ایودھیا میں بابری مسجد کے لئے زمین کی تلاش سے متعلق کارروائی شروع

ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق مسجد کے لئے اجودھیا کے چودھ کوسی پریکرما کے باہر زمین کی تلاش کی جا رہی ہے۔

Nov 12, 2019 05:52 PM IST | Updated on: Nov 12, 2019 05:52 PM IST
ایودھیا میں بابری مسجد کے لئے زمین کی تلاش سے متعلق کارروائی شروع

فائل فوٹو

ایودھیا۔ ایودھیا قضیہ میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے پیش نظر یہاں  دیگر کسی مقام پرمسجد کی تعمیر کے لئے زمین کی تلاش کی کاروائی شروع کردی گئی ہے۔ ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق مسجد کے لئے اجودھیا کے چودھ کوسی پریکرما کے باہر زمین کی تلاش کی جا رہی ہے۔ صدر تحصیل کے تحت شہنوا گرام سبھا کے علاوہ سہاول، باقی پور، صدر تحصیل علاقےمیں زمین محکمہ روینیو نے زمین کی تلاش شروع کردی ہے۔

شہنوا گرام سبھا میں بابر کے سپہ سالار میر باقی کے مقبرہ ہونے کا دعوی کیا جاتا ہے۔ اس گاؤں کے باشندے رجب علی اور ان کے بیٹے محمد اصغر کو بابری مسجد کا متولی بتایا جاتا ہے۔ اسی کنبے کو برطانوی حکومت کی جانب سے تین سو دوروپئے چھ پائی کی رقم مسجد کے رکھ رکھاؤ کے لئے دی جاتی تھی۔ سنی سنٹرل وقف بورڈ نے بھی اپنے دعوے میں اس کا تذکرہ کیا ہے۔

Loading...

موصول اطلاع کے مطابق اس کے کسی دوسرے متولی کا کہیں کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ فی الحال سابق متولی کے وارثین آ ج بھی اسی گاؤں میں رہ رہے ہیں۔ ان وارثین کی جانب سے بھی مسجد کی تعمیر کے لئے اپنی زمین دئے جانے کا اعلان کیا گیا تھا۔ سال 1990۔91 میں اس وقت کے وزیر اعظم وشوناتھ پرتاپ سنگھ کے میعاد کار میں ہندو۔مسلم فریق کی بات چیت کے دوران مسجد کے لئے وشو ہندر پریشد کی جانب سے ہی شہنوا میں زمین دئے جانے کی تجویز دی گئی تھی۔

مسلم فریق نے متنازع زمین کے علاقے کسی دوسرے جگہ پر مسجد کے نام سے زمین لینے سے انکار کردیا تھا۔ ادھر ہندو پریشد اور دیگر سنت بابری مسجد کے نام پر ملک میں کہیں بھی مسجد نہ بنانے دینے کا اعلان کیا تھا۔ وشوہندو پریشد آج بھی اپنے اس موقف  پر قائم ہے۔

رام للا کے ساکھا ترلوکی ناتھ پانڈے کہتے ہیں’’ ہم عبادت کے کسی بھی طریقے کے مخالف نہیں ہیں لیکن بابر کے نام کی مسجد ایودھیا میں کہیں یا ملک کے کسی حصے میں بھی قابل قبول نہیں ہوگی۔ سپریم کورٹ کا حکم سبھی کے لئے قابل قبول ہے۔

Loading...