ستیہ پال ملک کو جموں وکشمیرکے پہلے لیفٹیننٹ گورنربنے کا مل سکتاہے اعزاز، مرکزی حکومت نے دیا اشارہ

جموں وکشمیرکو مرکز کے زیرانتظام خطہ بنائے جانے کے بعد ستیہ پال ملک اس عہدے کےلئے سب سےمضبوط دعویداربتائے جارہے ہیں۔

Oct 22, 2019 08:22 PM IST | Updated on: Oct 22, 2019 08:22 PM IST
ستیہ پال ملک کو جموں وکشمیرکے پہلے لیفٹیننٹ گورنربنے کا مل سکتاہے اعزاز، مرکزی حکومت نے دیا اشارہ

جموں وکشمیرکےگورنرستیہ پال ملک: فائل فوٹو

جموں وکشمیرکےموجودہ گورنرستیہ پال ملک کو مرکزکے زیرانتظام خطہ جموں وکشمیرکے پہلےلیفٹیننٹ گورنربنے کا اعزاز مل سکتاہے۔ انہیں مرکز کی جانب سے اس بات کی غیررسمی اطلاع دے دی گئی ہےکہ  جموں وکشمیرکے پہلےلیفٹیننٹ گورنر کے لیے انکے نام کا غور کیاجارہاہے ۔

سرکاری ذرائع نے نیوز18 کوبتایا کہ جہاں اعلیٰ عہدوں کےلئے دیگرناموں پربھی غورو خوض کیا گیا ہے، وہیں ستیہ پال ملک اس عہدے کےلئے سب سےمضبوط دعویدارہیں۔ حتمی فیصلہ جلد کئے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ستیہ پال ملک اس لئےسب سے زیادہ مضبوط دعویدارہیں کیونکہ وہ موجودہ حالات اورجموں وکشمیرکواچھی طرح سے سمجھتے ہیں اورایک سال سے زیادہ وقت سے ریاست کو چلا رہے ہیں۔

Loading...

حالانکہ جمعرات کوستیہ پال ملک نےایک متنازعہ بیان دیا، جس سے انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ انہوں نےکہا کہ ملک میں ایک گورنرکی حیثیت بہت کمزورہےکیونکہ انہیں پریس کانفرنس منعقد کرنے یا اپنے دل کی بات کہنے کا اختیارنہیں ہے۔ ستیہ پال ملک نے ریاسی ضلع کے ماتا وشنودیوی یونیورسٹی کے ساتویں کنوکیشن تقریب سے خطاب کرتے ہوئےکہا 'گورنرایک کمزورعہدہ ہے، اسے پریس کانفرنس کرنے یا اپنے دل کی بات کہنے کا حق نہیں ہے۔ میں بے خوف ہوکرتقریباً تین دنوں سے یہ بات کہہ رہا ہوں، لیکن میرے الفاظ سے دہلی میں کوئی بھی ناراض نہیں ہورہا ہے'۔

ریاست کومرکزکے زیرانتظام دوخطوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ایک جموں وکشمیراوردوسرا لداخ۔ حکومت نےاس کا خصوصی درجہ ختم کردیا تھا، جموں وکشمیرکی تشکیل نوکا قانون 31 اکتوبرسےنافذ ہوجائےگا۔ نئے لیفٹیننٹ گورنرکی حلف برداری تقریب اسی تاریخ کوہونے کا امکان ہے۔ افسران نےکہا ہےکہ یہ ابھی بھی حکومت غورکررہی ہےکہ کیا گورنرکے پانچ مشیروں میں سے کسی کوبھی رکھا جائےگا یا نہیں۔

جموں وکشمیرمرکزکے زیرانتظام خطہ بننے کے بعد مرکزی حکومت لیفٹیننٹ گورنرکے ذریعہ لاء اینڈ آرڈراورپولیس کو سیدھے کنٹرول کرے گی جبکہ زمین وہاں کی منتخب حکومت کے ماتحت ہوگی۔ زمین اوراس سے متعلق اختیارات جموں وکشمیرکی منتخب حکومت کے پاس ہونگے۔

Loading...