سوشل میڈیا معاملے میں حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا، دہشت گردوں کو نہیں ہے رائٹ ٹو پرائیویسی

دراصل سپریم کورٹ نے ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں زیرالتوا سوشل میڈیا جیسے فیس بک ، وہاٹس ایپ کو آدھار سے لنک کرنے کے متعلق معاملوں کو اپنے پاس سماعت کیلئے ٹرانسفر کر لیا تھا اور مرکزی حکومت سے اس معاملے میں اپنی رپورٹ سونپنے کیلئے کہا تھا۔

Oct 23, 2019 08:22 AM IST | Updated on: Oct 23, 2019 09:09 AM IST
سوشل میڈیا معاملے میں حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا، دہشت گردوں کو نہیں ہے رائٹ ٹو پرائیویسی

Image for Representation

فیس بک ، وہاٹس ایپ جیسےسوشل میڈیا پلیٹ فارموں کو لیکر سخت قانون کی وکالت کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ سے کہا کہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کو پھیلانے کیلئے رائٹ ٹو پرائیویسی نہیں ہوسکتا ہے۔ سالیسٹرجنرل تشار مہتہ نے جسٹس دیپک گپتا کی رکنیت والی بنچ کے سامنے کہا کہ حکومت کسی کی را زداری بھنگ کرنے کے خلاف ہے لیکن یہ دہشت گردوں کے ہاتھ میں دھوکہ دینے کا ہتھیار نہیں بننا چاہئے۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا، 'ہم سبھی رائٹ۔ٹو۔پرائیویسی کی حمایت کرتے ہیں لیکن اسے نیشنل سکیورٹی اور ملک کی خودمختاری کے ساتھ متوازن ہونا چاہئے۔ کیا ایک دہشت گرد رائٹ۔ٹو۔پرائیویسی کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ کیا رازداری یعنی پرائیویسی کی آڑ میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو تحفظ دیا جاسکتا ہے۔ تمل ناڈو کی جانب سے اس معاملے میں شامل ہونے والے کے کے وینو گوپال نے تشار مہتہ کی حمایت کی۔

دراصل سپریم کورٹ نے ملک کی مختلف ہائی کورٹس میں زیرالتوا سوشل میڈیا جیسے فیس بک ، وہاٹس ایپ کو آدھار سے لنک کرنے کے متعلق معاملوں کو اپنے پاس سماعت کیلئے ٹرانسفر کر لیا تھا اور مرکزی حکومت سے اس معاملے میں اپنی رپورٹ سونپنے کیلئے کہا تھا۔

بتا دیں کہ اس معاملے میں کئی پی آئی ایل ڈالی گئی تھی۔ پہلی پی آئی ایل جولائی 2018 میں مدراس ہائی کورٹ میں ڈالی گئی تھی۔ بعد میں بامبے اور مدھیہ پردیش ہائی کورٹ میں پی آئی ایل ڈالی گئی تھی۔

Loading...

سوشل میڈیا کمپنی فیس بک نے بعد میں ان تمام معاملات کو سپریم کورٹ میں منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔ عرضی گزار اینٹنی کلیمینٹ روبن نے مطالبہ کیا تھا کہ عدالت حکومت کو ہر سوشل میڈیا اکاؤنٹ کے ساتھ کسی بھی سرکاری شناختی پروف کو لازمی قرار دینے کی ہدایت دے تاکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی ساکھ پر سوالیہ نشان نہیں لگایا جا سکے۔ اس معاملے میں کے کے وینوگوپال تمل ناڈو کی جانب سے پیش ہوئے تھے۔ جنہوں نے ہائی کورٹ میں زیر التواء تمام معاملات کو سپریم کورٹ میں ٹرانسفر کئے جانے سے متعلق فیس بک کی عرضی کی مخالفت چھوڑ دی۔

Loading...