உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sanjeevani : بیداری پھیلانے اور ویکسین لگوانے میں ہندوستان کی مدد کرنے کا سنجیونی کا سلسلہ جاری

    Sanjeevani : بیداری پھیلانے اور ویکسین لگوانے میں ہندوستان کی مدد کرنے کا سنجیونی کا سلسلہ جاری

    اسٹراپ: مہم کا مقصد ویکسین کے تئیں جھجھک کو کم کرنا، ویکسین سینٹرز کی صلاحیت کو بہتر بنانا اور انتہائی دور افتادہ مقامات میں رہنے والے لوگوں کیلئے COVID ویکسین تک رسائی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔

    • Share this:
      COVID-19 انفیکشن نے دنیا بھر میں تباہی پھیلا رکھی ہے، 187 سے زیادہ ممالک نے اپنے ہاں اس سے متعلق معاملات کی تصدیق کی ہے اور اس سے اب تک 4 ملین سے زیادہ اموات واقع ہو چکی ہیں۔ ہندوستان اس وبا سے دنیا میں دوسرا سب سے متاثر ہونے والا ملک ہے۔ ہندوستان کے 30 ملین سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں جبکہ اس وائرس سے 4.1 لوگوں کی اموات واقع ہوئی ہیں۔ ہر چند کہ دنیا کو COVID-19 کا علاج تلاش کرنے میں دشواری ہوئی، لیکن ویکسین خود کو اور اپنے اہل خانہ کی اس جان لیوا انفیکشن سے بچانے کیلئے کئی لوگوں کی امید بن کر آیا ہے۔

      ہندوستان نے ویکسینیشن پروگرام کا آغاز 16 جنوری، 2021 کو کیا اور فی الوقت یہ ویکسین لگانے والا دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ملک ہے۔ ہر چند کہ ہندوستان کی آبادی کے پیش نظر، جو کہ 1.38 بلین ہے، خوراکوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ اب تک صرف 22.3% کو پہلی خوراک لگی ہے جبکہ 5.52% نے دونوں خوراکیں حاصل کر لی ہیں۔ ممبئی اور دہلی جیسے بڑے شہروں میں ویکسینیشن کی تعداد زیادہ ہے، جبکہ دیہاتوں میں، جس کی آبادی 65% سے زیادہ ہے، اس کی تعداد اب بھی کم ہے۔ ویکسینیشن کی سست رفتار کیلئے متعدد عوامل ذمہ دار ہیں، جس میں سب سے بڑی وجہ ویکسین کو لے کر لوگوں میں موجود جھجھک ہے۔

      ہندوستان کے پاس Covid-19 ویکسینیشن پروگرام سے متعلق زبردست وسائل ہیں، لیکن اس کے باوجود کمیونٹیز میں ویکسین سے متعلق غیر تصدیق شدہ معلومات اور اس کے تعلق سے مفروضات موجود ہیں۔ ٹیکنالوجیکل وسائل اور تعلیم کی کمی کے حامل لوگوں کو قابل اعتبار معلومات پہنچانے کو یقینی بنانے کیلئے، Federal Bank نے Network 18، یونائٹیڈ وے ممبئی اور اپولو ہاسپیٹلز کے اشتراک کے ساتھ ’سنجیونی ۔ ایک ٹیکہ زندگی کا‘ نامی پروجیکٹ شروع کیا ہے۔ پروجیکٹ کا مقصد ویکسین کے تئیں جھجھک کو کم کرنا، ویکسین سینٹرز کی صلاحیت کو بہتر بنانا اور انتہائی دور افتادہ مقامات میں رہنے والے لوگوں کیلئے COVID ویکسین تک رسائی میں آسانی پیدا کرنا ہے۔ فی الوقت یہ پروجیکٹ ملک کے 5 اضلاع امرتسر، دکشن کنّڑ، گنتور، اندور اور ناسک میں جاری ہے اور یہ 1000 دیہاتوں میں آباد 5 لاکھ سے زیادہ افراد کو ہدف بنا رہا ہے۔ 7 اپریل، 2021 کو عالمی یوم صحت کے موقع پر شروع ہونے والی اس مہم نے عوامی بیداری سے متعلق سرگرمیوں اور صحت سے متعلق رو بہ رو پوچھ تاچھ میں 2 لاکھ سے زیادہ لوگوں تک رسائی حاصل کی ہے۔ Cowin پورٹل پر ویکسین لگوانے کیلئے 10735 لوگوں کی مدد کی گئی اور 4304 لوگوں نے ویکسین سینٹرز تک جانے کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولیات حاصل کیں۔ ہر چند کہ مہم اور زمین پر کام کرنے والی ٹیم ویکسین لگوانے میں لوگوں کی مدد کرنے کیلئے کام کر رہی ہے، لیکن ان علاقوں میں ویکسین سے متعلق جھجھک باقی ہے جہاں ٹیکنالوجی سے وابستہ ہونے کی سہولت میسر نہیں ہے۔ غلط معلومات کے سبب کئی لوگ ٹیم کے لوگوں سے بات چیت کرنے سے کترا رہے ہیں اور وہ ویکسین لگوانے پر آمادہ نہیں ہیں۔

      جیسے جیسے مہم آگے بڑھتی گئی، کامیابی کی کئی کہانیوں نے جنم لینا شروع کیا اور اس دوران یہ ایک اہم بات سمجھ میں آئی کہ مناسب گفتگو سے ویکسین کے تئیں جھجھک کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بیشتر مقامات پر، جہاں لوگوں نے حقائق کو جاننے کے رویے کے ساتھ ٹیم کے ساتھ تبادلۂ خیال کرنے کا انتخاب کیا، وہاں لوگوں نے ٹیکہ لگوانے کا انتخاب کیا۔ ٹیم کو آنگن واڑی سیویکاؤں اور آشا ورکرز جیسے سرکاری اہلکاروں کی جانب زبردست تعاون بھی حاصل رہا اور انہوں نے مہم کی اہمیت کو سمجھنے میں لوگوں کی مدد کی۔

      ’سنجیونی ۔ ایک ٹیکہ زندگی کا‘ مہم نے ایسے ملک گیر پروگرامز کے دوران مواصلت کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے اور اس اہمیت کو اجاگر کیا ہے کہ لوگوں کے استفسارات کا تصفیہ کرنے اور یہ یقینی بنانے کیلئے کہ لوگ غلط معلومات سے گمراہ نہ ہوں، زمین پر ٹیم کا موجود ہونا لازمی ہے۔

      ہر چند کہ ویکسین کے تئیں جھجھک کم کرنا اور ویکسین لگوانے اہتمام کرنا لازمی ہے، یہ بات بھی اہم ہے کہ ویکسین سینٹرز کو اپنے ہاں آنے والی بھیڑ کا نظم کرنا چاہئے اور انفیکشن کا ذریعہ بننے سے بچنا چاہئے۔ ایسا کرنے کیلئے، ان سینٹرز کی صفائی، ستھرائی اور کچرے کو ضائع کرنے کا بہترین انتظام ہونا چاہئے۔ سنجیونی مہم اس پہلو پر بھی کام کر رہی ہے اور اس نے ان 5 اضلاع کے 100 سینٹرز کو ضروری طبی ساز و سامان فراہم کیا ہے تاکہ عملے اور وہاں آنے والے دونوں کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ اس وقت تک، دکشن کنّڑ ضلع کے 18 سینٹرز کو ماسک، سینیٹائزرز، صفائی کا سامان اور بہت کچھ فراہم کیا جا چکا ہے۔

      مہم کی سرگرمیوں کے دوران،  ایسی کئی مثبت کہانیوں نے جنم لیا جس نے کووِڈ ویکسین کے خلاف قیاس آرائیوں کو کم کرنے میں مدد کی اور ایسی ہی ایک کہانی امرتسر کے بلارہوال گاؤں کی ہے جہاں جسکرن اور ان کے خاندان پر کمیونٹی کی جانب سے یہ دباؤ ڈالا جا رہا تھا کہ وہ ویکسین نہ لیں اور آن گراؤنڈ ٹیم کے ساتھ رابطہ کرنے سے گریز کرے۔ انہوں نے اپنے پڑوسیوں کی رائے کے خلاف جا کر ٹیکہ لگوایا۔ جسکرن ایک مثال بن کر سامنے آئیں جس کی وجہ سے کمیونٹی کے باقی لوگوں نے بھی ویکسین لگوائی اور ٹیم کو جسکرن پر ناز ہے۔

      ایک دوسری مثال سے پتا چلتا ہے کہ کس طرح مقامی اسٹیک ہولڈرز کمیونٹی کے رویے پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ آندھرا پردیش کے گنتور کی وجیہ رانی ایک آشا ورکر ہیں اور انہیں اس شعبے میں 8 سال کا تجربہ ہے۔ انہوں نے سنجیونی ٹیم کا تعاون کیا اور سنجیونی گاڑی کی مدد کی اور اس مہم کے دوران ہمارے لئے مشعل راہ بنی رہیں۔ وہ کمیونٹی کے ایسے اراکین کی ذہنیت تبدیل کرنے میں کامیاب رہیں جو ویکسین لگوانے کے بارے میں جھجھک محسوس کر رہے تھے۔ ٹیم جن دیہاتوں میں اپنی مہم چلا رہی تھی، انہوں نے پاس کے ان دیہاتوں کی آشا ورکرز کے ساتھ ٹیم کو وابستہ کیا۔

      اگلے مراحل میں، مہم میں شدت پیدا کی جا رہی ہے اور مہم میں اہم مقامی افراد کی شرکت کے ساتھ، اس کی دسترس میں زبردست وسعت پیدا ہو رہی ہے۔ ٹیم کی توجہ اس بات پر مرکوز ہوگی کہ زیادہ سے زیادہ لوگ کووِڈ ویکسین لگوائیں اور انفیکشن کی آئندہ آنے والی تیسری لہر سے خود کو محفوظ رکھیں۔ ویکسینیشن کے مزید سینٹرز کو تقویت دی جائے گی تاکہ وہ ملک کی آبادی کو ٹیکہ لگا سکیں اور ضلع میں مکمل ویکسینیشن کا حتمی ہدف حاصل کریں۔

      ڈاکٹر شیلیش واگلے، مینیجر

      کمیونٹی انویسٹمنٹ، یونائیٹیڈ وے ممبئی
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: