سپریم کورٹ کے فیصلہ پرآل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد کا ردعمل

برسوں قدیم رام جنم بھومی - بابری مسجد اراضی تنازع میں سپریم کورٹ نے آج 9 نومبر کو اپنا تاریخی فیصلہ سنادیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے متنازعہ اراضی رام للا وراجمان کو دی ہے۔ ساتھ ہی سنی وقف بورڈ کو مسجد کیلئے ایودھیا یں کہیں بھی 5 ایکڑ زمین دینے کو کہا ہے۔ وہیں عدالت میں نرموہی اکھاڑہ کے سبھی دعوے خارج ہوگئے ہیں۔

Nov 09, 2019 07:58 PM IST | Updated on: Nov 11, 2019 11:42 AM IST
سپریم کورٹ کے فیصلہ پرآل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے صدر نوید حامد کا ردعمل

آل انڈیا مسلم مجلس مشا ورت کے صدر نوید حامد نے بابری مسجد رام مندر تنازعہ کے فیصلہ پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی، امن امان اور آئین و قانون کی بالاتری ضروری ہے۔ صدر مشاورت نے کہا کہ جس نوعیت کے فیصلہ کی توقع تھی اس شکل کو رام للا اور مسجد کے لئے ایو دھیا میں جگہ دینے کے فیصلہ کے سبب معاملہ کی نوعیت الگ سی ہو گئی ہے جس کے آنے والے دنوں میں اثرات مرتب ہوں گے اور ازسر نو ملک کے مختلف قسم کے مسائل پر سنجیدہ غور و فکر کرنے کی دعوت دے رہے ہیں ۔

صدر مشاورت نے کہا کہ فیصلہ میں کئی پہلو سے ہندو فریق کے نئے بنائے ہوئے نظریئے پر مبنی دعوے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ اسی  تناظر میں ہمارے لئے یہ سوچنا ضروری ہو گیا ہے کہ کہاں اور کیا کمی رہ گئی تھی۔ انہوں نے تمام ہندوستانیوں سے امن و امان بھائی چارے کو بنا ئے رکھنے کی اپیل کرتے ہوۓ کہا کہ اس سلسلے میں اب مزید عدالتی جارہ جوئی کا مستقبل میں کوئی فائدہ نظر نہیں آتا ہے ۔ ہندوتو وادی طاقتوں کے نزدیک اصل مسئلہ مسجد مندر کا نہیں بلکہ ہندوتو کے نام پر تہذیبی لڑائی  ہے, اس حوالہ سے ہمیں ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں سوچنا ہوگا۔

برسوں قدیم رام جنم بھومی - بابری مسجد اراضی تنازع میں سپریم کورٹ نے آج 9 نومبر کو اپنا تاریخی فیصلہ سنادیا ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں متنازع زمین کو رام للا وراجمان کو دینے کی ہدایت دی ہے۔ جبکہ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں پانچ ایکڑ زمین دینے کو کہا ہے۔

Loading...

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مسلم فریق کو متبادل پانچ ایکڑ زمین فراہم کرائی جائے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی ، جج ایس اے بوبڈے ، جج ڈی وائی چندر چوڑ ، جج اشوک بھوشن اور جج ایس عبدالنذیر کی آئینی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ سی جے آئی رنجن گوگوئی نے فیصلہ پڑھا۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے متنازعہ اراضی رام للا وراجمان کو دی ہے۔ ساتھ ہی سنی وقف بورڈ کو مسجد کیلئے ایودھیا یں کہیں بھی 5 ایکڑ زمین دینے کو کہا ہے۔ وہیں عدالت میں نرموہی اکھاڑہ کے سبھی دعوے خارج ہوگئے ہیں۔

Loading...