உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حیوانیت! 2 ماہ کی معصوم سے Rape، گاوں والوں کا سوال- ایسا کرنے والوں کو کیا ملے سزا؟

    حیوانیت! 2 ماہ کی معصوم سے کی آبروریزی، گاوں والوں کا سوال- ایسا کرنے والے کیا ملے سزا؟

    حیوانیت! 2 ماہ کی معصوم سے کی آبروریزی، گاوں والوں کا سوال- ایسا کرنے والے کیا ملے سزا؟

    Chapra News: حادثہ کے بعد گاوں کے لوگوں میں طرح طرح کی بحث ہے۔ لوگ پولیس سے سوال کر رہے ہیں کہ آخر ایسے شخص کو قانون کا تحفظ کیوں؟ گاوں والوں کا کہنا ہے کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا فوراً ملنا چاہئے تاکہ پھر سے ایسے حادثات کو دوہرایا نہ جاسکے۔

    • Share this:
      چھپرا: انسانیت کو شرمسار کرنے والا حادثہ سامنے آیا ہے۔ یہاں اکیلا پور تھانہ علاقے نودیری میں ایک لڑکے کے ذریعہ دو ماہ کی بچی کے ساتھ آبروریزی کا معاملہ روشنی میں آیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ نوجوان اپنی بہن کے گھر نودیری میں رہتا تھا اور وہیں پڑوس میں رہنے والی بچی کے ساتھ آبروریزی کا حادثہ انجام دیا۔ بچی کے رونے پر مقامی گاوں والوں نے نوجوان کو پکڑ لیا اور مارپیٹ کرکے پولیس کے حوالے کردیا ہے۔

      گرفتار نوجوان پٹنہ کے دیدار گنج باشندہ یوگیندر رام کا 23 سالہ لڑکا سنتوش کمار بتایا جا رہا ہے۔ ایس پی سنتوش کمار نے بتایا کہ لڑکے کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور پاکسو ایکٹ کے تحت عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ ایس پی نے حادثہ کو گھناؤنا جرم بتاتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں اسپیڈی ٹرائل کراکر ملزم کو سزا دلائی جائے گی۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      Jahangirpuri Violence: امت شاہ کا دہلی پولیس کو حکم، قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی کرکے مثال پیش کریں

      ایس پی سنتوش کمار نے کہا کہ یہ حادثہ کافی شرمناک ہے اور پولیس اسے لے کر کافی حساس ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بچی کا اور ملزم دونوں کا میڈیکل کرایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف حادثہ کے بعد گاوں کے لوگوں میں طرح طرح کی بحث ہے۔ لوگ پولیس سے سوال کر رہے ہیں کہ آخر ایسے شخص کو قانون کا تحفظ کیوں؟

      گاوں والوں کا کہنا ہے کہ ملزم کو سخت سے سخت سزا فوراً ملنی چاہئے تاکہ پھر سے ایسے حادثات کو دوہرایا نہ جاسکے۔ لوگ اس حادثہ کی چوطرفہ مذمت کر رہے ہیں اور ملزم کو سخت سے سخت سزا دلانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ملزم کو عدالت میں پیش کیا گیا ہے، جس کے بعد اسے عدالتی حراست کے تحت جیل بھیج دیا گیا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: