உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سنجیونی مہم نے نئے سنگ میل عبور کئے

    سنجیونی مہم نے نئے سنگ میل عبور کئے

    سنجیونی مہم نے نئے سنگ میل عبور کئے

    ویکسین لگوانے میں جھجھک سے لے کر ویکسین لگوانے کی خواہش تک : سنجیونی مہم کا سفر

    • Share this:
      اپریل 2021 میں پنجاب میں اٹاری سرحد سے اپنی شروعات کے بعد سے، سنجیونی مہم نے دیہی ہندوستان کے پانچ اضلاع میں ویکسین لگوانے میں جھجھک اور ویکسین لگوانے کے ضمن میں ایک طویل سفر کیا ہے۔ اٹاری سے دکشن کنّڑ تک، سنجیونی مہم COVID-19 کے خلاف دیہی کمیونٹیز کی تحریک بن گئی۔ 7 اگست تک، سنجیونی مہم پانچ اضلاع امرتسر، اندور، ناسک، دکشن کنّڑ اور گنتور کے 502 دیہاتوں تک پہنچی۔ اس کے ذریعے، اس مہم نے مقامی سیاق و سباق کے ساتھ ویکسینیشن کے پیغام کے ساتھ تقریباً 2.5 شہریوں تک رسائی حاصل کی۔ رجسٹریشن، ٹرانسپورٹیشن وغیرہ کے ساتھ 20000 سے زیادہ شہریوں کی ویکسینیشن میں مدد کی گئی۔

      یہ مہم مختلف شراکت داروں کی شراکت کے ماڈل پر کام کرتی ہے۔ COVID-19 وبا اس قدر بڑا بحران ہے کہ کوئی بھی ایک شراکت دار اس سے بذات خود نہیں نپٹ سکتا۔ اسی لئے، حکومت، صفِ اول کے ہیلتھ کارکنان، مقامی کمیونٹی لیڈرز، کمیونٹی کے اراکین جیسے تمام شراکت داروں کو ایک ساتھ لانا اہم ہے تاکہ ملک کے دیہی علاقوں میں ویکسین لگوانے کی مہم میں تیزی لائی جا سکے۔

      ہر چند کہ اس مہم نے دیہی کمیونٹیز کو ویکسین لگوانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن ایسا کرنے میں چیلنجز درپیش تھے، خاص طور پر ان قبائلی اور دور دراز علاقوں میں جہاں تک پہنچنا دشوار تھا اور جہاں ویکسین کے حوالے سے لوگوں میں جھجھک پائی جاتی تھی۔ اس ضمن میں لوگوں سے ان کے گھر جا کر بات کرنے کرنے کی مہم کی حکمت عملی کو مقامی سیاق و سباق میں رکھنا اہم تھا اور اس کیلئے کمیونٹیز کے ثقافتی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا لازمی تھا۔ اس کیلئے، مہم کی ٹیم نے گرام پنچایت کے اراکین، مذہبی عمائدین وغیرہ جیسے کمیونٹی کے مقامی قائدین کو جمع کیا تاکہ مہم کے پیغامات کو آسانی سے لوگوں تک پہنچایا جا سکے۔ اس قسم کی مقامی کمیونٹی سنجیونی مہم کی کامیابی کیلئے ضروری ہے۔

      دوسرا چیلنج دور دراز علاقوں میں آباد لوگوں اور قبائلی کمیونٹیز کیلئے ویکسینیشن سینٹرز تک پہنچنا ہے۔ سنجیونی مہم نے لوگوں کو ویکسینیشن سینٹرز تک رسائی کی سہولت فراہم کرنے کیلئے انتہائی سخت محنت کی اور اس خلاء کو پُر کیا۔ اس طرح، اس مہم نے ایسے انتہائی مشکل گزار علاقوں تک رسائی حاصل کی جو حفظان صحت کی روایتی سروسز کے دائرے سے عموماً باہر ہی رہتے ہیں۔ کچھ معاملات میں، دور واقع دیہاتوں اور کمیونٹیز کو ان کے دروازے پر ویکسین لگوانے کی سہولت فراہم کرنے کیلئے سنجیونی گاڑی نے صحت عامہ کے افسران کو ان علاقوں تک بھی پہنچایا۔

      وبا کی موجودہ دوسری لہر نے ملک کے دیہی علاقوں میں تباہی مچا دی۔ ممکنہ تیسری لہر کے بارے میں بھی یہ تصور عام ہے کہ وہ دیہی علاقوں میں انتہائی شدت اختیار کرے گا۔ سنجیونی مہم نے ایک منفرد پیش قدمی کی جو دیہی علاقوں میں صحت عامہ کے بڑھتے انفراسٹرکچر پر نظر رکھتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ ان علاقوں میں آباد لوگوں کو موثر اور محفوظ طریقے سے ویکسین لگوائی جا سکے۔ طبی سپلائیز کی ضروریات کو سمجھنے کیلئے 100 ویکسینیشن سینٹرز کے تجزیے کا اہتمام کیا گیا جو شعبۂ صحت کے حکومتی افسران کے ساتھ صلاح و مشورے کے ساتھ ویکسینیشن سینٹرز میں بڑھتے انفیکشن کی روک تھام کیلئے اہم ہے۔

      کمیونٹی کی پُرجوش شمولیت اور مقامی حکومت کے تعاون کے ساتھ کی جانے والی ان دہری مداخلتوں نے ویکسین لگوانے سے متعلق جھجھک کو ختم کیا۔ درحقیقت، ہم جن دیہاتوں میں گئے، اب وہ ویکسین لگوانے کیلئے تیار ہیں۔ ہر کسی کو آسانی کے ساتھ ٹیکہ لگوانے کے عمل کو یقینی بنانے کیلئے، یہ مہم اس تحریک کو جاری رکھے گی۔ اس تحریک میں شامل کرنے کا وقت آ گیا ہے کیونکہ کسی بھی جگہ کسی بھی شخص کی صحت، ہر جگہ موجود ہر شخص کی صحت کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔

      انل پرمار، نائب صدر، کمیونٹی انویسٹمنٹ

      یونائٹیڈ وے ممبئی
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: