ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

غیرملکی تبلیغی جماعت کے اراکین کا ویزا منسوخ ہو نے کے بعد ہندوستان میں کیوں ہیں؟ سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت سے سوال

سپریم کورٹ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے سیدھا سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ تبلیغی جماعت کے اراکین کا ویزا منسوخ کرنے کے باوجود وہ سب ہندوستان میں کیوں ہیں؟ سپریم کورٹ نے یہ بھی پوچھا کیا ہر تبلیغی غیرملکی کے ویزا کو رد کئے جانے پر الگ الگ فیصلہ لیا گیا؟

  • Share this:
غیرملکی تبلیغی جماعت کے اراکین کا ویزا منسوخ ہو نے کے بعد ہندوستان میں کیوں ہیں؟ سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت سے سوال
غیرملکی تبلیغی جماعت کے اراکین کا ویزا منسوخ ہو نے کے بعد ہندوستان میں کیوں ہیں؟ سپریم کورٹ کا مرکزی حکومت سے سوال

نئی دہلی: 34 غیرملکی تبلیغی اراکین کی جانب سے ویزا ردکرنےکے معاملےکو لےکر مرکزی حکومت  دو جولائی تک جواب داخل کرے گی۔ سپریم کورٹ نے آج کی سماعت کے دوران سالیسٹر جنرل تشار مہتا سے سیدھا سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ تبلیغی ارکان کا ویزا رد کرنے کے باوجود وہ سب ہندوستان میں کیوں ہیں؟ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے یہ بھی پوچھا کیا ہر تبلیغی غیرملکی کے ویزا کو رد کئے جانے  پر الگ الگ فیصلہ لیا گیا؟ سپریم کورٹ میں داخل کی گئی عرضی پر آج جسٹس اے ایم کھنویلکر، دنیش مہیشوری اور سنجیو کھنہ پر مشتمل 3 ججوں کے بنچ کے سامنے سماعت ہوئی۔


سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کے ذریعے پوچھے گئے سوالوں پر جواب دینے کے لئے دو ہفتے کا وقت مانگا، جس پر عدالت نے دو جولائی تک جواب داخل کرنے کے لئے کہا ہے۔ عدالت نے درخواست دہندگان کے لئے پیش ہونے والے وکیلوں سے استفسار کیا کہ کیا  غیر ملکی شہریوں کے ویزا کےمقدمات کی انفرادی جانچ پڑتال کے بعد مجاز اتھارٹی نے ویزا منسوخ کیا تھا۔ سینئر ایڈوکیٹ چندر ادے سنگھ  نے عدالت کو بتایا کہ انفرادی احکامات موجود نہیں تھے، لیکن غیر ملکی شہریوں کو بلیک لسٹ میں ڈالنے کے لئے ایک خالی آرڈر پاس کیا گیا تھا اور ان کے پاسپورٹ کومنسوخ کردیا گیا، جس کی وجہ سے ایسے غیر ملکی اپنے ممالک میں واپس جانے سے قاصر ہیں۔




عدالت نے مرکزی حکومت سے جواب طلب کیا اور سالیسیٹر جنرل سے کہا ہے کہ اگر ایسے غیر ملکیوں کے ویزے منسوخ کردیئے گئے تھے، تو عدالت کے سامنے اس کی وضاحت ضروری ہے کہ ایسے غیر ملکیوں کو واپس اپنے ممالک کیوں نہیں بھیجا گیا۔ سینئر ایڈوکیٹ چندر ادے سنگھ کے علاوہ، سینئر وکیل ڈاکٹر مینا کاگروسوامی اور سینئر وکیل سلمان خورشید بھی غیر ملکی شہریوں کی طرف سے پیش ہوئے۔

اس معاملے میں ایڈوکیٹ آن ریکارڈ فضیل ایوبی نے بتایا آج معاملے کی کافی بہتر سماعت ہوئی ہے۔ مرکزی حکومت کی جانب سےدو ہفتے کا وقت مانگا گیا تھا، لیکن صرف دو جولائی تک کا وقت دیا گیا ہے۔ غور طلب ہے کہ اس کیس میں 33 ملکوں کے 3460 غیر ملکی کی شامل ہیں، جن کے مستقبل کو لےکر فیصلہ ہونا ہے جبکہ 34 غیرملکی تبلیغی اراکین کی جانب سے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی گئی ہے۔
First published: Jun 29, 2020 05:48 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading