உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Pegasus Issue in Supreme Court:پیگاسس جاسوسی معاملہ پرسپریم کورٹ میں آج سماعت

    سپریم کورٹ کی فائل فوٹو۔(Shutterstock)۔

    سپریم کورٹ کی فائل فوٹو۔(Shutterstock)۔

    حکومت نے کہا تھا کہ یہ اس مسئلہ کے قومی سلامتی پر اثرات ہوں گے لہٰذا وہ حلف نامہ میں تفصیلات پیش کرنا نہیں چاہتی۔ وہ آزاد ماہرین کی کمیٹی کو تمام تفصیلات بتائے گی جو عدالت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

    • Siasat
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی : سپریم کورٹ پیر کو اسرائیلی اسپائی ویئر پیگاسس کے ذریعہ بہت سے افراد کی مبینہ جاسوسی کی آزادانہ تحقیقات کی درخواستوں پر سماعت کرے گا۔ 7 ستمبر کو چیف جسٹس این وی رمن کی سربراہی میں تین ججوں کی بنچ نے سالیسٹر جنرل تشار مہتا کے کہنے کے بعد مرکز کو اپنا جواب داخل کرنے کیلئے مزید وقت دیا تھا، کچھ مشکلات کی وجہ سے وہ دوسرا حلف نامہ داخل کرنے میں مشکلات پیش آرہی تھی ۔فیصلہ کرنے کیلئے متعلقہ حکام سے نہیں مل سکے۔

      مرکز نے اعلیٰ عدالت میں ایک مختصر حلف نامہ داخل کیا تھا اور کہا تھا کہ پیگاسس جاسوسی کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات کی درخواستیں قیاس آرائی یا دیگر غیر تصدیق شدہ میڈیا رپورٹس یا نامکمل یا غیر تصدیق شدہ مواد پر مبنی ہیں۔ 17 اگست کو درخواستوں پر مرکز کو نوٹس جاری کرتے ہوئے عدالت عظمیٰ نے واضح کیا تھا کہ وہ (عدالت) نہیں چاہتی تھی کہ حکومت ایسی کوئی چیز ظاہر کرے جو قومی سلامتی سے سمجھوتہ کرے۔سپریم کورٹ کی بنچ نے کہا تھا کہ وہ مباحث کے بعد مستقبل کے لائحہ عمل کا فیصلہ کرے گی۔

      حکومت نے کہا تھا کہ یہ اس مسئلہ کے قومی سلامتی پر اثرات ہوں گے لہٰذا وہ حلف نامہ میں تفصیلات پیش کرنا نہیں چاہتی۔ وہ آزاد ماہرین کی کمیٹی کو تمام تفصیلات بتائے گی جو عدالت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔

      مرکز نے گذشتہ ماہ مختصر حلف نامہ داخل کرتے ہوئے درخواست گذار کی جانب سے عائد کردہ تمام الزامات کو غلط بتایا تھا۔ حکومت نے حلفنامہ میں یہ بھی کہا تھا کہ پیگاس جاسوسی سے متعلق الزامات پر آئی ٹی وزیر نے پارلیمنٹ میں وضاحت کردی تھی۔
      Published by:Mirzaghani Baig
      First published: