے۔

حزبِ اختلاف کے رہنما دیویندر فڑنویس نے پیر کو ایک پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اپوزیشن دوہرے معیار کی ہے اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس بارے میں صحافیوں کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوۓ راؤت نے کہا کہ " سرد ہواؤں اور حکومت کے جبر کے باوجود، پچھلے 10 سے 12 دن سے دہلی کے محاذ پر لڑنے والے کسانوں کی مدد کرنا ، نہ صرف ملک کی عوام کا ، بلکہ دنیا کے عوام کا فرض ہے۔" دہلی میں کسانوں کی حمایت میں دنیا کے کئی حصوں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔

اگر حکومت وسعی القلبی کا مظاہرہ کر کے غورو فکر کرے تو کسانوں کے مسائل حل ہوسکتے ہیں اور حکومت بھی احتجاج کے نتیجے میں پیدا شدہ قومی اور بین الاقوامی دباؤ سے باہر نکل سکتی ہے۔


سابق وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کو ہدف تنقید بناتے ہوۓ راؤت نے کہا کہ "اگر گڑے مردے اکھاڑے جائیں تو بات دور تک جائے گی۔ اس لیے فڑنویس کو چاہیۓ کہ وہ 10 سال پہلے کے بارے میں بات نہ کریں، یہ دیکھیں کہ آج کیا ہو رہا ہے۔ کسان آج سڑک پر ہیں۔
سابق وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کو ہدف تنقید بناتے ہوۓ راؤت نے کہا کہ "اگر گڑے مردے اکھاڑے جائیں تو بات دور تک جائے گی۔ اس لیے فڑنویس کو چاہیۓ کہ وہ 10 سال پہلے کے بارے میں بات نہ کریں، یہ دیکھیں کہ آج کیا ہو رہا ہے۔ کسان آج سڑک پر ہیں۔



سابق وزیراعلیٰ دیویندر فڑنویس کو ہدف تنقید بناتے ہوۓ راؤت نے کہا کہ "اگر گڑے مردے اکھاڑے جائیں تو بات دور تک جائے گی۔ اس لیے فڑنویس کو چاہیۓ کہ وہ 10 سال پہلے کے بارے میں بات نہ کریں، یہ دیکھیں کہ آج کیا ہو رہا ہے۔ کسان آج سڑک پر ہیں۔ آج کا بند شیوسینا، این سی پی یا ترنمول کانگریس نے نہیں بلایا۔ ریاست میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو یہ سمجھانا چاہئے کہ جو کسان سڑکوں پر نکلا ہے اسے سیاسی حمایت حاصل نہیں ہے۔ کسانوں کے ہاتھوں میں کوئی سیاسی جھنڈا نہیں ، دس سال پرانی باتیں کرنے کے بجاۓ فڑنویس کو دس بار سوچنا چاہئے کہ وہ حزب اختلاف کے قائد کی حیثیت سے کیا کردار ادا کررہے ہیں!" راؤت نے مزید کہا کہ اگر فڑنویس خاموشی سے اس کے بارے میں سوچتے اور غور کرتے کہ، کسان آج اپنے سینوں پر گولیاں کھانے کو کیوں تیار ہیں۔ تو وہ اپنی سیاسی وابستگی کو ایک طرف رکھتے، اور کسانوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوئے ہوتے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Dec 08, 2020 09:07 PM IST