உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ’ساورکرمسلمانوں کےدشمن نہیں تھے، تہذیب کی بنیاد پرکبھی تفریق نہیں کی گئی‘ آرایس ایس چیف بھاگوت

    Youtube Video

    موہن بھاگوت نے ان خیالات کا اظہار نئی کتاب ’ویر ساورکر: دی مین ہاوڈ کوڈ روڈ ٹو پارٹیشن‘ Veer Savarkar: The Man Who Could Have Prevented Partition کے رسم اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ ساورکر نے اردو میں بہت سی غزلیں بھی لکھی ہیں۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے دشمن نہیں تھے۔

    • Share this:
      راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (RSS) کے سربراہ موہن بھاگوت Mohan Bhagwat نے کہا کہ ویر ساورکر Veer Savarakar کے ہندوتوا Hindutva نظریے نے کبھی بھی لوگوں کو ان کی تہذیب و ثقافت اور دیوتا کی پوجا کرنے کے طریقہ کار کی بنیاد پر فرق نہیں کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ساورکر کہتے تھے کہ ہم فرق کیوں کرتے ہیں؟ ہم ایک ہی مادر وطن کے بیٹے ہیں، ہم آپس میں سب بھائی بھائی ہیں۔ عبادت کے مختلف طریقے ہمارے ملک کی روایت رہے ہیں۔ ہم مل کر ملک کے لیے لڑ رہے ہیں‘‘۔

      موہن بھاگوت نے ان خیالات کا اظہار نئی کتاب ’ویر ساورکر: دی مین ہاوڈ کوڈ روڈ ٹو پارٹیشن‘ Veer Savarkar: The Man Who Could Have Prevented Partition کے رسم اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کیا ہے۔ آر ایس ایس کے سربراہ نے کہا کہ ساورکر نے اردو میں بہت سی غزلیں بھی لکھی ہیں۔ اس طرح وہ مسلمانوں کے دشمن نہیں تھے۔

      ہندوستانی سماج میں ہندوتوا اور اتحاد

      انھوں نے کہا کہ کئی لوگوں نے ہندوستانی سماج میں ہندوتوا اور اتحاد کے بارے میں بات کی، یہ صرف اتنا تھا کہ ساورکر نے اس کے بارے میں ہمیشہ اور بھرپور انداز میں بات کی اور اب اتنے سال کے بعد یہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ اگر ہر کوئی اس طرح بات کرتا تو ملک کی کوئی تقسیم نہ ہوتی۔ تقسیم کے بعد پاکستان ہجرت کرنے والے مسلمانوں کا اُس ملک میں کوئی وقار نہیں ہے، کیونکہ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔


      بھاگوت نے کہا کہ ہمارے ایک ہی آباؤ اجداد ہیں، صرف ہماری عبادت کا طریقہ کار مختلف ہے اور ہم سب کو ہماری سناتن دھرم Sanatan Dharma کی لبرل ثقافت پر فخر ہے۔ یہ ورثہ ہمیں ترقی کی طرف لے جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ہم سب یہاں مل کر رہ رہے ہیں‘‘۔

      انہوں نے یہ بھی کہا کہ چاہے یہ ساورکر کا ہندوتوا ہو یا ویویکانند کا ہندوتوا Vivekananda’s Hindutva، سب ایک جیسے ہیں کیونکہ وہ سب ایک ہی ثقافتی قوم پرستی کے بارے میں بات کرتے تھے، جہاں لوگوں کو ان کے نظریے کی بنیاد پر فرق نہیں کیا جاتا ہے۔

      ''کٹر قوم پرست''

      ویر ساورکر Veer Savarkar کو ایک کٹر قوم پرست اور 20 ویں صدی میں ہندوستان کا پہلا فوجی حکمت عملی طئے کرنے والا قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ Rajnath Singh نے منگل کے روز کہا کہ یہ مہاتما گاندھی Mahatma Gandhi کی گذارش تھی کہ وہ (ساورکر) انگریزوں سے رحم و کرم کی اپیل کریں۔ اس کے برعکس مارکسی اور لیننسٹ نظریے کے لوگوں نے ان پر غلط الزام لگایا۔ راج ناتھ سنگھ نے اس تقریب میں ساورکر کو ایک قومی ہیرو قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ملک کو ایک مضبوط دفاعی اور سفارتی نظریہ دیا ہے۔

      سنگھ نے کہا کہ وہ ہندوستانی تاریخ کے آئیکن تھے اور رہیں گے۔ اس کے بارے میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے، لیکن انھیں کمتر سمجھنا مناسب اور جائز نہیں ہے۔ وہ ایک مجاہد اور کٹر قوم پرست تھے، لیکن جو لوگ مارکسسٹ اور لیننسٹ نظریات کی پیروی کرتے ہیں وہی لوگ ساورکر پر فاشسٹ ہونے کا الزام لگاتے ہیں۔ آزادی کے لیے ساورکر کا عزم اتنا مضبوط تھا کہ انگریزوں نے انھیں دو بار عمر قید کی سزا سنائی۔


      جیل سے رہائی کے لیے رحم کی اپیل؟

      وزیر دفاع نے کہا کہ ’’ساورکر کے بارے میں بار بار جھوٹ پھیلائے گئے۔ یہ بات پھیل گئی کہ انھوں نے جیل سے رہائی کے لیے بہت سی رحم کی درخواستیں دائر کیں۔ یہ مہاتما گاندھی تھے جنہوں نے ان سے رحم کی درخواستیں دائر کرنے کو کہا‘‘۔

      سنگھ نے کہا کہ ساورکر 20 ویں صدی میں ہندوستان کے پہلے فوجی اسٹریٹجک امور کے ماہر تھے، جنہوں نے ملک کو مضبوط دفاعی اور سفارتی نظریہ دیا اور یہ ہندوستان کی جغرافیائی اور سیاسی شناخت سے جڑا ہوا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ساورکر کے لیے ہندوتوا ثقافتی قوم پرستی سے وابستہ تھا۔

      بی جے پی کے تجربہ کار لیڈر نے کہا کہ ’’ساورکر کے لیے ایک مثالی ریاست وہ تھی جہاں کے شہریوں کو ان کی ثقافت اور مذہب کی بنیاد پر فرق نہیں کیا گیا تھا اور اس لیے ان کے ہندوتوا کو گہرائی سے سمجھنے کی ضرورت ہے‘‘۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: