ہوم » نیوز » عالمی منظر

سعودی عرب میں ہندو شخص کی مسلمانوں کی طرح تدفین ، مرکز نے دہلی ہائی کورٹ کو کیا آگاہ

وزارت خارجہ (Ministry of External Affairs ) نے بھی عدالت کو بتایا کہ جدہ میں ہندوستانی قونصل خانہ (Indian consulate in Jeddah) نے باقیات کو واپس لانے کے لئے سعودی عدالت میں قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔

  • Share this:
سعودی عرب میں ہندو شخص کی مسلمانوں کی طرح تدفین ، مرکز نے دہلی ہائی کورٹ کو کیا آگاہ
سعودی عرب میں ہندو شخص کی مسلمانوں کی طرح تدفین ، مرکز نے دہلی ہائی کورٹ کو کیا آگاہ

نئی دہلی : مرکز نے جمعرات کو دہلی ہائی کورٹ کو آگاہ کیا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے ایک ہندو شخص کی موت کے بعد اسے ایک مسلمان سمجھ کر دفن کردیا اور اس کی ہندوؤں کی طرح آخری رسومات ادا نہیں کی گئیں ۔ وزارت خارجہ (Ministry of External Affairs ) نے بھی عدالت کو بتایا کہ جدہ میں ہندوستانی قونصل خانہ (Indian consulate in Jeddah) نے باقیات کو واپس لانے کے لئے سعودی عدالت میں قانونی کارروائی کا آغاز کیا ہے۔


جسٹس پرتھیبہ ایم سنگھ (Justice Prathiba M Singh) کے سامنے یہ گذارشات مقتول کی بیوہ کی طرف سے آخری رسومات ادا کرنے کے لئے کی گئی ہیں۔ جسے باقیات تلاش کرنے کی درخواست کے تحت سماعت کے دوران پیش کی گئی۔ جدہ میں ہندوستانی قونصل خانے کے عہدیداروں کے ذریعہ موت کے سرٹیفکیٹ پر اپنے مذہب کا غلط ترجمہ کرنے کی وجہ سے ہندو شخص لاش کو مسلمانوں کے طرز پر سعودی عرب میں دفن کیا گیا تھا۔


ایک خاتون نے مارچ میں ہائی کورٹ سے رجوع کیا کہ وزارت خارجہ سے حکم جاری کیا جائے کہ وہ باقیات کو فوری طور پر نکالنے کے لئے اقدامات کرے اور انہیں مقررہ وقت میں ہندوستان واپس بھیجے۔ جمعرات کے روز ایم ای اے  کی نمائندگی مرکزی حکومت کے قائمہ وکیل رپوڈمن سنگھ بھاردواج نے کی۔ انھوں نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے باقیات کو واپس لانے کے لئے تمام اقدامات اٹھارہے ہیں۔


بیوہ انجو شرما نے وکیل سبھاش چندرن کے ذریعہ دائر درخواست میں کہا ہے کہ ان کے شوہر کی موت کی اطلاع ملتے ہی افراد خاندان نے حکام سے درخواست کی تھی کہ وہ اس کی باقیات کو لوٹائے۔ 51 سالہ سنجیو کمار 24 جنوری کو سعودی عرب میں انتقال کرگئے۔ جہاں وہ کام کررہے تھے۔ اس دن انھیں اچانک ہارڈ اٹیک ہوا۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Apr 15, 2021 04:02 PM IST