رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد اراضی تنازع: مسلمانوں کے دعوے کو کمزور کرنے کی کوشش

رام جنم بھومی بابری مسجد اراضی تنازع کی 24دن کی سماعت کے دوران سنی وقف بورڈ نے کہا کہ پورے جنم استھان کوپوجا کی جگہ قرار دے کرمسلم فریق کے دعوے کو کمزورکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

Sep 16, 2019 10:52 PM IST | Updated on: Sep 16, 2019 10:52 PM IST
رام جنم بھومی ۔ بابری مسجد اراضی  تنازع: مسلمانوں کے دعوے کو کمزور کرنے کی کوشش

رام جنم بھومی ۔بابری مسجد اراضی تنازع پرسپریم کورٹ میں آج سماعت۔(تصویر:نیو18)۔

رام جنم بھومی بابری مسجد اراضی تنازعہ کی 24دن کی سماعت کے دوران سنی وقف بورڈ نے کہا کہ پورے جنم استھان کوپوجا کی جگہ قرار دے کرمسلم فریق کے دعوے کو کمزورکرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔سنی وقف بورڈ کے وکیل راجیو دھون نے چیف جسٹس رنجن گگوئی کی سسربراہی والی آئینی بنچ کے سامنے اپنے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوجا کے حق سے متعلق جو دلائل پیش کئے گئے ہیں اس سے لگتا ہے کہ ویٹیکن پر صرف عیسائیوں اور مکہ پر صرف مسلم حقوق ہیں۔ پوری جائے پیدائش کو پوجا کی جگہ قرار دے کر مسلم فریق کے دعوے کو کمزور کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔مسلم فریق نے جنم استھان کی درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنم استھان جیورسٹ پرسن یعنی عدالتی شخص نہیں ہوسکتی ہے۔ راجیو دھون نے کہا کہ جب زمین یعنی جنم استھان ہی دیوتا ہوگئی۔ تو پھر کوئی دوسرا دعویٰ نہیں کرسکتا،اسی وجہ سے جنم استھان کو اس مقصد کے تحت فریق بنایا گیا ہے۔

وہیں دوسری جانب سپریم کورٹ نے ایودھیا میں بابری مسجد رام جنم بھومی اراضی تنازعہ کی سماعت کے براہ راست نشریہ کے مسئلے پر کورٹ رجسٹری کونوٹس جاری کرکے اس سلسلے میں رپورٹ طلب کی ہے۔چیف جسٹس رنجن گوگوئی کی سربراہی والی آئینی بنچ نے رجسٹری آفس سے رپورٹ طلب کی ہے کہ اگر ابھی حکم دیا جائے تو کتنے دنوں میں براہ راست نشر کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔آئینی بنچ نے کہا کہ وہ اس رپورٹ کے بعد ہی لائیو اسٹریمنگ پر فیصلہ کرے گی۔واضح رہے کہ ایودھیا تنازعہ کی سماعت کو براہ راست نشر کرنے کے سلسلے میں آر ایس ایس کے سابق نظریہ ساز کے این گووند آچاریہ نے عرضداشت داخل کی ہے۔ انہوں نے عرضی میں یہ بھی کہا کہ اگر معاملے کی کارروائی کا لائیو اسٹریمنگ ممکن نہیں ہے تو کم سے کم اس سماعت کی آڈیوریکارڈنگ یا من وعن تحریری شکل میں ریکارڈ کی جائے۔

Loading...

وہیں یوپی سنی وقف بورڈ اورنروانی اکھاڑہ چاہتے ہیں کہ ایودھیا تنازعہ کو بات چیت سے حل کرنے کی ایک اورکوشش کی جائے۔انہوں نے سپریم کورٹ کے ذریعہ تشکیل دیئے گئے ثالثی پینل کے سربراہ جسٹس خلیف اللہ کو اس ضمن میں ایک خط لکھا ہے۔حالانکہ مسلم فریق نے سنی وقف بورڈ کی اس اپیل کو مستردکردیا ہے۔ مسلم فریق کے مطابق ثالثی کیلئے یوپی سنی وقف بورڈ کے چیئرمین کی یہ نجی کوشش ہوسکتی ہے۔ مسلم فریق کے مطابق سنی وقف بورڈ کیس کے چھ مسلم فریقوں میں سے ایک فریق ہے۔اس لئے سنی وقف بورڈ کی اپیل کوئی معنی نہیں رکھتی۔

یوپی سنی وقف بورڈ اورنروانی اکھاڑہ کی ایودھیا تنازعہ کو بات چیت سے حل کرنے کی اپیل کو مسلم فریق کے وکیل ظفریاب جیلانی مسترد کردیا ہے۔ظفریاب جیلانی کے مطابق سپریم کورٹ خود ثالثی پینل کو رد کرچکا ہے۔دوسری جانب بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے بھی ثالثی کی کوشش سے متعلق خط کو سماعت میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے،کئی سوال کھڑے کئے ہیں۔

Loading...