உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Teesta Setalvad: تیستا سیتلواڑ کی درخواست ضمانت پر 1 ستمبرکو سپریم کورٹ میں ہوگی سماعت، جانیے تفصیلات

    تیستا سیتلواڑ (فائل فوٹو)

    تیستا سیتلواڑ (فائل فوٹو)

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Gujarat | Delhi | Mumbai | Kolkata [Calcutta] | Hyderabad
    • Share this:
      مشہور سماجی کارکن تیستا سیتلواڑ (Teesta Setalvad) کی ضمانت کی درخواست پر سپریم کورٹ (Supreme Court) میں سماعت جمعرات تک ملتوی کر دی گئی ہے۔ تیستا سیتلواڑ کو سال 2002 میں گجرات فسادات (Gujarat riots) سے متعلق مقدمات کے سلسلے میں مبینہ طور پر ثبوت گھڑنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ چیف جسٹس ادے امیش للت، جسٹس ایس رویندر بھٹ اور سدھانشو دھولیا پر مشتمل بنچ نے وقت کی کمی کی وجہ سے اس معاملے کی سماعت 1 ستمبر تک ملتوی کر دی۔

      بنچ نے اپنے حکم میں کہا کہ وقت کی کمی کی وجہ سے اس معاملہ کو نہیں اٹھایا جا سکا۔ اس معاملے کو جمعرات کی سہ پہر 3 بجے لسٹ کیا جائے گا۔ ضمانت کی درخواست کے جواب میں گجرات حکومت نے کہا ہے کہ تیستا سیتلواڑ نے ایک سینئر سیاسی رہنما کے کہنے پر دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر اس سازش کو رچا ہے۔ ریاستی حکومت نے ایک حلف نامہ میں دعویٰ کیا ہے کہ سیتلواڑ نے مذکورہ سیاسی رہنما کے ساتھ میٹنگ کی تھی اور بڑی رقم حاصل کی تھی۔ اس بارے میں تیستا سیتلواڑ نے مکمل طور پر انکار کیا ہے۔

      سیتلواڑ کی عرضی کا جواب تیار:

      یہ حلف نامہ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم (SIT) کے سربراہ نے داخل کیا تھا۔ یہ ٹیم اس معاملے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی تھی۔ ٹیم نے کہا کہ ایف آئی آر صرف سپریم کورٹ کے 24 جون 2022 کے فیصلے پر مبنی نہیں ہے۔ اس سے پہلے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے بنچ کو بتایا تھا کہ سیتلواڑ کی عرضی کا جواب تیار ہے اور کچھ اصلاحات کے بعد داخل کیا جائے گا۔

      اس کے بعد 22 اگست کو سپریم کورٹ نے سیتلواڑ کی ضمانت کی درخواست پر حکومت گجرات سے جواب طلب کیا، جنھیں اس کیس میں جون میں گرفتار کیا گیا تھا۔ گجرات ہائی کورٹ (Gujarat High Court) نے 3 اگست کو سیتلواڑ کی ضمانت کی عرضی پر ریاستی حکومت کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کی سماعت 19 ستمبر کو مقرر کی تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:

      غلطی سے ڈلیٹ کر دیا ہے WhatsApp میسیج تو اس نئے فیچر سے جلد لا سکیں گے واپس

      اس واقعے میں 59 مسافر جھلس کر ہلاک ہو گئے۔ احمد آباد کی ایک سیشن عدالت نے 30 جولائی کو اس کیس میں سیتلواڑ اور پولیس کے سابق ڈائریکٹر جنرل آر بی سری کمار کی ضمانت کی درخواستوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر انہیں رہا کر دیا جاتا ہے تو اس سے ظالموں کو یہ پیغام جائے گا کہ کوئی شخص الزامات کے باوجود معاف ہوسکتا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      انسانوں سے پالتو جانوروں میں پھیل رہا ہے Monkeypox! ان احتیاطی تدابیر پر کریں عمل

      ضمانت کی درخواست خارج:

      واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 24 جون کو کانگریس کے سابق ایم پی احسان جعفری کی اہلیہ ذکیہ جعفری کی درخواست کو خارج کر دیا تھا۔ جو احمد آباد میں فسادات کے دوران مارے گئے تھے۔ یہ فسادات 27 فروری 2002 کو گودھرا اسٹیشن کے قریب ایک ہجوم کے ذریعہ سابرمتی ایکسپریس کی ایک کوچ کو نذر آتش کرنے سے شروع ہوے تھے۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: